کسی زمانے یا کسی جگہ کو عبادت کے طور پر حرام قرار دینا صرف اسی وقت درست ہوتا ہے جب اس کے لیے نازل شدہ شریعت موجود ہو؛ کیونکہ تحليل اور تحریم اللہ تعالیٰ کا حق ہے، اور عبادت صرف اسی کے لیے مخصوص ہے۔ ورنہ بڑے بڑے انسان بھی کسی زمانے یا جگہ کو حرام قرار دے سکتے ہیں، مگر عبادت کے لیے نہیں بلکہ اپنے یا عام لوگوں کے دنیاوی مفادات کے لیے، جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خبردار! ہر بادشاہ کی ایک چراگاہ (محفوظ حدود) ہوتی ہے، اور خبردار! اللہ کی چراگاہ اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں۔
اور جو کچھ بھی زمانہ، جگہ، افعال یا اقوال اللہ تعالیٰ نے حرام کیے ہیں، تو وہ دراصل انسانوں کی بھلائی کے لیے ہیں، اور ان کی حرمت کو توڑنا اللہ تعالیٰ کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتا، بلکہ اس کا نقصان خود انسانوں کو دنیا اور آخرت دونوں میں ہوتا ہے۔ اور یہ تحریم اللہ کی طرف سے انسانوں کے لیے آزمائش ہے تاکہ ظاہر ہو جائے کہ کون اس سے ڈرتا ہے، اور اس کی حرمتوں کی تعظیم کرتا ہے، اور کون نہیں ڈرتا ،اور انہیں پامال کرتا ہے۔ ارشاد ربانی ہے:’’یہی بات ہے، اور جو اللہ کی حرمتوں کی تعظیم کرے، تو یہ اس کے رب کے نزدیک اس کے لیے بہتر ہے‘‘ [سورہ الحج: 30]
اور تمام ادیان اور تمام قوموں میں عبادت کے طور پر کچھ زمانوں اور جگہوں کو حرام قرار دیا گیا ہے، جن میں وہ کام نہیں کیے جاتے جو دوسرے اوقات میں کیے جاتے ہیں۔ یا تو یہ تحریم اصل میں درست شریعت تھی مگر بعد میں منسوخ ہو گئی، جیسے یہود پر ہفتے کے دن (سبت) کی حرمت، جیسا کہ قرآن میں ہے: ’’اور ہم نے ان سے کہا کہ ہفتے کے دن میں زیادتی نہ کرو، اور ہم نے ان سے پکا عہد لیا‘‘ [سورہ النساء: 154]، اور پھر یہ حرمت شریعتِ محمدی میں اٹھا لی گئی۔ يا پھر یہ تحریم خود ساختہ ہوتی ہے، جیسے بت پرستوں کا اپنے معبودوں کی جگہوں اور ان کی عبادت کے اوقات کو حرام قرار دینا، اور یہ بہت سی قوموں میں پایا گیا۔
اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر جن چیزوں کو حرام قرار دیا ہے، ان میں چار مہینے بھی ہیں جنہیں حرمت والے مہینے کہا جاتا ہے: ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم اور رجب۔ ان کی حرمت کا ذکر اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں ہے: "بے شک مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک بارہ ہے… ان میں سے چار حرمت والے ہیں، یہی سیدھا دین ہے، پس ان میں اپنے اوپر ظلم نہ کرو” [سورہ التوبہ: 36]
اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے آسمان و زمین کی تخلیق کے دن سے مہینوں کو بارہ مقرر کیا، اور یہ انسانوں کے لیے ایک طے شدہ نظام ہے، جس میں انہیں اجتہاد کی گنجائش نہیں دی گئی، ورنہ وہ اختلاف میں پڑ جاتے، اور مہینوں اور سالوں کا حساب بگاڑ دیتے، اور عبادات کے اوقات سے بھٹک جاتے۔ چنانچہ اللہ کی رحمت ہے کہ اس نے اسے منظم کیا، اور اس کے لیے ایسی نشانی مقرر کی جسے کوئی انسان نہ آگے کر سکتا ہے نہ پیچھے، نہ روک سکتا ہے نہ ختم کر سکتا ہے، اور وہ سورج اور چاند ہیں، ارشاد ربانی ہے:”اور اس نے رات کو سکون بنایا اور سورج اور چاند کو حساب کا ذریعہ بنایا”[سورہ الأنعام:96]
ارشاد ربانی ہے:”وہی ہے جس نے سورج کو روشنی اور چاند کو نور بنایا، اور اس کے مراحل مقرر کیے، تاکہ تم سالوں کی گنتی اور حساب جان سکو” [سورہ يونس: 5]
پس دن اور ہفتہ سورج کی حرکت سے معلوم ہوتے ہیں، اور مہینہ اور سال چاند کی حرکت سے، اور اسی سے زمانے کا حساب منظم ہوتا ہے، ارشاد ربانی ہے:: "سورج اور چاند حساب کے ساتھ ہیں” [سورہ الرحمن: 5]
اللہ تعالیٰ نے عبادات کے اوقات کو سورج اور چاند کی حرکت سے وابستہ کیا، نہ کہ محض حساب سے، تاکہ ہر شخص (چاہے وہ ان پڑھ ہو یا ماہرِ حساب)اسے جان سکے، اور حساب کی غلطی سے لوگ عبادات کے اوقات میں گمراہ نہ ہوں۔ چنانچہ نماز کے اوقات سورج سے، اور روزہ و حج کے اوقات چاند سے معلوم ہوتے ہیں، ارشاد ربانی ہے: "وہ آپ سے چاند کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دیجیے یہ لوگوں اور حج کے لیے اوقات ہیں” [سورہ البقرہ: 189]
