واشنگٹن(ہ س)۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اگلے ہفتے غزہ میں جنگ بندی کے حصول کی امید رکھتے ہیں اور اس مقصد کے لیے وہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو کے ساتھ سخت مؤقف اپنائیں گے۔ٹرمپ نے کہا کہ ان کی نیتن یاھو کے ساتھ آئندہ پیر کو واشنگٹن کے وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات میں غزہ اور ایران دونوں موضوعات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔انہوں نے یہ بیان فلوریڈا کے ایورگلیڈز میں واقع ایک امیگریشن حراستی مرکز کے دورے کے لیے روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دیا۔دوسری جانب نیتن یاھو نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ اگلے ہفتے واشنگٹن روانہ ہوں گے جہاں ان کی صدر ٹرمپ سمیت دیگر اعلیٰ امریکی حکام سے ملاقاتیں ہوں گی۔ یہ دورہ غزہ کی جنگ کے مستقبل اور مشرق وسطیٰ میں امن معاہدوں کی توسیع کے تناظر میں اہم تصور کیا جا رہا ہے۔اسی دوران اسرائیلی افواج نے شمالی اور جنوبی غزہ پر شدید فضائی اور توپ خانے کے حملے کیے ہیں، جن میں کئی رہائشی عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں۔ اس وقت بنجمن نیتن یاھو کے ایک قریبی مشیر واشنگٹن میں موجود ہیں، جہاں جنگ بندی کے ممکنہ امکانات پر بات چیت جاری ہے۔مقامی رہائشیوں کے مطابق، اسرائیل کی جانب سے نئے انخلا کے انتباہات جاری کیے جانے کے بعد ہزاروں افراد نے ایک بار پھر اپنے گھروں سے نقل مکانی کی، جبکہ اسرائیلی ٹینک شمالی غزہ کے مشرقی علاقوں، خان یونس اور رفح میں داخل ہو چکے ہیں۔مقامی طبی حکام نے تصدیق کی ہے کہ تازہ ترین حملوں میں کم از کم 20 فلسطینی جاں بحق ہوئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، غزہ شہر کے الشجاعیہ اور الزیتون محلوں کے علاوہ مشرقی خان یونس اور رفح میں متعدد مکانات ملبے کا ڈھیر بن گئے۔ادھر، وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے پیر کی شب ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ اسرائیلی وزیر برائے اسٹریٹجک امور، رون ڈرمر—جو نیتن یاھو کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں اس ہفتے واشنگٹن میں امریکی حکام سے ملاقاتوں میں مصروف ہیں۔ایک اسرائیلی عہدیدار نے بتایا کہ رون ڈرمر مشرق وسطیٰ میں اسرائیل-ایران حالیہ 12 روزہ جنگ کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال اور غزہ جنگ کے خاتمے سے متعلق علاقائی سفارتی امکانات پر گفتگو کریں گے۔امریکی حکام کے مطابق، بنجمن نیتن یاھو اور صدر ٹرمپ کے درمیان ملاقات پیر 7 جولائی کو طے ہے، جس میں ایران، غزہ، شام اور دیگر علاقائی چیلنجز زیر بحث آئیں گے۔ادھر حماس کے سینئر رہنما سامی ابو زہری نے کہا ہے کہ ٹرمپ کی طرف سے اسرائیل پر ڈالا جانے والا دباؤ جنگ بندی کی کوششوں میں پیش رفت کا سبب بن سکتا ہے۔انہوں نے مزید کہاکہ "ہم امریکی انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ غزہ پر مسلط کی گئی جنگ کے خاتمے کا اعلان کرکے اپنی سابقہ پالیسیوں کی تلافی کرے۔ حماس کو جھکانے پر انحصار ایک خام خیالی ہے، اصل حل ایک معاہدہ ہے اور حماس اس کے لیے تیار ہے”۔رواں سال کے آغاز میں چھ ہفتے تک جاری رہنے والی عارضی جنگ بندی کے بعد مذاکرات تعطل کا شکار ہو چکے ہیں۔فلسطینی اور مصری ذرائع کے مطابق، قطر اور مصر، جو اس تنازعے میں ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں، فریقین کے درمیان رابطے بڑھا رہے ہیں، تاہم کسی نئی بات چیت کی تاریخ تاحال طے نہیں ہو سکی۔حماس کا کہنا ہے کہ وہ باقی تمام اسرائیلی قیدیوں کو صرف اس صورت میں رہا کرے گی جب یہ ایک ایسے معاہدے کا حصہ ہو گا جو جنگ کے خاتمے کا ضامن ہو۔ اسرائیل کا مؤقف ہے کہ جنگ کا اختتام حماس کے ہتھیار ڈالنے اور غزہ کی حکمرانی سے دستبرداری سے مشروط ہے۔غزہ میں جنگ کا آغاز 7 اکتوبر 2023 کو ہوا تھا، جب حماس کے جنگجو اسرائیل میں داخل ہوئے۔ اسرائیلی اعداد و شمار کے مطابق، اس حملے میں 1200 افراد ہلاک اور 251 افراد کو یرغمال بنا کر غزہ منتقل کیا گیا۔اس کے بعد اسرائیل کے وسیع فوجی حملے میں غزہ کی وزارت صحت کے مطابق 56 ہزار سے زائد فلسطینی، جن میں اکثریت عام شہریوں کی تھی، جاں بحق ہو چکے ہیں۔ لگ بھگ 23 لاکھ کی پوری آبادی بے گھر ہو چکی ہے اور غزہ ایک شدید انسانی بحران سے دوچار ہے۔












