دیش کی امیدوں کو پورا کرے گا بہار :شنکر اچاریہ ادھوکشجا نند
انصاف کے ساتھ ترقی کے علمبردار ہیں وزیر اعلیٰ نتیش کمار،خالد انور جیسے سیاستداں کی ضرورت ہے بہار کو
– ایم ایل سی ڈاکٹر خالد انور کی رہائشگاہ پر شری ادھوکشجا نند مہاراج کا پرتپاک استقبال
ممتازعالم رضوی
پٹنہ،15 دسمبر، سماج نیوز سروس: ملک کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو تباہ و برباد کر نے کا خواب دیکھنے والوں کے منھ پر زور طمانچہ مارتے ہوئے جگد گرو شنکر اچاریہ ادھوکشجا نند مہاراج( گوردھن پیٹھ اتر پر دیش )نے کہا کہ دیش گنگا جمنی تہذیب سے ہی وکاس کرے گا اور بہار سے اس تعلق سے بڑی امیدیں ہیں ۔ کیو ںکہ یہاں ’’وکاس پروش ‘‘ نتیش کمار بہترین کام کر رہے ہیں اور سب کو لے کر آگے بڑھ رہے ہیں ۔آج نیپال جانے کے دوران جے ڈی یو کے ایم ایل سی ڈاکٹر خالد انور کی رہائشگاہ پر شنکر اچاریہ جی کا پرتپاک استقبال کیا گیا ۔ اس موقع پر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے سینئر رکن مولانا محمد ابو طالب رحمانی کے علاوہ کئی دیگر اہم شرکت کی ۔ اس کے ساتھ ڈاکٹر خالد انور کی رہائشگاہ پر ریاستی وزیر بہار حکومت شرون کمار بھی تشریف لائے، ان کابھی گرمجوشی سے استقبال کیا گیا۔

شنکر اچاریہ جی نے اپنے خطاب میں کہا کہ نتیش کمار بطور وزیر اعلیٰ بہار صوبے کا بہت وکاس کر رہے ہیں۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ بہار پہلے کے مقابلے کافی اچھا ہو گیا ہے ۔ وہ مذہبی کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کر کے حصہ لے رہے ہیں۔ وہ بھائی چارہ کو بھی بڑھاوا دے رہے ہیں۔ اس لئے میں یہ بات کہہ رہا ہوں کہ بہار سے ایک بڑا سندیش پورے بھارت کو جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں چاہوں گا کہ مستقبل میں بھی یہ سلسلہ جاری رہے اور خالد انور جیسے سیاستداں مضبوطی کے ساتھ آگے بڑھیں۔ ہم جیسے سادھو سنتوں کا ان کے ساتھ بھر پور تعاون ہے۔
انہوں نے کہا کہ مجھے نیپال سیتا ویواہ کے ایک پرو گرام میں شرکت کر نے کے لئے جانا تھا ۔ چنانچہ پٹنہ میں ڈاکٹر خالد انور کے ذریعہ مجھے دعوت دی گئی اور مجھے ان کی رہائشگاہ پر آ کر بہت خوشی ہوئی ہے۔ کیو ںکہ یہاں صحیح معنوں میں ہندوستانی تہذیب نظر آ رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ خالد انور جیسے لوگ سیاست میں روشن مستقبل کی علامت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں ان کے روشن مستقبل کیلئے آشرواد دیتا ہوں۔ اس موقع پر مولانا ابو طالب رحمانی نے کہا کہ بھارت گنگا جمنی تہذیب کی علامت ہے ۔ اس سرزمین پر ہمیشہ سادھو سنتوں اور صوفیائے کرام نے پیار و محبت کا پیغام دیا ہے ۔ اور اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ آج ہمارے درمیان شنکر اچاریہ جیسی شخصیت تشریف فرما ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کچھ طاقتیں اس ہماری ایکتا، بھائی چارہ اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو پارہ پارہ کرنا چاہتی ہیں۔ لیکن ایسا نہیں ہو گا۔ کیوں کہ بھارت کی سرزمین ایسی ہے ، یہاں کی مٹی ایسی ہے جہاں سے صرف پیار ہی پیار پھلتا پھولتا ہے ۔ انہوں نے ڈاکٹر خالد انور کی اس بات کیلئے ستائش کی کہ انہوں نے شنکر اچاریہ جیسی شخصیت کو اپنی رہائشگاہ پر مدعو کیا اور ان کا شایان شان استقبال کیا۔ مولانا رحمانی نے کہا کہ اس نیک قدم کیلئے ڈاکٹر خالد انور کی خدمت میں مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
اس موقع پر مہمانوں کا استقبال کر تے ہوئے ڈاکٹر خالد انور نے کہا کہ یقینا یہ ہمارے لئے بہت ہی خوش آئند ہے کہ ہماری مختصر سی دعوت پر شنکر اچاریہ جی ہمارے یہاں تشریف لائے اور ہمیں دعائوں سے نوازہ۔ انہوں نے کہا کہ در اصل یہی ہماری تہذیب ہے اور یہی ہمارے خوبصورت معاشرے کی روح ہے۔ اس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ کیوں کہ اچھی اور روشن سیاست کے لئے اس قسم کی روحانیت ضروری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بھائی چارہ اور محبت کا یہ کارواں اسی طرح مستقبل میں بھی جاری و ساری رہے گا ۔












