نئی دہلی،سماج نیوز سروس: عام آدمی پارٹی کے سینئر لیڈر اور راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ نے ایک پرائیویٹ اسکول میں تین سالہ معصوم بچی کے ساتھ ریپ اور چلتی بس میں خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے معاملے پر وزیر اعظم نریندر مودی پر سخت حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ مودی جی کے بیٹی بچاؤ، ناری وندن نعرے کی حقیقت یہ ہے کہ دہلی میں بیٹیاں محفوظ نہیں ہیں۔ ایک پرائیویٹ اسکول میں تین سال کی بچی کے ساتھ درندگی ہوئی اور چلتی بس میں خاتون کے ساتھ گینگ ریپ ہوا۔ وزیر اعظم، وزیر داخلہ، ایل جی اور پولیس کمشنر کہاں سو رہے ہیں؟ جب سوربھ بھاردواج سمیت آپ لیڈر پوکسو ایکٹ کے معاملے میں درندے کو ضمانت ملنے پر ایل جی سے جواب مانگنے پہنچے تو انہیں گھسیٹ کر حراست میں لے لیا گیا۔ میں ملاقات کے لیے ایل جی کو خط لکھوں گا۔ اگر ملاقات کا وقت نہیں دیا گیا تب بھی ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ جمعرات کو آپ ہیڈکوارٹر میں ریاستی صدر سوربھ بھاردواج، رکن اسمبلی کلدیپ کمار کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سنجے سنگھ نے کہا کہ ملک کی راجدھانی دہلی کی قانون و انتظام کی ذمہ داری وزیر اعظم نریندر مودی، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر کے پاس ہے۔ اسی راجدھانی میں 30 اپریل کو انسانیت کو شرمسار کرنے والی درندگی کا ایک واقعہ پیش آیا۔ ایک ماں اپنی تین سالہ معصوم بچی کو جنک پوری کے ایک پرائیویٹ اسکول میں تعلیم کے لیے چھوڑ کر آتی ہے، یہ سوچ کر کہ اس کی بچی کو وہاں تعلیم ملے گی۔ لیکن اسکول کے اندر بچی کی کلاس ٹیچر اسے نیچے بیسمنٹ میں لے جاتی ہے، جہاں اسکول کی دیکھ بھال کرنے والا للت کمار اسی ٹیچر کے سامنے بچی کے ساتھ ریپ کرتا ہے۔ سنجے سنگھ نے بتایا کہ وہ بچی خون میں لت پت حالت میں گھر واپس آئی۔ جب بچی کی ماں کو اس واقعے کی جانکاری ہوئی تو وہ تھانے گئی، لیکن تھانے کے ایس ایچ او نے انہیں پورا وقت بٹھائے رکھا۔ جب ماں بچی کے ساتھ ریپ کی شکایت لے کر تھانے پہنچی تو امت شاہ اور ایل جی صاحب کی دہلی پولیس نے ماں اور بچی دونوں کو تھانے میں بٹھا لیا۔ ماں کے مطابق، ڈی سی پی نے معاملے کو دبانے کے لیے خاندان پر دباؤ بنایا۔












