راجستھان کے انچارج سکریٹری سکھوندر سنگھ رندھاوا نے جائزہ میٹنگ کے بعد کہا ہمارا پہلے کے مقابلہ ووٹ فیصد بڑھا ہے ، کئی سیٹیں بہت کم ووٹوں سے ہم ہارے ہیں ، 24؍کے لیے تیار ہیں
ممتاز عالم رضوی
نئی دہلی :اسمبلی انتخابات میں ملی ناکامی میں بھی کانگریس کے انچارج کامیابی تلاش کر رہے ہیں اور عام انتخابات 2024؍کے لیے پوری قوت کے ساتھ اٹھ کھڑے ہونے کا عزم ظاہر کر رہے ہیں ۔ حالانکہ ان کے سامنے بڑا سوال یہ پیدا ہو گیا ہے کہ کیا یہ اپنے عہدے سے مستعفی ہوں گے یا نہیں ؟ جائزہ میٹنگ کے بعد راجستھان کانگریس کے انچارج سکریٹری اے آئی سی سی سکھوندر سنگھ رندھاوا نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہماری کافی دیر تک راہل گاندھی،ملکاارجن کھڑگے ، کے سی وینو گوپال ،اشوک گہلوت ، سچن پائلٹ ، بھنور جی وغیرہ سے میٹنگ میں بات چیت ہوئی ۔ میٹنگ کافی دیر تک چلی ۔ انھوں نے کہا کہ ہمارا جو ووٹ شیئر تھا اس کا فرق بی جے پی سے کم ہے اور بہت سے امیدوار ہمارے بہت کم ووٹوں سے ہارے ہیں ۔ایسے امیدوار بھی ہیں جن کا فرق 1500؍سے بھی کم ہے ۔ان سب پر چرچا ہوئی اور ساتھ ہی ہم نے آج سے ہی ان کو بول دیا ہے کہ ہم پارلیمنٹ کی تیاری کریں گے اور جہاں جہاں ہماری خامی رہ گئی ہے ، کمیاں رہ گئی ہیں ان کو پورا کریں گے اور متحد ہوکر الیکشن لڑیں گے ۔مسٹر رندھاوا نے کہا کہ سابقہ جو الیکشن ہے وہ آپ دیکھ ہی رہے ہیں کہ پوری کانگریس متحد تھی اور ایک آواز میں پوری کانگریس نے الیکشن لڑا ۔ہمارے جو بوتھ لیول یا بلاک صدور تھے یا دوسرے بلاک صدور تھے ، ضلعی صدور تھے انھوں نے خوب کام کیا ۔کانگریس کے ورکرس نے بھی خوب محنت کی ،اس کے لیے ہم ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور جو ہمارے لیڈر صاحبان ہیں انھوں نے بھی کہا ہے کہ جو پارلیمنٹ کا الیکشن ہے اس کی آج سے ہی تیاری کرنی چاہئے اور ہمیں فائٹ کرنی ہے اور لوگوں کو بتانا ہے کہ ہمیں جیت کر آنا ہے۔استعفیٰ کے سوال پر مسٹر رندھاو ا نے کہا کہ دیکھئے ہم نے ان کو کہا کہ جو ہیں ، وہ کر دیں گے۔انھوں نے کہا کہ راجستھان میں بہت اچھی کارکردگی رہی ہے باقی ریاستوں کے مقابلہ ہم دیکھ سکتے ہیں ۔آپ نے دیکھا ہے کہ کبھی بھی بہت دیر بعد کانگریس اتنی سیٹوں پر پہنچی ہے اور ووٹ شیئر ہمارا ڈاون نہیں آیا ہے ، ہم آدھا ، میرے خیال سے 0.44؍فیصد پہلے سے آگے بڑھے ہیں ۔تووہاں جو الیکشن تھا اس کے بارے میں ہم نے بات کی اور دیکھئے میں تو یہی چاہتا ہوں ، میں نے تو پہلے بھی کئی مرتبہ کہا تھا کہ میں اسمبلی تک یہیں رہنا چاہتا ہوں اس کے بعدمجھے پنجاب میں بھی جاکر واپس کام کرنا ہے ۔ تو جو انچارج ہوتے ہیں ، صدر ہوتے ہیں ، سی ایم ہوتے ان کا کام ہے الیکشن لڑنا اور وہاں ہم پتہ نہیں کیسے پیچھے رہ گئے ، اس کے بارے میں بھی ہم سوچیں گے کہ کیوں رہے ۔اور اتنے کم ووٹوں پر کئی امیدوار ہمارے جو ہارے ہیں ان کے اوپر بھی ہم چرچا کریں گے ۔
mumtazshalam@gmail.com
9899775906












