بہار میں اڈانی گروپ 8700 کروڑ کی سرمایہ کاری کیلئے تیار
پٹنہ: 16دسمبر /سماج نیوز سروس :موصولہ اطلاع کے مطابق ملک کا معروف صنعتی گروپ اڈانی گروپ بہار میں 8700 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ اڈانی انٹرپرائزز کے ڈائریکٹر پرنو اڈانی نے جمعرات کو ‘بہار بزنس کنیکٹ-2023’ کانفرنس میں اپنے خطاب میں یہ اطلاع دی۔پرنو نے کہا اڈانی گروپ بہار میں لاجسٹک، گیس سٹری بیوشن اور زرعی لاجسٹکس کے شعبے میں موجود ہے۔ اس میں تقریباً 850 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی گئی ہے اور تقریباً تین ہزار روزگار کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ گروپ بہار میں سرمایہ کاری کو 10 گنا بڑھا کر 8700 کروڑ روپے کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ تین اضافی شعبوں میں سرمایہ کاری ہوگی اور اس سے 10 ہزار بالواسطہ اور بلاواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔اڈانی نے کہا کہ گروپ گودام کی جگہ کو ایک لاکھ مربع فٹ سے 65 لاکھ مربع فٹ تک بڑھانے کے لیے 1200 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کرے گا۔ پٹنہ میں دو بڑے گودام ہوں گے اور اس سے 2000 لوگوں کو روزگار کے مواقع ملیں گے۔اس کے علاوہ چھ مقامات پورنیہ، بیگوسرائے، دربھنگہ، سمستی پور، کشن گنج اور ارریہ میں اپنے ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کو 1 لاکھ 50 ہزار میٹرک ٹن سے بڑھا کر 2 لاکھ 75 ہزار میٹرک ٹن کرنے کے لیے ایگری۔ لاجسٹکس میں 900 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ اس سے دو ہزار افراد کو روزگار بھی ملے گا۔ڈائریکٹر نے کہا کہ گیا اور نالندہ میں اپنے موجودہ سٹی گیس ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک کو بڑھانے کے لیے 200 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔ یہ گروپ ایک نیا کمپریسڈ بائیو گیس پلانٹ اور الیکٹرک وہیکل (ای) چارجنگ سینٹر بھی بنائے گا اور 1500 افراد کو روزگار فراہم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اڈانی ولمر کو بھی بہار لایا جا رہا ہے۔ ابتدائی مرحلے میں، آٹا چکی پلانٹ، آر ایف ایم پلانٹ، سالوینٹ ایکسٹرکشن پلانٹ، کو-جن پاور پلانٹ کے ساتھ ساتھ سہسرام اور روہتاس میں پیڈی پروسیسنگ پلانٹس کی تعمیر کے لیے 800 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔ یہ پلانٹ 200 افراد کو روزگار فراہم کرے گا۔
وزیراعظم مودی دنیا کے سب سے بڑے کارپوریٹ آفس کا افتتاح کریں گے
سورت :16دسمبر ،سماج نیوز سروس ۔ ریاست گجرات کے شہر سورت میں 3400 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کردہ سورت ڈائمنڈ بورس کارپوریٹ آفس کا 17 دسمبر کو وزیر اعظم نریندر مودی افتتاح کریں گے۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا کارپوریٹ آفس ہب ہے جس میں چار ہزار سے زیادہ باہم منسلک دفاتر ہیں۔نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی اتوار کو دنیا کے سب سے بڑے کارپوریٹ آفس ہب ‘سورت ڈائمنڈ بورس کا افتتاح کریں گے۔ 3400 کروڑ روپے کی لاگت سے 35.54 ایکڑ اراضی پر تعمیر کیا گیا ہے۔ سورت ڈائمنڈ بورس کچے اور پالش ہیروں کی تجارت کا عالمی مرکز بننے کے لیے تیار ہے۔ڈائمنڈ بورس دنیا کی سب سے بڑی باہم منسلک عمارت ہے، کیونکہ اس میں 4,500 سے زیادہ باہم منسلک دفاتر ہیں۔ دفتر کی عمارت پینٹاگون سے بھی بڑی ہے اور یہ ملک کا سب سے بڑا کسٹم کلیئرنس ہاؤس ہے۔ اس عمارت میں 175 ممالک کے 4,200 تاجروں کے رہنے کی گنجائش ہے جو پالش ہیرے خریدنے کے لیے سورت آئیں گے۔وزیراعظم مودی نے مزید کہا کہ "سورت ڈائمنڈ بورس سورت کی ہیروں کی صنعت کی حرکیات اور ترقی کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ ہندوستان کے کاروباری جذبے کا بھی ثبوت ہے۔ یہ تجارت، اختراعات اور تعاون کے مرکز کے طور پر کام کرے گا، اس سے ہماری معیشت کو مزید فروغ دے گا اور روزگار کے زیادہ سے زادہ مواقع پیدا ہوں گے”۔
مدھیہ پردیش کانگریس کی کمان جیتو پٹواری کو سونپی گئی
اسمبلی انتخابات میں زبردست شکست کے بعد کانگریس اعلی کمان کا بڑا فیصلہ ، لیڈر اور ڈپٹی لیڈر بھی مقرر
نئی دہلی :مدھیہ پردیش کے اسمبلی انتخابات میں غیر معمولی طور پر ملی شکست کے بعد کانگریس اعلی کمان کی جانب سے بڑا قدم اٹھایا گیا ہے۔ ایک طرف جہاں کمل ناتھ کو مدھیہ پردیش کانگریس کی صدارت سے ہٹایا گیا ہے وہیں دوسری جانب کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی کے قریبی بتائے جانے والے جیتو پٹواری کو مدھیہ پردیش کانگریس کی کمان سونپی گئی ہے ۔ اس کے ساتھ ہی مدھیہ پردیش اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے طور پر امنگ سنگھار کو مقرر کیا گیا ہے جو گندھوانی سے رکن اسمبلی ہیں جبکہ ڈپٹی لیڈر ہیمنت کٹارے کو بنایا گیا ہے جو کہ بھنڈ سے رکن اسمبلی ہیں ۔ علاوہ ازیں غور طلب بات یہ ہے کہ جیتو پٹواری اس مرتبہ الیکشن ہار گئے ہیں ۔ یہ بھی غور طلب ہے کہ جیتو پٹواری نہ تو کمل ناتھ خیمے کے ہیں اور نہ ہی وہ دگ وجے سنگھ کے خیمے کے ہیں ۔ جیتو پٹواری بے باک لیڈر ہیں اور راہل گاندھی کے قریبی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ان کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے ۔
بے روزگاری اور مہنگائی کی وجہ سے پارلیمنٹ کی سیکورٹی میں کوتاہی راہل نے مودی حکومت کی پالیسیوں پر اٹھائے سوالات
نئی دہلی: 16دسمبر /سماج نیوز سروس ۔پارلیمنٹ کی سیکورٹی میں خلل کو لے کر کانگریس لیڈر اور رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ انہوں نے مرکز کی مودی حکومت کی پالیسیوں پر سوال اٹھائے ہیں۔راہل نے کہا کہ سیکورٹی میں نقب زنی ہوئی۔
ایسا کیوں ہوا، کیونکہ اس ملک میں بے روزگاری ایک بڑا مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کی پالیسیوں کی وجہ سے ملک کے نوجوانوں کو روزگار نہیں مل رہا ہے۔ اس واقعے کی وجہ بے روزگاری اور مہنگائی ہے۔وہیں، دوران کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ وزیر داخلہ ایوان میں بیان نہیں دینا چاہتے۔ وہ میڈیا میں اس معاملے پر بیانات تو دے رہے ہیں لیکن ایوان کو خوش اسلوبی سے چلانے کے لیے ایوان میں بات نہیں کرتے۔ یہ بھی کہا کہ وہ کانگریس کے نام پر ووٹ مانگتے ہیں، نہروجی اور گاندھی جی کو نشانہ بنا کر ووٹ مانگتے ہیں۔قبل ازیں، سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے بھی کہا کہ جب میڈیا نے نوجوانوں کے اہل خانہ سے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ یہ تمام نوجوان بے روزگاری کی وجہ سے ناخوش ہیں۔ تو انہوں نے چھلانگ لگا دی۔ نوکری نہیں مل رہی تھی تو گونگی بہری حکومت کو جگانے کے لیے ایوان میں کود پڑے!












