لہرپور، سیتاپور ،سماج نیوز سروس :جمعیۃ علماء اتر پردیش کے زیر اہتمام مقامی اور ضلعی اکائیوں کو عصری تقاضوں کے مطابق فعال و متحرک کرنے اور سماجی و ملی جدوجہد کے لیے ٹھوس لائحہ عمل مرتب کرنے کے مقصد سے ایک اہم ’دو روزہ تربیتی ورکشاپ و ضلعی مشورہ‘ ڈی ٹی پیلیس، قصبہ لہرپور، ضلع سیتاپور میں صوبائی صدر مفتی سید محمد عفان منصورپوری کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اس اہم نشست میں اتر پردیش53/ اضلاع کے 180/سے زائد صدور، نظماء، نظماء تنظیم اور مختلف شعبوں کے عہدیداران نے شرکت کی۔ اجلاس میں بطور مہمان خصوصی صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا سید محمود اسعد مدنی نے بطور خاص شرکت فرمائی۔مولانا محمود مدنی نے اپنے کلیدی خطاب میں فرمایا کہ کسی بھی سماجی و ملی جدوجہد کی کامیابی کا مکمل انحصار خلوص نیت پر ہوتا ہے۔ تنظیمی استحکام پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ ہمیں افراد سازی پر بھرپور توجہ دینی چاہیے، ساتھ ہی موجودہ قیادت کو چاہیے کہ وہ ہر ضلع میں کم از کم پانچ ایسے باصلاحیت افراد تیار کرے جو تنظیمی ذمہ داریوں کو بحسن و خوبی انجام دے سکیں اور مستقبل میں قیادت فرائض انجام دے سکیں۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ ”مسلمان طاقتور ہوگا تو ملک طاقتور ہوگا، آپ دراصل اس ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہیں“۔ انہوں نے عہدیداران کو تلقین کی کہ وہ وقتی ناموافق حالات اور مخالفتوں سے گھبرانے کے بجائے خلوص نیت، جذبہ اور جہد مسلسل کو اپنا شعار بنائیں اور تنظیمی ڈھانچے کو نچلی سطح تک مضبوط کریں۔ صوبائی صدر مفتی سید محمد عفان منصورپوری نے اپنے صدارتی خطاب میں فرمایا کہ علماء اور جمعیۃ کے خدام محض مساجد کے منبر و محراب تک محدود نہیں ہیں، بلکہ وہ ملت کے مستقبل کے نگہبان اور ضامن ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ موافق حالات میں کام کرنا کوئی غیر معمولی بات نہیں، اصل کمال یہ ہے کہ حالات کی مخالفت اور سنگینی کے باوجود میدان عمل میں ثابت قدم رہا جائے اور امت کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیا جائے۔ انہوں نے صوبائی دفتر کی تعمیرنو کا خاکہ بھی پیش کیا جس پر مختلف اضلاع کے ذمہ داران نے فراخدلانہ مالی تعاون کے عزائم کا اظہار کیا۔ ناظم عمومی مولانا حکیم الدین قاسمی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جمعیۃ کی موجودہ جدوجہد دراصل انبیاء کرام اور صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے طرزعمل کا ہی تسلسل ہے، جسے اکابرین دیوبند نے اپنے خون جگر سے سینچا ہے۔انہوں نے زمینی سطح پر عوامی رابطے کو مضبوط کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سماجی و ملی جدوجہد کے تحت ضرورت مندوں کی داد رسی اور فلاحی کاموں کو ہماری اولین ترجیحات کا حصہ ہونا چاہیے۔ صوبائی ناظم اعلیٰ مولانا امین الحق عبداللہ قاسمی نے تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے تنظیمی استحکام، مؤثر رپورٹنگ اور عصری تقاضوں پر روشنی ڈالتے ہوئے واضح کیا کہ ورکشاپ میں جو بھی پراجیکٹ، منصوبے اور طریقہ کار پیش کئے گئے ہیں ۔












