لندن (ہ س)۔برطانیہ کی لبرل ڈیموکریٹ لیلیٰ موران نے برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بلاشبہ برطانیہ کے وزیروں نے حال ہی میں اسرائیل کے بارے میں تنقیدی لہجے میں بیانات دیے ہیں۔ تاہم اس تنقیدی لہجے کو عملی شکل دینے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے ایک بامعنی اور ٹھوس پالیسی کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا اسرائیل کے خلاف سخت بیانات اور بیانیہ اپنی جگہ لیکن یہ کافی نہیں ہے۔ اب کچھ نظر آنے والے اقدامات بھی کرنے چاہییں۔ کیونکہ غزہ کے فلسطینی عوام ناقابل برداشت صورت حال سے دوچار ہیں۔لبرل ڈیموکریٹ سیاستدان لیلیٰ موران کے اس مطالبے کو گارڈیئن نے بھی اتوار کے روز شائع کیا ہے۔انہوں نے کہا ‘ میں اب بھی پریشان ہوں اگرچہ وزیروں نے بدلے ہوئے الفاظ اور لہجے میں بیانات دیے ہیں۔ لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ عملی اقدام کیے جائیں۔ان کے یہ خیالات اس وقت سامنے آئے ہیں جب اسرائیل نے غزہ میں فوجی نفری میں اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ غزہ کے فلسطینیوں کے لیے امدادی سامان، خوراک و ادویات کی ترسیل بھی روک دی ہے۔ نیز اسرائیل کو عالمی برادری کی جانب سے اس عملداری پر دباؤ کا سامنا ہے۔خیال رہے ہمیش فالکونر وزیر برائے مشرق وسطیٰ نے بدھ کے روز اسرائیل کی طرف سے غزہ میں ناکہ بندی کیے جانے کو ظالمانہ اور ناقابل دفاع قرار دیا ہے۔ڈیوڈ لیمی نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ برطانیہ فرانس و سعودی عرب کے ساتھ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے سے متعلق ڈسکشنز کر رہا ہے۔ یہ ڈسکشنز ماہ جون میں پیرس میں ہونے والی انٹرنیشنل کانفرنس سے متعلق ہیں۔موران نے کہا برطانیہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے طرف بڑھ رہا ہے۔ اس سلسلے میں فلسطینیوں کا تحفظ کیا جائے گا اور اسرائیل کو واضح سگنل ملے گا کہ اس کے عمل کے اثرات ہوں گے۔












