رام پور،سماج نیوز سروس: مدرسہ فیض ہدایت واقع ڈونگرپور واحد نگرمیں استقالیہ تقریب منعقد ہوئی۔ پروگرا م کا آغاز قاری جمشید کی تلاوت کلام پاک اور بین الاقوامی شہرت یافتہ شاعر اظہر عنایتی کی نعت مبارک سے ہوا۔ پروگرام کی صدارت علیگ سوسائٹی کے صدر ناصر خاں علیگ نے کی۔ جب کہ نظامت محمد نعمان غازی نے کی۔ پروگرام کو خطاب کرتے ہوئے معروف ناظم ِ مشاعرہ سید شکیل غوث نے نوجوان صحافی و مصنف صدّام حسین فیضی کی علمی وادبی خدمات کے ساتھ ساتھ دنیائے صحافت کی بے باکی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ کم سنی میں صدّام حسین فیضی ؔ نے ایسے معتر اور مستند مضامین، اداریے اور خبریں لکھی ہیں جن کو نہ صرف حوالوں کے لئے منتخب کر لیاگیاہے بلکہ ان کو غیر معروف شہرت حاصل ہوچی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ان کی بے باکی اور بے خوف قلم کاری کو دیکھ کر بعض اوقات میں اور اظہرعنایتی بہت کچھ سوچنے پر مجبور ہوجاتے ہیں انشاء اللہ جس طرح ان کی ابتداء بہت اچھی ثابت ہوئی اسی طرح انتہا بہت روشن ہوگی۔جمعیۃ علماء ہندکے ضلع صدر مولانا اسلم جاوید قاسمی نے کہاکہ مدارس سے تعلیم یافتہ صدّام حسین فیضی ؔ نے جو شہرت اور عزت کمائی ہے یقینا یہ ان کے والدین اور اساتذہ کی ہی دین ہے۔ انہوں نے مولانا عبدالوہاب خاں ؒ پر جوتحقیقی کام کیاہے اس کی جتنی تعریف کی جائے وہ کم ہی ہے۔ ہم سب کو ان کی ہمت افزائی کے لئے آگے آنا چاہئے۔ ماسٹر اسرار احمد نے کہاکہ ہماری دعائیں ہمیشہ صدّام حسین فیضی کے سنہرے مستقبل کے لئے رہیں گی۔ پروگرام کے کنوینراور مدرسہ ہذا کے مہتمم مولوی شاہد علی خاں نے کہاکہ صدّام حسین فیضی بے حد خدار انسان ہیں۔ بہت کم قلم کار اور صحافی ایسے ہوتے ہیں جو بغیرکسی لالچ و حرض کے مفاد سے اوپر اٹھ کر سماج کوبنانے کے لئے صحافت میں خدمات انجام دیتے ہیں۔مہمان خصوصی اورپروگرام کے دولہا صحافی صدّام حسین فیضیؔ نے کہاکہ مدارس ِ اسلامیہ سے ہی نڈراوربے باک قلم کار، صحافی اور لیڈر پیدا کرتے ہیں۔ مولانامحمد علی جوہر، مولانا شبلی نعمانی، مولانا شوکت علی، مولانا حسرت موہانی، مولانا حسین احمد مدنی، مولانا عبدالوہاب خاں یہ سبھی لوگ مدارس سے تعلیم حاصل کرکے ہی اپنے اپنے مسندوں پر پہنچے ہیں کہ آج ان کے نام کا ڈنکہ بج رہاہے۔صحافی صدّام حسین فیضی نے کہاکہ مولانا عبدالوہاب خاں پر جوتصنیف ہے اس میں ایک عالم کس طرح سیاست میں قدم رکھ کر میدانِ عمل میں آکر ظالم حکمرانوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈاکر بات کرتاہے یہ بھی واضح کیاگیاہے اس لئے اس کتاب کی اہمیت کو سمجھیں اور اس کا مطالعہ ضرور کریں۔ انہوں نے اس پروگرام کے انعاد پر سبھی کا شکریہ اداکیا۔ صدر محفل ناصر خاں علیگ نے کہاکہ صدّام حسین فیضی کے مضامین اور خبریں دیکھ کر بعض وقت یہ بھی سوچا جاتاہے کہ کہیں یہ کسی بڑی پریشانی میں مبتلانہیں ہوجائیں جب کہ کئی مرتبہ وہ آزمائشوں کی گرداب میں آچکے ہیں مگر ان کی اخلاص ِ نیت اور سچائی کی ہی دین ہے کہ پھران کے ساتھ اللہ کی مدد شامل ِ حال ہوتی ہے۔مدرسہ فیض ِ ہدایت کی جانب سے صدّام حسین فیضی کو ان کی تخلیق پر پگڑی باندھی گئی۔ جب کہ دوشالہ اعزاز اور قیمتی تحائف کے ساتھ ان کا استقبال کیاگیا۔ اس موقع پر رضوان احمد صدیقی، پروفیسر نفیس احمد، ڈاکٹر عدالرؤف خاں، شعیب محمدخاں، مظفراللہ خاں، نجمی صدیقی،مولانایامین قاسمی، محمودعلی خاں،مولوی معاذ شاہد،ڈاکٹر خالد حسن خاں، وسیم الحسن خاں،کانگریس شہر صدر باقرعلی خاں سمیت ادارہ کے اساتذہ و طلباء بڑی تعدادمیں موجود رہے۔












