نئی دہلی: سماج نیوز سروس ۔الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) نے آج پیر 8 اکتوبر 2023 کو پانچ ریاستوں میزورم، چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش، راجستھان اور تلنگانہ میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے شیڈول کا اعلان کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق انتخابی پینل نے آج دوپہر 12 بجے ایک پریس کانفرنس کا اہتمام کیا تھا جس میں پولنگ کی تاریخوں، مراحل کی تعداد اور کاغذات نامزدگی داخل کرنے اور واپس لینے کی تاریخوں کا اعلان کیا گیا تھا۔ ریاست میزورم میں 7 نومبر کو ایک ہی مرحلے میں انتخابات ہوں گے۔ تمام ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے لیے ووٹوں کی گنتی 3 دسمبر کو ہوگی اور اسی دن نتائج جاری کیے جائیں گے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق مدھیہ پردیش میں 17 نومبر کو ایک ہی مرحلے میں پولنگ ہوگی، جب کہ چھتیس گڑھ میں 7 اور 17 نومبر کو پولنگ ہوگی۔ راجستھان میں 23 نومبر اور تلنگانہ میں 30 نومبر کو ووٹنگ ہوگی۔شمال مشرقی ریاست میزورم میں 7نومبر کو پولنگ ہوگی ۔
واضح ہو کہ ان پانچ ریاستوں میں قانون ساز اسمبلیوں کی مدت دسمبر 2023 اور جنوری 2024 کے درمیان ختم ہونے والی ہے۔ ECI عام طور پر قانون ساز اسمبلی کی مدت ختم ہونے سے چھ سے آٹھ ہفتے پہلے انتخابی شیڈول کا اعلان کرتا ہے۔ آنے والے اسمبلی انتخابات تمام بڑی سیاسی جماعتوں بشمول حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)، اہم اپوزیشن کانگریس اور علاقائی جماعتوں کے لیے ایک بڑا امتحان ہوں گے۔ پانچ میں سے دو ریاستوں راجستھان اور چھتیس گڑھ میں کانگریس برسراقتدار ہے جبکہ مدھیہ پردیش میں بی جے پی حکمران جماعت ہے۔ کے سی آر کی زیر قیادت بھارت راشٹرا سمیتی (BRS) تلنگانہ میں برسراقتدار ہے، اور میزو نیشنل فرنٹ (MNF) میزورم میں برسراقتدار ہے۔2024کے عام انتخاب سے قبل ان پانچ ریاستوں کے انتخاب کو بے حد اہم سمجھا جا رہا ہے ۔مدھیہ پردیش ،چھتیس گڈھ اور راجستھان کے اسمبلی انتخاب کے نتائج سے یہ واضح ہو جائے گا کہ عوام کا موڈ کیا ہے ۔کیونکہ جنوبی ہندوستان میں برسر اقتدار بی جے پی کو زیادہ سیٹوں کی توقع نہیں ہے اس کی ساری توجہ ہندی بیلٹ پر مرکوز ہے ۔اور ہندی بیلٹ کی چار اہم ریاستوں مدھیہ پردیش ،گجرات ،تلنگانہ اور چھتیس گڈھ میں سے صرف مدھیہ پردیش میں ہی بی جے پی کی سرکار ہے اور وہ بھی جس طرح بنی ہے اس کی بھی ایک الگ کہانی ہے ۔
ایسے میں بی جے پی کو نہ صرف ہندی بیلٹ کی ان تمام ریاستوں کو جیتنا ہوگا بلکہ اس کامیابی اور ووٹ شئیر کو 2024کے عام انتخاب تک لے جانا ہوگا ۔اگر بی جے پی نے اس محاذ پر اپنی کمزوری دکھائی تو پھر 2024 کے عام انتخاب میں اس کے لئے سرکار بنانا مشکل ہو سکتا ہے ۔کیونکہ 2024کے عام انتخاب میں بی جے پی کو چیلنج دینے کے لئے اپوزیشن اتحاد کا محاذ I.N.D.IAکافی فعال ہے اور وہ بی جے پی کے مقابلے میں محاذ کے کسی ایک نمائندے کو ہی ٹکٹ دینے کا ارادہ کر رہی ہے ۔












