نئی دہلی 29مئی،سماج نیوزسروس:علی گڈھ مسلم یونیورسٹی (ترمیمی )ایکٹ1981 کو ختم کردیا گیا ہے ۔یہ ایک تشویشناک خبر ہے لیکن اس سے بھی حیرت انگیز خبر یہ کہ اس خبر پر نہ تو کہیں سے کوئی آواز اٹھی اور نہ ہی کسی بھی تنظیم یا ادارے نے اس پر اپنے رد عمل کا اظہار کیا ۔28مئی اتوار کے روز انڈین مسلم فار سول رائٹس کے صدر اور معروف سیاستداں محمد ادیب نے دہلی کے کنسٹی چیوشن کلب میں ایک مشاورتی میٹنگ کا انعقاد کیا اور ملک کے نامور وکلا سے اس خبر کی تصدیق چاہی تاکہ اس سلسلے میں آگے کا لائحہ عمل بنایا جا سکے ۔میٹنگ کے افتتاحی خطبے میں سابق ممبر پارلیامنٹ (راجیہ سبھا)اور صدر IMCR محمد ادیب نے اس مذاکرے کے موضوع کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس خبر پر کہ علی گڈھ مسلم یونیورسٹی (ترمیمی) ایکٹ 1981میں کئے گئے ترمیم کو ختم کر دیا گیا ہے ہمیں تشویش ہے اور آج اس میٹنگ کا مقصد یہی ہے کہ یہاں موجود سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے نامور وکلا ہمیں بتائیں کہ حقیقی صورت حال کیا ہے ۔محمد ادیب نے پر تاسف لہجے میں اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے توقع تھی کہ آج کے اس میٹنگ میں علیگ برادری کے لوگ جوش و خروش سے حصہ لینگے لیکن ان کی قلیل تعداد دیکھ کر مجھے افسوس ہو رہا ہے ۔ سابق ممبر پارلیامنٹ محمد ادیب نے اعلان کیا کہ میں نے ایک دستخطی مہم کا آغاز کر دیا ہے ،اور جیسے ہی اس کی تعداد ایک لاکھ ہوگی میں ایک وفد کے ساتھ صدر جمہوریہ ہند سے ملاقات کر کے انہیں عوام کے جذبات سے آگاہ کرونگا ۔
بعد از آں سپریم کورٹ کے وکیل بہار برقی نے اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت نے بہت پہلے ہی ملک کی تین یونیورسٹی ،دہلی یونیورسٹی ،بنارس ہندو یونیورسٹی اور علی گڈھ مسلم یونیورسٹی کو ایک خط لکھ کر یہ پوچھا تھا کہ کیوں نہ آپ کی یونیورسٹی کو آزادی سے قبل کے ( 1920) ایکٹ سے آزاد کر دیا جائے؟ اس پر دہلی یونیورسٹی اور بی ایچ یو نے حامی بھری تھی لیکن علی گڈھ مسلم یونیورسٹی نے کیا جواب دیا ہنوز پردے میں ہے ۔اور کافی کوشش کے باوجود یونیورسٹی کے ارباب حل وعقد اس کا واضح جواب نہیں دے رہے اور نہ آر ٹی آئی سے کوئی بات واضح ہو پارہی ہے ۔مسلم یونیورسٹی یونین کے سابق صدر اور ایڈوکیٹ سپریم کورٹ زیڈ کے فیضان نے ماضی میں یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کی جدوجہد اوپر "علی گڈھ مسلم یونیورسٹی (ترمیمی)ایکٹ 1981 کی منسوخی پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے واضح کیا کہ متروک یا بیکار ایکٹ کون سے کہلاتے ہیں اور سوال کیا کہ جو ایکٹ 2004 سے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے سامنے زیر بحث رہا اور اب سپریم کورٹ کی سات ججوں کی دستوری بنچ کے سامنے زیر بحث ہے وہ متروک یا بیکار کیسے ہو گیا ۔ اسے منسوخ کرنا کہیں نہ کہیں سرکار کی بدنیتی ظاہر کرتا ہے۔ انھوں نے مشورہ دیا کہ اس سلسلے میں علی گڑھ اولڈ بوائز کی مختلف ایسوسی ایشنس کو مباحثے منعقد کرنا چاہئے انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اب تو یونیورسٹی کے 1920 کے بنیادی ایکٹ پر ہی تلوار لٹک رہی ہے۔ موجودہ مرکزی حکومت کی طرف سے بار بار یونیورسٹی پر اس میں ترمیم و تنسیخ کے لئے دباؤ بنایا جا رہا ہے۔ اس کے خلاف آواز بلند کرنے کے لئے ہمیں تیار رہنا ہوگا۔ زیڈ کے فیضان نے مشورہ دیا کہ وائس چانسلر کو یونیورسٹی کورٹ اور ایگزیکیٹیو کی میٹنگ بلا کر اس سلسلے میں وزارت تعلیم کی طرف سے بھیجے گئے خطوط پر بحث کرنی چاہیے۔
اگنو کے سابق پرو وائس چانسلر اور علی گڈھ طلباء یونین کے سابق صدر بصیر احمد خان نے 1965 کے حالات اور اس وقت سے شروع ہونے والی اقلیتی کردار کی بحالی کی لڑائی پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور صورت حال سے لوگوں کو آگاہ کراتے ہوئے کہا کہ ہم یونیورسٹی کے تعلق سے کی گئی قربانیوں کو ضایع نہیں ہونے دیں گے۔ میٹنگ کو IMCR کے سکریٹری مسعود حسین، علی گڈھ ٹیچرس ایسوسی ایشن کے صدر پروفیسر محمد خالد، مسلم یونیورسٹی یونین کے سابق صدر خالد مسعود ، دہلی اولڈ بوائز ایسوسی ایشن کے صدر مدثر حیات ، آل انڈیا پیس مشن کے صدر سردار دیال سنگھ ، سپریم کورٹ ایڈوکیٹ فضیل ایوبی اور اسٹوڈنٹ لیڈر محمد عامر منٹوئی نے بھی خطاب کیا ۔ میٹنگ میں ڈاکٹر ظہیر احمد خان ، مولانا عبدالرحمن عابد ، انوار الدین خاں، عشرت علی ،پروفیسر سلیم قدوائی ، ایم افضل ،نجم نقوی، عمیق جامعی،ثمینہ نسرین،عشرت جمیل،عبدالمعیظ قدوائی ، وصی احمد اور ممہدی حسن منصوری سمیت دیگر علیگیرینس، سماجی ،سیاسی اور ملی شخصیات نے شرکت کی ۔