اور سالانہ عبادات (روزہ، حج، عیدوں) کو قمری مہینوں سے جوڑنے کی حکمت یہ ہے کہ وہ تمام موسموں میں گھومتی رہیں، تاکہ عبادت سال کے ہر حصے میں ادا ہو۔ پس جو شخص تیس سال رمضان کے روزے رکھے، وہ سال کے ہر موسم میں روزہ رکھ چکا ہوگا(کبھی آسانی میں، کبھی سختی میں)اور یہی حال حج کا بھی ہے۔
اور یہ چار حرمت والے مہینے، جن کا ذکر اللہ نے کیا: "ان میں سے چار حرمت والے ہیں”ان میں گناہ کرنا حرام ہے، اور لڑائی بھی حرام ہے تاکہ حج و عمرہ کے لیے آنے والے امن میں رہیں۔ عرب ان مہینوں کی حرمت کو جانتے تھے، مگر انہوں نے “نسیء” (مہینوں کو آگے پیچھے کرنا) کے ذریعے اس میں تبدیلی کی، تاکہ حرام کو حلال کر سکیں، ارشاد ربانی ہے:”یہ نسیء کفر میں اضافہ ہے…” [سورہ التوبہ: 37]
امام قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عرب محرم میں لڑائی کو حرام سمجھتے تھے، لیکن جب ضرورت پڑتی تو صفر کو اس کی جگہ حرام قرار دے کر محرم میں لڑتے تھے۔
محرم کا نام ہی اس کی حرمت کی تاکید کے لیے رکھا گیا، کیونکہ عرب اس میں رد و بدل کرتے رہتے تھے۔
چار حرمت والے مہینوں کا یہ نظام ہی سیدھا دین ہے، اور اس میں تبدیلی کرنا دین سے انحراف ہے۔ اور ان مہینوں میں ظلم کرنا اللہ کی حرمت کو ہلکا سمجھنا ہے، چاہے وہ اپنے نفس پر گناہ کے ذریعے ہو یا دوسروں پر قول و فعل کے ذریعے۔”پس ان میں اپنے اوپر ظلم نہ کرو”اور جو اللہ کے قانون میں تبدیلی کرے، یا حیلہ کر کے حرام کو حلال بنائے، وہ مشرکین کے طریقے سے مشابہت اختیار کرتا ہے۔ اور یہ سب شیطان اور نفسِ امارہ کی طرف سے ہوتا ہے، جو انسان کو برائی کو خوبصورت بنا کر دکھاتے ہیں۔
ارشاد ربانی ہے:”ان کے لیے ان کے برے اعمال مزین کر دیے گئے…” [سورہ التوبہ: 37]
لہٰذا اللہ کی حدود کو توڑنے، اور اس کی حرمتوں کی بے حرمتی سے بچو، خاص طور پر حرمت والے مہینوں میں۔ کیونکہ اللہ کی حرمتوں کی تعظیم کرنا دراصل اللہ کی تعظیم ہے۔
ارشاد ربانی ہے:”اللہ نے کعبہ، بیت الحرام، اور حرمت والے مہینوں کو لوگوں کے قیام کا ذریعہ بنایا… جان لو کہ اللہ سخت عذاب دینے والا بھی ہے اور بخشنے والا، رحم کرنے والا بھی” [سورہ المائدہ: 97-98]
ذی القعدہ کے مہینے کی فضیلتوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس میں عمرہ کرنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی ، اور مشرکین کے طریقے کی مخالفت میں مشروع ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کیے، اور سب ذوالقعدہ میں کیے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کیے، اور سب ذوالقعدہ میں تھے…‘‘ (بخاری و مسلم)
اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی ذوالقعدہ کے علاوہ عمرہ نہیں کیا۔‘‘
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اہل علم کا اس پر اتفاق ہے کہ آپ کے تمام عمرے ذی القعدہ میں ہوئے۔
يہ مشرکین کے رد کے طور پربھی تھا، کیونکہ وہ حج کے مہینوں میں عمرہ کو حرام سمجھتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہی مہینوں میں عمرہ کر کے ان کی مخالفت کی۔
اس سے معلوم ہوا کہ مشرکین کی مخالفت ،اور مسلمانوں کا ان سے امتیاز اسلام کے عظیم اصولوں میں سے ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:”اور اس سے بہتر بات کس کی ہو سکتی ہے جو اللہ کی طرف بلائے ،اور نیک عمل کرے، اور کہے کہ میں مسلمان ہوں” [سورہ فصلت: 33]
پس جو لو گ اسلام پر فخر کرتےہيں، اور مشرکین کے طریقوں سے بچتےہيں، نيزاپنے دین کو ان کے ادیان اور شعائر سے کافی سمجھتے ہيں۔ ایسے لوگ دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب ہیں ارشاد ربانی ہے:”جو کوئی نیک عمل کرے، مرد ہو یا عورت، اور وہ مومن ہو، تو ہم اسے پاکیزہ زندگی عطا کریں گے…”[سورہ النحل: 97]












