مسلمانوں کی ایک عجیب نفسیات بن چکی ہے۔
ہمیں اپنی ہر ناکامی کے پیچھے کوئی نہ کوئی دشمن ضرور نظر آتا ہے۔ کبھی حکومتوں پر غصہ، کبھی میڈیا پر شکوہ، کبھی زمانے کی بے وفائی کا ماتم، اور کبھی سازشوں کا شور۔ مگر شاید ہم نے برسوں سے اپنے گریبان میں جھانکنے کی زحمت نہیں کی۔ ہم نے کبھی رک کر خود سے یہ سوال نہیں کیا کہ ’’آخر ہماری تباہی میں ہمارا اپنا کتنا حصہ ہے؟‘‘
یہ سوال تلخ ضرور ہے، مگر ضروری بھی ہے۔
کیونکہ بعض قومیں دشمنوں کی تلوار سے پہلے اپنے کردار کے زوال سے ٹوٹا کرتی ہیں۔ اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج ہمارا حال بھی کچھ ایسا ہی دکھائی دیتا ہے۔ زبان پر اسلام، لباس پر اسلام، نام کے ساتھ “محمد” بھی موجود، مگر معاملات میں اسلام کہیں راستہ بھول چکا ہے۔
حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک شادی کی ویڈیو وائرل ہوئی۔ ویڈیو میں مذہبی وضع قطع رکھنے والے افراد بڑے فخر کے ساتھ اعلان کر رہے تھے کہ دولہے کو “ایک کروڑ ایک لاکھ گیارہ ہزار” روپے نقد دیے جا رہے ہیں، ساتھ میں ایک BMW گاڑی بھی۔ بیچولیے کے لیے الگ سے “تھار” گاڑی کا اعلان کیا گیا۔ اسٹیج پر ماحول ایسا تھا جیسے کوئی نکاح کی مجلس نہیں بلکہ کسی بڑی کاروباری کمپنی کی ڈیل فائنل ہو رہی ہو۔
دلچسپ بات یہ تھی کہ اعلان کرنے والوں کے چہروں پر عجیب قسم کا فخر تھا۔ حاضرین خوشی سے مسکرا رہے تھے۔ ویڈیو بنانے والے اسے ’’شان‘‘ سمجھ کر سوشل میڈیا پر پھیلا رہے تھے۔ اور سوشل میڈیا، جو پہلے ہی دکھاوے کا سب سے بڑا بازار بن چکا ہے، وہ حسبِ معمول تالیاں بجا رہا تھا۔
لیکن سوال یہ ہے کہ اس سارے منظر میں اسلام کہاں کھڑا تھا؟
وہ اسلام جس نے نکاح کو آسان بنایا…
وہ اسلام جس نے سادگی کو برکت کہا…
وہ اسلام جس کے نبی ﷺ نے اپنی بیٹیوں کے نکاح انتہائی سادگی کے ساتھ کیے…
وہ اسلام جو بیٹی کو رحمت کہتا ہے، بوجھ نہیں…
آخر وہ اسلام اس اسٹیج کے کس کونے میں خاموش کھڑا آنسو بہا رہا تھا؟
اصل مسئلہ یہ نہیں کہ کسی امیر آدمی نے اپنی دولت خرچ کر دی۔ امیر خرچ کرے، یہ اس کا ذاتی معاملہ ہے۔ مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جب اسراف کو ’’اعزاز‘‘، فضول خرچی کو ’’اسٹیٹس‘‘، اور جہیز کو ’’شرافت‘‘ بنا دیا جائے۔ مسئلہ وہاں شروع ہوتا ہے جب دولت کی نمائش کو دینداری کے لباس میں پیش کیا جائے۔
اور اس سے بھی بڑا المیہ یہ ہے کہ یہ سب کچھ اس معاشرے میں ہو رہا ہے جہاں ہزاروں غریب باپ اپنی بیٹیوں کی شادی کے لیے پریشان ہیں۔ کوئی قرض لے رہا ہے، کوئی زیور بیچ رہا ہے، کوئی اپنی عزت گروی رکھ رہا ہے۔ کتنی بچیاں صرف اس لیے گھروں میں بیٹھی ہیں کہ ان کے والدین “معاشرتی معیار” پورا نہیں کر پا رہے۔
ایک غریب مزدور سے پوچھئے جس کی تین بیٹیاں جوان ہیں اور جیب میں تین ہزار روپے بھی نہیں۔
اس کے لیے ایسی ویڈیوز صرف ویڈیوز نہیں ہوتیں، زندہ زخم ہوتی ہیں۔
