نئی دہلی، (یواین آئی) وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کو نیدرلینڈ کے وزیر اعظم راب جیٹن کے ساتھ نیدرلینڈ کے مشہور افسلوئٹ ڈائک بند کا دورہ کیا، جو آبی انتظام کے شعبے میں دنیا کے معروف بنیادی ڈھانچوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس منصوبے کا دورہ ہندوستان اور نیدرلینڈ کی اختراعی آبی انتظامی حل، موسمیاتی لچک اور پائیدار بنیادی ڈھانچے کے لیے مشترکہ وابستگی کو ظاہر کرتا ہے۔ تقریباً 32 کلومیٹر طویل افسلوئٹ ڈائک بند اور اس پر قائم پل سیلابی تحفظ اور زمین کی بحالی کے میدان میں ایک نمایاں مثال مانا جاتا ہے۔ یہ بند نیدرلینڈ کے سمندر کی سطح سے نیچے واقع وسیع علاقوں کو بحیرہ شمالی سے محفوظ رکھتا ہے، ساتھ ہی میٹھے پانی کے ذخیرے کی سہولت بھی فراہم کرتا ہے۔ اس دورے کے دوران افسلوئٹ ڈائک اور گجرات میں مجوزہ کلپسر پروجیکٹ کے درمیان مماثلتوں پر بھی توجہ دی گئی۔ کلپسر منصوبے کا مقصد خلیج کھمبھات میں میٹھے پانی کا ذخیرہ قائم کرنا ہے، جس میں مدوجزر سے بجلی پیداوار، آبپاشی اور نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے کو یکجا کیا جائے گا۔ دونوں فریقوں نے کلپسر منصوبے پر تکنیکی تعاون کے لیے ہندوستان کی وزارت جل شکتی اور نیدرلینڈ کی وزارت بنیادی ڈھانچہ و آبی انتظام کے درمیان مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کا خیرمقدم کیا۔ دونوں وزرائے اعظم اس بات پر متفق ہوئے کہ آبی انجینئرنگ میں نیدرلینڈ کی مہارت اورہندوستان کی وسیع پیمانے پر نفاذ کی صلاحیت دونوں ممالک کے لیے باہمی فائدے پر مبنی شراکت داری کا اہم موقع فراہم کرتی ہے۔ ایک سرکاری بیان کے مطابق مودی کا نیدرلینڈ کے اس بند کے علاقے کا دورہ آبی شعبے میں ہندوستان-نیدرلینڈ اسٹریٹجک شراکت داری کی تجدید کی علامت ہے اور اختراع و پائیدار ترقی کے لیے دونوں ممالک کے مشترکہ عزم کو اجاگر کرتا ہے۔ وزیرِاعظم نریندر مودی نے آج نیدرلینڈز کے وزیرِاعظم روب جوٹین کے ساتھ سرکاری ملاقات میں دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر تفصیلی گفتگو کی۔ مشترکہ اقدار اور باہمی اعتماد کے پیشِ نظر دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کو اسٹریٹجک پارٹنرشپ تک بڑھانے کا فیصلہ کیا۔ دونوں ممالک نے تجارت و سرمایہ کاری، دفاع و سلامتی، جدید اور اہم ٹیکنالوجیز، سمندری شعبہ، قابلِ تجدید توانائی اور تعلیم جیسے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے ایک جامع اسٹریٹجک روڈ میپ اپنانے پر بھی اتفاق کیا۔ رہنماؤں نے کہا کہ ہندستان کی ترقی کی رفتار ڈچ کمپنیوں کے لیے نئے کاروباری مواقع فراہم کر رہی ہے، اور تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور اختراع میں شراکت داری کو مزید فروغ دیا جائے گا۔ انہوں نے اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کے ذریعے دوطرفہ تعاون میں ہونے والی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور پانی، زراعت اور صحت کے شعبوں میں تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔ خاص طور پر بڑے آبی منصوبوں کے ذریعے "واٹر اسٹریٹجک پارٹنرشپ” کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔












