میرٹھ،سماج نیوز سروس: آج کے زمانے میں مو ضو عات کا قحط ہے، بحران ہے، پھر بھی شعبۂ اردو نے اکیسویں صدی کا اردو ادب اور خوا تین موضوع کا انتخاب کر کے اچھے موضوع کا انتخاب کیا ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ تخلیقات تو خوا تین لکھ رہی تھیں لیکن مصنف کی جگہ والد یا بھائی وغیرہ کا نام لکھا جاتا تھا۔ یہ ایک طرح سے منا فقانہ رویہ ہے لیکن آ ج کا دور بہت اچھا ہے۔ آج خوا تین پر زیادہ پابندیاں نہیں ہے ۔ وہ آ زادی سے اور کھل کر کسی بھی مو ضو عات پر لکھ سکتی ہیں۔ نظمیہ شاعری میں ایک بڑی تعداد خواتین کی ہے۔ خوا تین کے فکشن میں تنوع نظر آ تا ہے۔ اب کھڑکیاں کھل رہی ہے، دروازے کھل رہے ہیں، خوا تین بھی نئے سے نئے مو ضو عات کا انتخاب کر رہی ہیں۔یہ الفاظ تھے معروف محقق و ناقد حقانی القاسمی کے جو شعبۂ اردو، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی،میرٹھ میںمنعقد خصوصی لیکچر بعنوان’’ اکیسویں صدی میں اردو ادب اور خواتین‘‘ مو ضوع پر مہمان خصوصی کی حیثیت سے اپنی تقریر کے دوران ادا کررہے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج کے عہد میں عورتوں کے جذبات، نفسیات اور احساسات کو سمجھا جارہا ہے۔یہ بڑی خوش آئند بات ہے۔ خواتین تخلیق کاروں کو تخلیقی خود مختاری ہونی چاہئے۔ مرد اور عورت میں کسی طرح کی تفریق نہیں ہونی چاہئے۔ دونوں ہی ایک دوسرے کی ضرورت ہیں۔ اس سے قبل محمد اکرام اللہ نے تلا وت کلام پاک سے پرو گرام کا آ غاز کیا۔ مہمانوں کا پھولوں کے ذریعے استقبال کیا گیا۔اس موقع پر فرحت اختر نے غزل پیش کر کے سماں باندھ دیا۔ پروگرام کی صدارت کے فرائض معروف ادیب و ناقد اور صدر شعبۂ اردو پروفیسر اسلم جمشید پوری نے انجام دیے۔ مہمان خصوصی کی حیثیت سے دور حاضر کے معروف محقق و ناقد حقانی القاسمی نے شر کت کی۔ مہمان اعزا زی کے بطور ڈاکٹر زیبا ناز پروگرام میں شریک رہیں۔ استقبا لیہ کلمات ڈاکٹر ارشاد سیانوی۔ مہمانوں کا تعارف ڈا کٹر شاداب علیم ، نظا مت ڈا کٹر آ صف علی اور شکریے کی رسم سیدہ مریم الٰہی نے ادا کی۔ اس موقع پر ڈاکٹر شاداب علیم نے حقانی القاسمی کے فکرو فن پر ایک تفصیلی مقالہ پیش کیا۔ اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ڈا کٹر زیبا ناز نے کہا کہ خوا تین کے ذریعے بہترین تربیت بھی کسی کی نجات کا سبب بن سکتی ہے۔ اکیسویں صدی میں خوا تین مرد حضرات کے شانہ بہ شانہ چل رہی ہیں۔ مجھے بھی ادبی ذوق اپنی والدہ، نانی کے طفیل حاصل ہوا۔ کیونکہ ان لوگوں نے جگر مراد آ بادی اور اصغر گونڈوی وغیرہ سے فیض یافتہ تھیں۔ ان کے دور میں بہت سے کام ہوتے تھے باوجود اس کے انہوں نے اپنے بچوں کی بہت عمدہ تربیت کی۔ آ ج کے دور میں چیلنجز بہت ہیں، مصروفیت بہت ہے، گھر کے کام بھی بہت ہوتے ہیں ایسے میں ہمیں بہت احتیاط کی ضرورت ہے ورنہ گمرا ہی کے امکان بھی آج کے دور میں بہت زیادہ ہیں۔ اب ہمیں طے کرنا ہے کہ خوب سوچ سمجھ کر ترقی کی جانب مو ڑنا ہے۔ ایک پڑھی لکھی خوا تین ہی اپنے بچوں کی بہترین پرورش کرسکتی ہے۔ اپنی صدارتی تقریر میں پروفیسر اسلم جمشید پوری نے کہا کہ موجودہ عہد میں اردو ادب میں یوں تو ہر شعبے میں خواتین کا بول بالا ہے لیکن شاعری اور افسا نہ نگاری میں آج کی خواتین نے کا فی نام کمایا ہے۔












