اسلام ایک ایسا دین ہے جو عدل، مساوات اور انسانی وقار پر مبنی ہے۔ تاریخ کے ہر دور میں مسلم خواتین نے علم، سیاست، اور سماجی بہبود میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ موجودہ دور میں مسلم معاشرے کی مجموعی ترقی کے لیے خواتین کا فعال ہونا محض ایک ذاتی خواہش نہیں، بلکہ ایک ناگزیر ضرورت بن چکی ہے۔اسلام نے چودہ سو سال پہلے وہ حقوق عطا کیے جن کا تصور جدید دنیا نے حال ہی میں کیا ہے۔ قرآن و سنت کی روشنی میں انسانی وقار اور اجر و ثواب کے معاملے میں مرد اور عورت کے درمیان کوئی تفریق نہیں ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
> "جو بھی نیک عمل کرے گا، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، بشرطیکہ وہ مومن ہو، تو ہم اسے پاکیزہ زندگی عطا کریں گے۔”
ایک صحت مند اور ترقی یافتہ مسلم معاشرے کی تشکیل کے لیے خواتین کا تعلیم یافتہ اور بااختیار ہونا ضروری ہے۔ جب ہم خواتین کی بااختیاری (Empowerment) کی بات کرتے ہیں، تو اس کا مطلب انہیں ان کے شرعی حقوق کی فراہمی اور سماجی رکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔
معاشرے کی آدھی آبادی کو گھروں تک محدود رکھنا ترقی کے پہیے کو روکنے کے مترادف ہے۔ تعلیم، صحت، اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں مسلم خواتین کی شمولیت معاشرے کو استحکام بخشتی ہے جس سے ان کے اندر خود اعتمادی اور سماجی شعور پیدا ہوتا ہے۔
اکثر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ اسلام میں صنفی مساوات کا فقدان ہے، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ قرآنِ کریم نے واضح طور پر بیان کیا ہے کہ انسانی فضیلت کا معیار جنس نہیں بلکہ "تقویٰ” ہے۔
قرآنی نقطہ نظر: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "بیشک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے” (الحجرات: 13)۔ یہ آیت مساوات کا وہ چارٹر ہے جو کسی بھی قسم کے صنفی امتیاز کی نفی کرتا ہے۔
عبادات میں اشتراک: حج کی مثال ہی لے لیں۔ احرام کی حالت میں مرد اور عورت دونوں ایک ہی جیسے قوانین کے پابند ہوتے ہیں۔ طوافِ کعبہ ہو یا میدانِ عرفات کی پکار، اللہ کے سامنے دونوں کی حیثیت برابر ہے۔ حج کے مناسک میں "سعی” کی بنیاد ایک عظیم خاتون حضرت ہاجرہؑ کی جدوجہد پر رکھی گئی ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ ایک عورت کی تڑپ اور کوشش کو رہتی دنیا تک کے لیے عبادت کا حصہ بنا دیا گیا۔
کسی بھی معاشرے کی ترقی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ وہاں کی خواتین کتنی بااختیار ہیں۔ مسلم معاشرے میں خواتین کی بااختیاری کے تین اہم پہلو ہیں:
الف) تعلیمی خود مختاری: اسلام نے علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض قرار دیا ہے۔ جب ایک عورت تعلیم یافتہ ہوتی ہے تو وہ صرف ایک فرد نہیں بلکہ ایک پوری نسل کی تربیت کرتی ہے۔ موجودہ دور میں مسلم خواتین کا طب، انجینئرنگ، قانون اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں نام پیدا کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اپنی علمی حدود کو وسعت دے رہی ہیں۔
ب) معاشی استحکام: حضرت خدیجہؓ کی مثال ہمارے سامنے ہے جو اپنے وقت کی ایک کامیاب تاجرہ تھیں۔ مسلم خواتین کو معاشی طور پر خود کفیل بنانا معاشرے کی مجموعی غربت کے خاتمے کے لیے ضروری ہے۔ جب ایک عورت معاشی طور پر مضبوط ہوتی ہے، تو وہ خاندان کے فیصلوں میں فعال کردار ادا کرتی ہے، جس سے معاشرے میں توازن پیدا ہوتا ہے۔
ج) فیصلہ سازی میں شمولیت: خواتین کو صرف گھر کی چار دیواری تک محدود رکھنا ان کی صلاحیتوں کا قتل ہے۔ سماجی اور سیاسی سطح پر خواتین کی رائے کو اہمیت دینا سنتِ نبویؐ ہے۔ صلح حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ ﷺ نے ام المومنین حضرت ام سلمہؓ کے مشورے پر عمل کر کے ایک بڑے بحران کو ٹالا تھا۔ یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ خواتین کی بصیرت ریاست اور معاشرے کے بڑے معاملات میں کلیدی اہمیت رکھتی ہے۔
مسلم معاشروں میں اکثر "ثقافت” کو "دین” سمجھ لیا جاتا ہے۔ عورتوں پر تعلیم کی پابندی، وراثت سے محرومی یا جبری نکاح جیسی برائیاں ثقافتی اور پدرشاہی (Patriarchal) سوچ کی پیداوار ہیں، جن کا اسلام سے کوئی تعلق
