نئی دہلی، (یو این آئی) وزیر اعظم نریندر مودی نے سول سروسز ڈے کے موقع پر سرکاری ملازمین کو مبارکباد دی اور ان پر زور دیا کہ وہ گڈ گورننس اور قوم کی تعمیر کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کریں۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر، مسٹر مودی نے لکھا، "سول سروسز ڈے کے موقع پر تمام سرکاری ملازمین کے لیے میری نیک خواہشات۔ یہ اچھی حکمرانی اور قوم سازی کے لیے کام کرنے کے ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرنے کا موقع ہے۔ زمینی سطح سے لے کر پالیسی سازی تک، سرکاری ملازمین کی کوششیں بے شمار لوگوں کی زندگیوں کو چھوتی ہیں اور ہندوستان کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالتی ہیں۔ دعا ہے کہ ہمارے سرکاری ملازمین فرض کے اعلیٰ معیار کو برقرار رکھتے ہوئے عمدگی، ہمدردی اور جدت کے ساتھ قوم کی خدمت کرتے رہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ قوم کی خدمت وکست بھارت کی بنیاد ہے۔ سول سروسز ڈے کے شاندار موقع پر آئیے، آخری صف میں کھڑے شخص کو ترقی کے مرکزی دھارے سے جوڑ کر ایک مضبوط، خوشحال اور حساس ہندوستان کی تعمیر کے اپنے عزم کا اعادہ کریں۔قابل ذکر ہے کہ سول سروسز ڈے ہر سال 21 اپریل کو منایا جاتا ہے۔ اس دن ہندوستان کے انتظامی افسران کے تعاون کو سراہا جاتا ہے اور شہریوں کی خدمت کے لیے ان کی لگن کا اعادہ کیاجاتا ہے۔ یہ دن 1947 میں سردار ولبھ بھائی پٹیل کی تاریخی تقریر کی بھی یاد دلاتا ہے۔ 21 اپریل 1947 کو دہلی کے میٹکاف ہاؤس میں انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس کے تربیت یافتہ افراد کے پہلے بیچ سے خطاب کرتے ہوئے، سردار پٹیل نے انہیں قوم کا "اسٹیل فریم” قرار دیا تھا اور قوم کی یکجہتی اور اتحاد کو برقرار رکھنے میں ان کے اہم کردار پر زور دیا تھا۔اس موقع کو عام طور پر متعدد پروگرام اور ایوارڈ کی تقریبات منعقد کی جاتی ہیں، جن میں مختلف شعبوں میں عہدیداروں کے شاندار کام کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ یہ انعقاد حکومت کے نقطہ نظر کی عکاسی کرتے ہیں، جس میں کارکردگی، شفافیت، اور شہریوں پر مرکوز گورننس پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔دریں اثنا وزیر اعظم نریندر مودی نے کیرالہ میں پٹاخہ فیکٹری میں ہوئے حادثے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے اور دھماکے میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین سے تعزیت کی ہے۔ وزیر اعظم نے سوشل میڈیا پر اپنے تعزیتی پیغام میں کہا، کیرالہ کے تھریسور میں پٹاخہ فیکٹری میں پیش آنے والے حادثے میں جانی و مالی نقصان کے بارے میں سن کر بہت دکھ ہوا۔ جن لوگوں نے اپنے پیاروں کو کھویا ہے، ان کے ساتھ میری گہری ہمدردی ہے۔”قابلِ ذکر ہے کہ کیرالہ میں تھریسور کے قریب منڈاتھیکوڈ میں پٹاخہ گودام میں منگل کی شام ہونے والے دھماکے میں 12 افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ کم از کم 40 افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔دوسری اور وزیر اعظم نریندر مودی کے قوم کےنام خطاب پر سیاسی تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔ کانگریس کے سینئر لیڈر نے الزام لگایا ہے کہ وزیر اعظم کا یہ خطاب اپنے اصل مقصد سے بھٹک کر مکمل طور پر سیاسی اور جانبدارانہ ہو گیا ہے۔کانگریس کے شعبہ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے منگل کے روز بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ان کے سینئر ساتھی اور لوک سبھا رکن پارلیمنٹ کے سی وینوگوپال نے لوک سبھا میں وزیر اعظم کے خلاف تحریکِ استحقاق (بریچ آف پریویلیج) کا نوٹس دیا ہے۔ یہ قدم اس خطاب کے بعد اٹھایا گیا ہے جو لوک سبھا میں حکومت کی حکمت عملی کو اپوزیشن کے اتحاد سے دھچکا لگنے کے بعد دیا گیا تھا۔انہوں نے الزام لگایا کہ ایک موجودہ وزیر اعظم کا قوم کے نام خطاب ہمیشہ قومی اتحاد اور اعتماد سازی کے لیے ہوتا ہے، لیکن اس بار یہ مکمل طور پر سیاسی حملوں کا پلیٹ فارم بن گیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں کانگریس پارٹی پر 59 بار حملہ کیا، جو اس عہدے کے وقار کے خلاف ہے۔کانگریس کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کا یہ رویہ ان کی مدتِ کار پر ایک مستقل داغ” کے طور پر درج ہوگا اور اس سے جمہوری روایات کو نقصان پہنچا ہے۔قابلِ ذکر ہے کہ 18 اپریل کو مسٹر مودی نے قوم سے خطاب کیا تھا، جس میں انہوں نے لوک سبھا میں خواتین کے ریزرویشن سے متعلق 131 ویں آئینی ترمیمی بل کے منظور نہ ہوپانے پر کانگریس اور اپوزیشن پر سخت حملہ کیا تھا۔ وزیر اعظم کے قوم کے نام خطاب کے بعد سے مسلسل تنازع برقرار ہے۔












