دمشق (یو این آئی) شامی صدر احمد الشرح نے کہا ہے کہ آئندہ کچھ دنوں میں اسرائیل کے ساتھ سیکیورٹی معاہدہ ہوسکتا ہے۔شامی صدر احمد الشرح کا کہنا آئندہ کچھ دنوں میں اسرائیل کیساتھ معاہدہ ہوسکتا ہے، اسرائیل کے ساتھ سیکورٹی مذاکرات ضروری ہے اور جلد اس کے نتائج سامنے آسکتے ہیں۔شامی صدر کے تبصرے نیویارک کے دورے سے چند دن پہلے سامنے آئے ہیں، جہاں وہ اقتدار سنبھالنے کے بعد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے پہلی بار خطاب کریں گے۔شامی صدر نے کہا مذاکرات جاری ہیں لیکن دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات معمول پر لانے پر کوئی بات نہیں ہورہی، مذاکرات میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اسرائیلی افواج ان علاقوں سے نکل جائیں جو سابق حکومت کے خاتمے کے بعد اسرائیل نے قبضے میں لے لیے تھے۔بدھ کی شام صحافیوں کے ساتھ ایک بریفنگ میں شامی صدر نے کہا کہ معاہدہ طے کرنا شام کے لیے ایک ضرورت” ہے، لیکن انہوں نے واضح کیا کہ اسے امن معاہدہ نہیں سمجھا جائے گا، دونوں ممالک 1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد سے حالت جنگ میں ہیں، اور شام نے کبھی اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا۔مذاکرات میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج ان علاقوں سے نکل جائے جو سابق حکومت کے خاتمے کے بعد اسرائیل نے قبضے میں لیے، بات چیت میں گولان کی حیثیت شامل نہیں جو اسرائیل نے انیس سو سڑسٹھ کی جنگ میں قبضہ کرلیا تھا۔ذرائع کا کہنا ہے دمشق کی تجویز میں اسرائیلی فوج کے ان علاقوں سے انخلا کی بات شامل ہے جو اس نے حالیہ مہینوں میں قبضے میں لیے ہیں، ساتھ ہی انیس سو چوہتر کے جنگ بندی معاہدے کے تحت بنائی گئی غیر فوجی بفر زون کی بحالی اور اسرائیلی فضائی حملوں و زمینی کارروائیوں کے خاتمے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ دسمبر سے اب تک اسرائیل نے شام بھر میں 1,000 سے زائد فضائی حملے کیے اور 400 سے زیادہ زمینی دراندازیاں کیں، اطلاعات کے مطابق اسرائیل جنوبی شام کو مکمل طور پر غیر فوجی بنانے اور نو فلائی زون قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن شامی صدر احمد الشرح نے اصرار کیا کہ کسی بھی معاہدے میں شام کے فضائی حدود اور علاقائی سالمیت کا احترام ہونا چاہیے۔












