نئی دہلی، (یو این آئی) کانگریس نے گریٹ نکوبار پروجیکٹ کی موجودہ شکل پر قومی سلامتی کے نقطہ نظر سے نظر ثانی کی ضرورت ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے ماحولیاتی نقصان اور قبائلی حقوق کی خلاف ورزی کا اندیشہ ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ وہ مسلسل اس سلسلے میں حکومت کو آگاہ کر رہی ہے، لیکن اس کی تشویش پر توجہ نہیں دی جا رہی ہے۔کانگریس کے شعبہ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے اتوار کو بتایا کہ انہوں نے ماحولیات، جنگلات اور آب و ہوا کی تبدیلی کے مرکزی وزیر بھوپیندر یادو اور قبائلی امور کے وزیر جوئل اورام کو خط لکھنے کے بعد اب وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کو خط بھیجا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ایک تجارتی پروجیکٹ کو سکیورٹی ضروریات کی بنیاد پر درست ٹھہرانے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ اس کے ماحولیاتی اثرات اور قبائلی مفادات پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں مسلسل تنقید ہو رہی ہے۔مسٹر رمیش نے کہا کہ ملک کی دفاعی صلاحیت کو مضبوط کرنے پر کوئی اختلاف نہیں ہے، لیکن گریٹ نکوبار کے کیمپیبل بے میں واقع آئی این ایس باز کے رن وے کی توسیع اور بحری جیٹی جیسے منصوبے کم ماحولیاتی نقصان کے ساتھ بہتر متبادل ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے آئی این ایس کاردیپ، آئی این ایس کوہاسا، آئی این ایس اتکروش، آئی این ایس جراوا اور کار نکوبار ایئرفورس اسٹیشن جیسے موجودہ فوجی اثاثوں کی توسیع کی بھی تجویز دی۔انہوں نے کہا کہ پروجیکٹ میں مجوزہ ٹرانس شپمنٹ پورٹ اور ٹاؤن شپ سے فوجی صلاحیت میں اضافہ نہیں ہوتا، پھر بھی انہیں سکیورٹی وجوہات سے درست ٹھہرایا جا رہا ہے۔ انہوں نے وزیر دفاع سے پروجیکٹ کی موجودہ شکل پر نظر ثانی کرنے اور بحریہ کے حکام کی طرف سے تجویز کردہ متبادلات پر سنجیدگی سے غور کرنے کی اپیل کی۔












