بھاگل پور(پریس ریلیز)انجمن باغ و بہار،برہ پورہ،بھاگل پور کے زیر اہتمام نوشین جہاں کی رہائش گاہ پر جو ثر ایاغ کی صدارت میں بال ساہتیہ اکاڈمی ایوارڈ یافتہ پروفیسر منا ظر عاشق ہرگانوی کے یوم وفات پر ایک ادبی تعزیتی نشست کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر انجمن کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر محمد پرویز نے پروفیسر مناظر عاشق ہرگانوی ا کے حیات وادبی کارنامے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اکیسوی صدی میں پروفیسر مناظر عاشق ہرگانوی اردو ادب میں ایک تناور درخت کے مانند تھے۔ انکو اردو زبان و ادب کے بڑے بڑے ادیبوں اور نقادوں نے بے پناہ تعریف و توصیف کی ہے۔وہ بیک وقت افسانہ،افسانچہ،ناول، ناولٹ، تحقیق، تنقید، تذکرہ، شاعری، ڈراما، مونو گراف، سوانح، بچوںکیلئے ناول اور کہانیاں، خطوط، ترجمہ، انٹرویو،طنز و مزاح، شکاریات، لغت، عروض،سفرنامہ،شخصیت شناسی،یاداشت، لسانیات، جاسو سیادب، منظو م خود نوشت، نعت، صحافت،آٹوگراف، منظوم تجزیہ تبصرہ ،سفرنامہ ہر میدان میں انہوں نے اپنے قلم کا جوہر دکھایا۔ انہوں نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز نظم نگاری اور افسانہ نگاری سے کیا ۔انکی پہلی نظم جرس آرزو تھی جو ماہنامہ نگارش امرتسر میں1963ء میں شائع ہوئی اور پہلا افسانہ نعم البدل تھا جو ماہنامہ درخشاں مراد آباد 1963ء میں شائع ہوا۔ انکی پہلی کتاب میوہ تلخ تھی۔انکی تصانیف کا تعد اد 271ہیں اور انکی ادبی خدمات میں74کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں۔ انکا اصل نام مناظر حسن اور قلمی نام مناظر عاشق ہرگانوی تھا۔ ایک جولائی 1948ء کو چترا ضلع ہزاری باغ(پہلے بہار میں تھا) میں پیدا ہوئے اور وفات 17اپریل 2021ء کو بھاگل پور میں۔انکا آبائی وطن ہرگانواں ضلع نالندہ تھا ،انکے والد کا نام عبد السلام صدیقی،والدہ کا نام عنصری خاتون اور اہلیہ کا نام فرزانہ پروین۔ انکی ابتدائی تعلیم روایتی طور پر گھر پر ہوئی۔ 1966ء میں میٹرک،1968ء میں انٹر،1971ء میں اردو سے بی۔اے کیا جس میں وہ گولڈ میڈلسٹ ہوئے۔1973ء میں اردو سے ایم۔اے پٹنہ یونیورسٹی سے کیا اور پھر بعد میں فارسی میں ایم۔اے کیا۔ 1986ء میں ڈاکٹر شمیم افزاء قمر کی نگرانی میں بھاگل پور یونیور سٹی سے پی۔ایچ۔ڈی کیا اورانکا موضوع ” عبدالحلیم شرر بحیثیت شاعر”تھا۔1981 میں کمیشن سے مارواڑی کالج بھاگل پور ،یونیور سٹی میں بحیثیت لکچرار ہوئے ،اور پروفیسر ہوکر جون 2013میں سکبدوش ہوئے۔ انہیں دیس دنیا سے سینکڑوں ایوارڈ ملے ۔اس موقع پر جوثر ایاغ نے کہا کہ پروفیسر مناظر عاشق ہرگانوی اپنی ذات میں انجمن تھے،وہ اپنی تخلیقی صلاحیت کے لئے پوری اردو دنیا میں مشہورہیں۔ڈاکٹر حبیب مرشد خاں نے کہا کہ مناظر عاشق ہرگانوی کو اردو ادب کی دنیا میں ا ادب کا کولمبس کہا جاتا ہے۔ ۔محمد عامر پرویز نے کہا کہ مناظر عاشق ہرگانوی دور حاضر کے ایک بڑے ناقد تھے۔ڈاکٹر نیر حسن نے کہا پروفہسر مناظر عاشق ہرگانوی نے اردو شاعری اور اردو نثر میں اتنا کام کیا ہے کہ اسکی تفصیل کے لئے ایک دفتر چاہئے۔محمد شاداب عالم نے کہا کہ پروفیسر مناظر عاشق ہرگانوی اکیسوی صدی میں اردو ادبی دنیا کی معتبر شخصیت تھے اور ہماری انجمن کے صدر بھی تھے۔ نشست میں شامل محمد محبوب عالم صبیحہ کوثر،نوشین جہاں،محمد تاج الدین، محمد سہیم الدین نے مناظر عاشق ہرگانوی کے فن پر اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔












