بیجنگ۔ ایم این این۔مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران چین اگرچہ ایران کا ایک اہم سفارتی اور اقتصادی شراکت دار ہے، تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بیجنگ ایران کو بڑے پیمانے پر ہتھیار فراہم کرنے سے گریز کر رہا ہے تاکہ امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات اور وسیع تر معاشی مفادات کو نقصان سے بچایا جا سکے۔ماہرین کے مطابق چین کی خارجہ پالیسی کا بنیادی مقصد اپنے تجارتی مفادات، عالمی منڈیوں تک رسائی اور امریکہ کے ساتھ تعلقات میں استحکام برقرار رکھنا ہے۔ ایسے میں ایران کو کھل کر عسکری مدد فراہم کرنا بیجنگ کے لیے سفارتی اور اقتصادی خطرات پیدا کر سکتا ہے۔حالیہ سفارتی پیش رفت میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگنے اس بات پر اتفاق ظاہر کیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے اور آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے کھلی رہنی چاہیے۔ رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ شینے یقین دہانی کرائی کہ چین ایران کو ہتھیار فراہم نہیں کرے گا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین ایک جانب ایران سے توانائی کے شعبے میں قریبی روابط برقرار رکھنا چاہتا ہے، جبکہ دوسری جانب وہ امریکہ اور یورپی منڈیوں تک اپنی رسائی اور عالمی تجارتی مفادات کو خطرے میں نہیں ڈال سکتا۔ اسی لیے بیجنگ عمومی طور پر سفارتی حمایت اور اقتصادی تعاون کو ترجیح دیتا ہے، لیکن براہ راست عسکری امداد سے احتراز کرتا ہے۔چین کے لیے ایک اور اہم مسئلہ آبنائے ہرمز ہے، جہاں سے اس کی تیل کی درآمدات کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ خطے میں عدم استحکام یا امریکہ کے ساتھ محاذ آرائی چین کی توانائی سلامتی کے لیے سنگین چیلنج بن سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بیجنگ کشیدگی میں کمی، جنگ بندی اور سمندری راستوں کے کھلے رہنے پر زور دے رہا ہے۔












