میڈرڈ/ یروشلم، (یو این آئی )ہسپانوی فٹبال کلب ‘بارسلونا کے نوجوان اور مایہ ناز اسٹار لیمین یامل کی جانب سے لا لیگا کا اعزاز جیتنے کی خوشی میں نکالے گئے وکٹری پریڈ کے دوران فلسطینی پرچم لہرانے پر اسرائیل سیخ پا ہو گیا ہے۔ اسرائیل کے وزیر دفاع نے 18 سالہ فٹبالر کے اس اقدام پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اسے "نفرت پھیلانے” کی کوشش قرار دیا ہے۔بارسلونا کلب نے ہسپانوی لیگ کا ٹائٹل اپنے نام کرنے کے بعد پیر کے روز شہر میں ایک کھلی بس پر فتح کا جشن منایا، جس میں مقامی حکام کے مطابق تقریباً ساڑھے سات لاکھ (750,000) مداحوں نے شرکت کی۔ اس جشن کے دوران مسلم فٹبالر لیمین یامل نے بس کے اوپر کھڑے ہو کر فلسطین کا بڑا پرچم لہرایا اور بعد میں اس کی تصاویر اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر بھی شیئر کیں۔اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے جمعرات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر لیمین یامال کی تصویر شیئر کرتے ہوئے شدید برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے لکھا”لیمین یامال نے اسرائیل کے خلاف نفرت کو ہوا دینے کا انتخاب کیا، جبکہ ہمارے فوجی حماس کے خلاف برسرِ پیکار ہیں۔”واضح رہے کہ ہسپانوی حکومت اور وہاں کی عوام کی ایک بڑی تعداد غزہ پر اسرائیل کی فوجی جارحیت کی شدید مخالف رہی ہے۔ اکتوبر 2023 سے جاری اس جنگ میں اب تک 72,000 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جس کی وجہ سے دنیا بھر میں اسرائیل کے خلاف شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔غزہ میں انسانی بحران اور جنگ کے خلاف یہ عالمی ردعمل اب کھیل اور ثقافت کے میدانوں تک بھی پھیل چکا ہے۔پچھلے سال ہسپانوی سائیکلنگ ریس ‘وولٹا کے دوران اسرائیلی ٹیم کی شرکت پر مظاہرین نے شدید احتجاج کیا تھا جس سے ریس بار بار متاثر ہوئی۔ اسپین سمیت دنیا کے پانچ ممالک نے اسرائیل کی شمولیت کے خلاف احتجاجاً اس سال کے ‘یوروویژن گانے کے مقابلے کا بائیکاٹ کر رکھا ہے۔لیمین یامل، جو اس وقت دنیا کے ابھرتے ہوئے بہترین فٹبالرز میں شمار ہوتے ہیں، آئندہ ماہ جون اور جولائی میں شمالی امریکہ میں ہونے والے فیفا ورلڈ کپ 2026 میں اسپین کی قومی ٹیم کی نمائندگی کرنے کے لیے تیار ہیں۔