لیکن آج تعلیم تک خواتین کی رسائی نے فکر کہن میں جنبش پیدا کی ہے جس سے مسلم معاشرہ بھی تبدیلی کےدور سےگزر رہاہے۔حالیہ برسوں میں حج کے حوالے سے ہونے والی اصلاحات اس تبدیلی کی ایک روشن مثال ہیں۔
حج اسلام کا پانچواں رکن ہے، جو نہ صرف عبادت ہے بلکہ امت مسلمہ کے اتحاد، تقویٰ اور ایثار کا عالمی مظاہرہ بھی ہے۔ موجودہ حج سیزن اس لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ یہ جدید چیلنجز اور سماجی اصلاحات کے سنگم پر کھڑا ہے۔ مکہ مکرمہ کی مقدس سرزمین پر لاکھوں فرزندانِ توحید کا اجتماع اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ رنگ، نسل اور طبقے کی تفریق سے بالاتر ہو کر سب اللہ کے حضور برابر ہیں۔ اس سال حج کا سیزن خواتین کی خود مختاری کے حوالے سے ایک نئے باب کا اضافہ کر رہا ہے، جہاں ہزاروں خواتین اپنے عزم اور ایمان کے سہارے اس مقدس فریضے کی ادائیگی کے لیے پرعزم ہیں۔
آج سعودی عرب کی جانب سے خواتین کو بغیر محرم حج کی اجازت دینا دراصل شریعت کے انہی مقاصد—عدل اور آسانی—کی ایک جدید اور متوازن تعبیر ہے، جو اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ اگر سلامتی یقینی ہو تو عورت کا سفر اس کے وقار میں کمی نہیں لاتا۔
حج کے لیے تنہا سفر کرنے والی خواتین کا بڑھتا ہوا تناسب اس بات کی علامت ہے کہ مسلم خواتین اب اپنے فیصلے خود کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ یہ اعتماد انہیں خاندان اور معاشرے میں ایک مضبوط ستون بناتا ہے۔
دراصل اکثر اوقات پدرشاہی رویوں کو دین کا نام دے کر خواتین پر پابندیاں لگائی جاتی رہی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دین اور ثقافتی روایات میں فرق کیا جائے۔ اسلام نے عورت کو وراثت، ملکیت، اور رائے دہی کا حق دیا ہے، جسے بحال کرنا آج کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔جائزہ لینے پر معلوم ہوتا ہے کہ تاریخی طور پر حج کا سفر طویل اور دشوار گزار ہوتا تھا، جس کی وجہ سے خواتین کے لیے محرم کی شرط ایک حفاظتی ضرورت تھی۔ لیکن آج کے دور میں مواصلات کی بہتری، محفوظ سفری ذرائع اور سعودی حکومت کے سیکیورٹی انتظامات نے ان خدشات کو ختم کر دیا ہے۔ اس سال ہزاروں کی تعداد میں ایسی خواتین حج کی سعادت حاصل کر رہی ہیں جو اپنی علمی، معاشی اور ذہنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر اس مقدس سفر پر روانہ ہوئیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مسلم معاشرہ اب "حفاظت” کے تصور کو "پابندی” سے الگ کر کے دیکھ رہا ہے۔
مسلم معاشرے میں خواتین کی نقل و حرکت پر پابندی اکثر اوقات فقہی تعبیرات کا نتیجہ رہی ہے۔ تاہم، اسلام ایک متحرک دین ہے جو زمان و مکان کی تبدیلی کے ساتھ اجتہاد کی دعوت دیتا ہے۔
علماء کی ایک بڑی تعداد اب اس بات پر متفق ہے کہ "سفرِ حج میں محرم کی شرط” کا اصل مقصد عورت کی حفاظت تھا۔ اگر آج کے دور میں قافلے، ہوائی سفر اور حکومتی ضمانت کی صورت میں "امن” میسر ہے، تو یہ شرط اپنی معنویت تبدیل کر لیتی ہے۔ بھارت جیسے ملک سے 5000 سے زائد خواتین کا بغیر محرم حج پر جانا اس بات کی توثیق ہے کہ مذہبی فکر میں جمود ٹوٹ رہا ہے اور ایسی تعبیرات کو اپنایا جا رہا ہے جو عدل اور آسانی پر مبنی ہیں۔
حج کے حوالے سے حالیہ اصلاحات دراصل ان ثقافتی زنجیروں کو توڑنے کی ایک کوشش ہیں۔ جب ایک خاتون اکیلی سفر کر کے حج جیسا عظیم فریضہ ادا کر سکتی ہے، تو وہ اپنی تعلیم کے لیے دوسرے شہر بھی جا سکتی ہے اور اپنی ملازمت کے لیے سفر بھی کر سکتی ہے۔ یہ فیصلہ خواتین کے اندر خود اعتمادی پیدا کرتا ہے کہ وہ ایک آزاد اور ذمہ دار شہری کے طور پر اپنی شناخت منوا سکتی ہیں۔
ہندوستان میں مسلم خواتین کی جدوجہد ایک داخلی ارتقاء کا نتیجہ ہے۔ یہاں کی خواتین نے تعلیم اور قانونی راستوں کے ذریعے اپنے حقوق کی جنگ لڑی ہے۔ بغیر محرم حج کی پالیسی نے ان خواتین کو ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کیا ہے جہاں وہ اپنی مذہبی شناخت اور جدید حقوق کے درمیان ایک خوشگوار امتزاج پاتی ہیں۔
یہ تبدیلی صرف ہندوستان یا سعودی عرب تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ پوری مسلم دنیا میں ایک "رول ماڈل” کا کام کرے گی۔ یہ اس پروپیگنڈے کا جواب ہے کہ اسلام خواتین کی آزادی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔












