لکھنؤ،سماج نیوز سروس : اترپردیش سنی سنٹرل وقف بورڈ کی جانب سے مرکزی حکومت کے ’امیدپورٹل (Umeed Portal) ‘پر دستاویزات کی خامیوں اور تکنیکی غلطیوں کی بنیاد پر 12؍ہزار سے زائد وقف جائیدادوں کا رجسٹریشن مسترد کیے جانے کی خبروں پر جمعیۃ علماء اترپردیش نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ جمعیۃ علماء اترپردیش کے صدر محترم مفتی سید محمد عفان منصورپوری دامت برکاتہم اور ناظم اعلیٰ مولانا امین الحق عبداللہ قاسمی نے اس صورتحال کو ملت اسلامیہ کے عظیم اثاثوں کے تحفظ کے تئیں ایک لمحہ فکریہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے تمام متولیان اوقاف، اراکینِ انتظامیہ اور دردمندانِ ملت سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ 5جون 2026ء کی دی گئی مہلت کا فوری اور بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے مسترد شدہ اوقاف کا درست اندراج یقینی بنائیں۔ میڈیا رپورٹس اور محکمے کی آڈٹ کے مطابق، وقف (ترمیمی) ایکٹ 2025ء کے تحت امید پورٹل پر اوقاف کی ڈیجیٹلائزیشن کے لازمی عمل کے دوران لکھنؤ (1114)، بجنور (1003) اور سہارنپور (990) سمیت ریاستی سطح پر 12 ہزار سے زائد اوقاف کی درخواستیں نامکمل معلومات اور ڈیٹا انٹری کی غلطیوں کے باعث خارج کر دی گئی ہیں۔ ان متاثرہ جائیدادوں میں بڑی تعداد میں مساجد، مدارس، قبرستان، عیدگاہیں، اور درگاہیں شامل ہیں۔ اس سنگین صورتحال پر جمعیۃ علماء اترپردیش کے صدر مفتی سید محمد عفان منصورپوری نے کہا کہ اوقاف ہمارے اسلاف کی امانت اور خالصتاً شرعی نوعیت کی چیز ہیں، ان کا تحفظ ہماری دینی، ملی اور دستوری ذمہ داری ہے۔ ایک طرف جمعیۃ علماء ہند مرکز سے لے کر ریاستی سطح تک نئے وقف ایکٹ کی دستوری خامیوں کے خلاف عدالت عظمیٰ میں قانونی لڑائی لڑ رہی ہے، تو وہیں دوسری طرف یہ بھی ناگزیر ہے کہ موجودہ حالات میں ہم تکنیکی اور انتظامی محاذ پر کوئی غفلت نہ برتیں۔ اربابِ انتظام اور متولیانِ کرام کی معمولی سی غفلت ہماری مساجد، مقابر اور مدارس کو بڑے قانونی خطرات سے دوچار کر سکتی ہے۔ لہٰذا، جون کے پہلے ہفتے تک ہر حال میں درست کاغذات اور مکمل کوائف کے ساتھ امید پورٹل پر ریکارڈ دوبارہ اپ لوڈ کر دیا جائے۔ ناظم اعلیٰ مولانا امین الحق عبداللہ قاسمی نے واضح کیا کہ جمعیۃ علماء اترپردیش اوقاف کے تحفظ کے لیے پوری طرح مستعد ہے اور اس سلسلے میں مسلسل سرگرمِ عمل ہے۔ اسی تناظر میں، آئندہ 7 مئی 2026ء بروز جمعرات کو لکھنؤ میں منعقد ہونے والے صوبائی مجلس عاملہ کے اہم اجلاس کے ایجنڈے میں ’’تحفظ مساجد و مدارس اور اوقاف سے متعلق پیش رفت پر غور‘‘کو خصوصی طور پر شامل کیا گیا ہے۔ اس اجلاس میں امید پورٹل کے مسائل، متولیان کو درپیش تکنیکی مشکلات کے ازالے، اور اوقاف کے تحفظ کے لیے ایک ٹھوس اور جامع لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ جمعیۃ علماء اترپردیش نے اپنی تمام ضلعی اور مقامی اکائیوں کو بھی ہدایت جاری کی ہے کہ وہ فوری طور پر بیداری مہم چلائیں اور اپنے علاقوں کے اوقاف کو امید پورٹل پر درست طریقے سے رجسٹر کرانے میں متولیان کی ہر ممکن تکنیکی و قانونی رہنمائی کریں۔












