غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں آج جمعے کے روز بھی جاری ہیں۔ فوج نے اعلان کیا ہے کہ شارع صلاح الدین پر ایک عارضی راستہ نقل مکانی کے لیے کھولا گیا ہے جو دوپہر تک فعال رہے گا۔ اس سے قبل اسرائیلی ٹینکوں نے شمال مغربی غزہ کے مختلف محاذوں، بالخصوص شیخ رضوان اور ابراج المخابرات کے علاقے میں پیش قدمی کی۔ عینی شاہدین کے مطابق غزہ شہر میں کئی رہائشی علاقے فضائی حملوں کا نشانہ بنے۔غزہ کی وزارتِ صحت نے حالات کو تباہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ جنوبی علاقوں کی طرف بڑے پیمانے پر نقل مکانی نے اسپتالوں پر شدید دباؤ بڑھا دیا ہے اور شہر میں طبی مراکز کی گنجائش 250 فی صد سے تجاوز کر چکی ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق اسرائیلی بم باری میں گھروں اور خیموں کو نشانہ بنایا گیا جبکہ مسلسل بم باری کے باعث ہزاروں افراد مزید جنوب کی طرف جا رہے ہیں۔ کئی خاندان شارع رشید پر پھنسے ہوئے ہیں جہاں ٹرانسپورٹ کی کمی کے باعث درجنوں افراد کھلے آسمان تلے رات گزارنے پر مجبور ہوئے۔اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاتز نے دعویٰ کیا ہے کہ فوج "فیصلہ کن مرحلے” میں داخل ہو چکی ہے اور حماس کی زمین سے اوپر اور زیرِ زمین تنصیبات تباہ کرنے کی نئی حکمت عملی پر عمل کر رہی ہے۔ ان کے مطابق بلند و بالا ٹاوروں کا انہدام حماس کے لیے سب سے تکلیف دہ ہے۔ وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے حماس کو خبردار کیا کہ اگر اس نے اسرائیلی قیدیوں کو ڈھال بنایا تو انجام سنگین ہو گا۔












