نئی دہلی،؍ ہمارا سماج: معروف صحافی،ادیب ،شاعر ،کثیر الجہات اور مختلف الصفات صلاحیت کے مالک عامر سلیم خان کے انتقال پرملال پر اظہار تعزیت کیلئے مہدیان مسجد میں ایک نشست کا انعقاد کیا گیاجس میں عامر سلیم خان ؒ کی شخصیت کے بہت سے مخفی پہلوئوں اور ان کی علمی ،ادبی،تدریسی اور صحافیانہ نہ خدمات پر مقررین سیر حاصل گفتگو کرکے انہیں جذباتی خراج عقیدت پیش کیا۔ہمارا سماج کے چیف ایڈیٹر اور بہار کے ایم ایل سی ڈاکٹر خالد انور نے کہا کہ عامر سلیم خا ن زندہ دل،جرا ٔتمند،بے باک ،نڈر اور بہادر صحافی تھے۔ان کا قلم ہمیشہ سچائی کا طرفدار رہتا تھا۔انہوں نے روزنامہ راشٹریہ سہارا سے اپنے صحافتی کیریر کا آغاز کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ عامر سلیم خان ہمیشہ دوسروں کے لئے ہی سوچتے اور کام کرتے تھے انہیں اپنی فکر نہیں رہتی تھی۔انہوں نے کہا کہ وہ میرے اچھے دوست تھے اور عمر کے آخر تک انہوں نے دوستی نبھائی۔ان کے انتقال صحافت کا بڑا نقصان ہے۔ سیاسی تقدیر کے چیف ایڈیٹر محمد مستقیم خان نے کہا عامر سلیم خان میرے دیرنہ دوست تھے۔روز ان کا مسکراتا چہرا دیکھ کر فرحت و مسرت کا احساس ہوتا تھا۔وہ میرے گھر کے قیرب رہتے تھے اس لئے بھی محبت کے رشتے میں کافی مضبوطی تھی۔افسوس وہ مختصر علات کے بعد ہمیں داغ مفارقت دے گئے۔میری دعا ہے اللہ تعالی انہیں جوار رحت میں جگہ عطا فرمائے۔ہما راسماج کے رپورٹر صادق شیروانی نے کہا مرحوم سے میرے بہت نزدیکی تعلقات تھے۔2006 سے میں نے صحافت کا آغاز کیا ہے اور تب سے ہماری دوستی رہی ہے۔میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا ہے اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔مولانا صابر علی ظفر قاسمی نے کہا کہ عامرسلیم خانؒ جہاں بہت اعلیٰ درجے کے صحافی تھے وہیں وہ فارسی کے بہترین استاد بھی تھے۔وہ مدرسہ رحیمیہ میں مدرس تھے۔انہوں نے لاتعداد بچوں کو پڑھایا علاوہ ازیںوہ مدرسے کا حساب کتاب بھی دیکھتے تھے اور ان کو جو ذمہ داری دی جاتی تھی اس کو خوش اسلوبی سے انجام دیتے تھے۔ دہلی ا قلیتی کمیشن کے چیئرمین ذاکرخان منصوری نے عامرسلیم خان کی صحافت کے بارے میں تفصیل سے ذکر کیا اور بتایا کہ کسی بھی خبر کے تعلق سے فون پر صرف ایک لائن بتانے کی ضرورت تھی اور وہ بڑی تفصیل سے خبر مکمل پڑھنے کو مل جاتی تھی۔ علاوہ ازیںشعیب رضا فاطمی،ارشد ندیم کرتپوری ،شکیل احمد،ڈاکٹر امیر امروہوی ،امیر اعظمی، حافظ اشرف،مولانا اسماعیل آزاد، مولانا مظہرالدین خان، محمد شریف خان، عمران احمد،انعام اللہ ،بخشیش احمد، افضل احمد، حاجی عامرجان ،سید عینین علی حق،زبیر شاد سمیت کئی لوگوں نے مرحوم کو خراج عقیدت پیش کیا۔تعزیتی میٹنگ کے بعد مولانا صابر علی نے دعاکرائی۔













