نئی دہلی ، سماج نیو زسروس: افغان وزارت تعلیم نے پاکستان پر صوبہ کنڑ میں ایک یونیورسٹی پر حملے کا الزام لگاتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اس حملے میں متعدد طلبا اور اساتذہ ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ دوسری جانب پاکستانی وزارت اطلاعات نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔افغانستان کے صوبہ کنڑ میں سید جمال الدین افغان یونیورسٹی کے ایک طالب علم نے بی بی سی پشتو کو بتایا، ’معمول کی طرح دوپہر ڈھائی بجے کے قریب میں اپنی کلاس میں مصروف تھا اور استاد ہمیں پڑھا رہے تھے کہ اچانک زور دار دھماکے کی آواز سنائی دی۔‘واقعے کے عینی شاہد اکرام اللہ کا کہنا ہے، ’دھماکے کے بعد، وہاں پر شدید دھول، دھواں اور بارود کی بو تھی، اور ہم ایک دوسرے کو نہیں دیکھ سکتے تھے۔‘ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے میں یونیورسٹی کے فیکلٹی آف ایجوکیشن کی عمارت کو نقصان پہنچا اور اس کا بیشتر حصہ تباہ ہو گیا ہے۔بی بی سی پشتو کے مطابق واقعے کے بعد کنڑ کے دارالحکومت اسد آباد میں ایمبولینسوں کی آواز سنی گئی اور بعض زخمیوں کو قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔یاد رہے کہ افغانستان نے پاکستان پر اس حملے کا الزام لگایا ہے تاہم پاکستانی وزارتِ اطلاعات کی جانب سے ان دعوؤں کی تردید کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان کے افغانستان سے ملحقہ مختلف سرحدی اضلاع سے جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔سرکاری حکام نے بلوچستان کے سرحدی ضلع چمن سے متصل سرحدی علاقوں میں پاکستان اور افغانستان کی سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کی تصدیق کی ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ جھڑپوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے دو پہر تک جاری رہا۔بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ایک سینیئر سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جھڑپوں کا آغاز پیر کو صبح کے وقت چمن شہر سے انداز 15 کلومیٹر کے فاصلے پر روغانی کی حدود میں ہوا۔اگرچہ سویلین حکام نے اس علاقے میں دونوں ممالک کے سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کی تصدیق تو کی ہے لیکن تاحال اس کی وجوہات اور کسی جانی نقصان کے بارے میں نہیں بتایا گیا۔جب اس سلسلے میں چمن شہر میں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر اویس سے فون پر رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ تاحال اس حوالے سے کسی زخمی شخص کو ہسپتال منتقل نہیں کیا گیا۔دوسری جانب پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ میں پاک افغان سرحد سے متصل علاقوں سے بھی جھڑپوں کے اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔مقامی افراد نے بتایا ہے کہ گولے آبادی کے قریب گرے ہیں لیکن کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں۔ایک مقامی پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سرحدی علاقوں بشمول لغڑئی، چارمنگ اور سلارزئی کے علاقوں میں سنی جا رہی ہیں۔لغڑی سے مقامی قبائلی رہنما ملک شاہئن نے بی بی سی کو بتایا کہ لغڑی میں چند روز کے وقفے کے بعد آبادی کے قریب گولے گرے ہیں لیکن اب تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔انھوں نے بتایا کہ دیگر سرحدی علاقوں جیسے سلارزئی اور چارمنگ کے بازار میں بھی گولے گرے ہیں۔لغڑی سے ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر سامنے آئی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ آبادی کے درمیان سڑک سے دھواں اٹھ رہا ہے اور لوگ افرا تفری میں بھاگ رہے ہیں۔اس علاقے میں اس سے پہلے بھی لوگوں کے گھروں پر گولے گرے تھے جس میں ہلاکتیں ہوئی تھیں۔












