نئی دہلی،پریس ریلیز،ہمارا سماج : انجمن ترقی اردو ہند کے زیر اہتمام اردو گھر، دین دیال اپادھیائے مارگ، نئی دہلی میں ایک باوقار ادبی و علمی تقریب منعقد ہوئی، جس میں معروف اسلامی اسکالر، ماہر تعلیم اور دانشور پروفیسر اخترالواسع کی علمی و ادبی خدمات پر ڈاکٹر عامر فہیم کی تصنیف ’’پروفیسر اخترالواسع کی علمی و ادبی خدمات‘‘ اور کالموں کے مجموعے ’’حرفِ حق‘‘ کا اجرا عمل میں آیاجب کہ ’’حرفِ حق‘‘ کو ابو ہریرہ (وسیم رفیع) نے مرتب کیا ہے۔تقریب کی صدارت انجمن ترقی اردو ہند کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر اطہر فاروقی نے کی، جبکہ آل انڈیا مسلم مجلسِ مشاورت کے صدر فیروز احمد ایڈووکیٹ مہمان خصوصی تھے۔ سراج قریشی، پروفیسر خالد محمود اور عارج بن حیرت نے مہمان اعزازی کے طور پر شرکت کی۔ اس موقع پر احمد جاوید، معصوم مرادآبادی، حقانی القاسمی، ڈاکٹر عامر فہیم اور ابو ہریرہ (وسیم رفیع) نے اظہارِ خیال کیا۔ نظامت کے فرائض معین شاداب نے انجام دیے۔اپنے صدارتی خطاب میں ڈاکٹر اطہر فاروقی نے کہا کہ پروفیسر اختر الواسع نے حق گوئی و بیباکی سے کبھی بھی انحراف نہیں کیا،انھوںنے زبانی جمع خرچی پر زمینی کام کو ہمیشہ ترجیح دی ، یہی وجہ ہے کہ ایک زمانہ ان کی اس روش کا مداح اور قائل ہے۔مہمان خصوصی فیروز احمد ایڈووکیٹ نے کہا کہ پروفیسر اخترالواسع کی شخصیت علم اور سماجی شعور کا حسین امتزاج ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ علمی شخصیات پر سنجیدہ کام معاشرے کی فکری تعمیر میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔پروفیسر خالد محمود نے کہا کہ پروفیسر اخترالواسع نے اردو، تعلیم اور اسلامی فکر کے میدان میں جو خدمات انجام دی ہیں، وہ ہماری علمی روایت کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسی کتابیں نئی نسل کو علمی سنجیدگی اور فکری دیانت کی طرف متوجہ کرتی ہیں۔ عارج بن حیرت نے اپنے خطاب میں کہا کہ پروفیسر اختر الواسع نے ہمیشہ کمزوروں اور اپنے سے چھوٹوں کو آگے بڑھایا۔ ان کا پیغام محبت خاص و عام کےلیے یکساں ہے۔ ان کی شفقت بلا تفریق سب کے لیے برابر ہے۔ سراج قریشی نے کہا کہ ’’حرفِ حق‘‘ محض کالموں کا مجموعہ نہیں بلکہ عصری مسائل پر ایک باشعور اور دردمند ذہن کی گواہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان قلم کاروں کو اس نوع کی فکری اور سنجیدہ تحریروں سے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔ احمد جاوید نے کہا کہ پروفیسر اخترالواسع کی فکر میں روایت اور جدیدیت کے درمیان ایک متوازن رشتہ دکھائی دیتا ہے۔ ان کے مطابق، موجودہ عہد میں مکالمے اور اعتدال کی جو ضرورت ہے، اخترالواسع صاحب کی تحریریں اس کی عمدہ مثال پیش کرتی ہیں۔معصوم مرادآبادی نے کہا کہ اردو دنیا کو ایسی کتابوں کی سخت ضرورت ہے جو شخصیات کے علمی اور فکری پہلوؤں کو دستاویزی انداز میں محفوظ کریں۔ انہوں نے ’’حرفِ حق‘‘ کو معاصر سماجی و فکری مباحث کا اہم مجموعہ قرار دیا۔حقانی القاسمی نے کہا کہ پروفیسر اخترالواسع کی شخصیت علم، رواداری اور تہذیبی شعور کی نمائندہ شخصیت ہے۔