افسوس تو اس بات کا ہے کہ اب گناہوں پر شرمندگی بھی باقی نہیں رہی۔ پہلے لوگ غلط کام کرتے تھے تو کم از کم چھپ کر کرتے تھے۔ اب لوگ اپنی فضول خرچی، اپنی نمائش اور اپنی غیر اسلامی رسموں کو فخر کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ اب ’’دکھاوا‘‘ عبادت اور ’’سادگی‘‘ شرمندگی بن گئی ہے۔آج شادیوں میں نکاح کم اور نمائش زیادہ ہو رہی ہے۔ رشتے کم اور ریٹ زیادہ طے ہو رہے ہیں۔
دولہا اب انسان کم اور ’’پیکیج‘‘ زیادہ بن چکا ہے۔کہیں گاڑی شرط ہے، کہیں فلیٹ ضروری ہے، کہیں سونے کا وزن ایمان سے زیادہ قیمتی ہو چکا ہے۔اور عجیب بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ وہ قوم کر رہی ہے جو ہر جلسے میں ’’اسلام خطرے میں ہے‘‘ کے نعرے بھی لگاتی ہے۔سچ تو یہ ہے کہ اسلام باہر سے کم، اندر سے زیادہ زخمی ہے۔
اسلام کو دشمنوں سے پہلے اپنے ماننے والوں کے رویّوں نے نقصان پہنچایا ہے۔ہمیں دوسروں کی سازشیں فوراً نظر آ جاتی ہیں، مگر اپنی رسمیں نہیں دکھتیں۔ہمیں میڈیا کی نفرت دکھائی دیتی ہے، مگر اپنے گھروں کی فضول نمائش نظر نہیں آتی۔ہمیں تعلیمی پسماندگی پر غصہ آتا ہے، مگر شادیوں میں لٹنے والے کروڑوں پر افسوس نہیں ہوتا۔یہ کیسا عجیب حساب ہے؟ایک طرف قوم کے نوجوان بے روزگار ہیں، دوسری طرف شادیوں میں نوٹوں کی بارش ہو رہی ہے۔ایک طرف بچیاں جہیز نہ ہونے کی وجہ سے بیٹھی ہیں، دوسری طرف جہیز کے اسٹیج پر مذہبی لباس میں ’’اعلانِ فخر‘‘ جاری ہے۔
اور پھر ہم پوچھتے ہیں کہ ’’مسلمانوں کے حالات ایسے کیوں ہیں؟‘‘
جن قوموں میں سادگی مذاق اور نمود عزت بن جائے، وہاں برکتیں آہستہ آہستہ رخصت ہو جایا کرتی ہیں۔اسلام نے مال کمانے سے نہیں روکا، لیکن مال کے نشے سے ضرور روکا ہے۔ اسلام نے خوشی منانے سے منع نہیں کیا، مگر خوشی کے نام پر غریبوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کی اجازت بھی نہیں دی۔
سوچئے!
ایک نوجوان جو صرف غربت کی وجہ سے شادی نہیں کر پا رہا، جب وہ ’’ایک کروڑ ایک لاکھ گیارہ ہزار‘‘ کا اعلان سنتا ہوگا تو اس کے دل پر کیا گزرتی ہوگی؟
ایک بیوہ ماں جس نے بیٹی کی شادی کے لیے اپنا زیور بیچ دیا، وہ یہ منظر دیکھ کر کیا محسوس کرتی ہوگی؟شاید اب احساس بھی امیروں کی چیز بن چکا ہے۔آج ہمارے معاشرے میں عجیب دوغلا پن پیدا ہو گیا ہے۔ہم تقریروں میں سادگی کی بات کرتے ہیں، مگر عملی زندگی میں نمود و نمائش کے غلام بن چکے ہیں۔ہم اسٹیج سے سود کے خلاف بولتے ہیں، مگر شادیوں میں ایسا خرچ کرتے ہیں جس کے لیے لوگ قرضوں میں ڈوب جاتے ہیں۔
ہم اپنی اولاد کو قرآن تو پڑھاتے ہیں، مگر ان کے ذہن میں ’’اسٹیٹس‘‘کا بت بھی خود ہی بٹھاتے ہیں۔
اسلام نے نکاح کو آسان بنایا تھا تاکہ معاشرہ پاکیزہ رہے۔ مگر ہم نے نکاح کو اتنا مشکل بنا دیا کہ بے حیائی آسان ہو گئی۔
آج ایک نوجوان کے لیے حلال راستہ اختیار کرنا مشکل اور گناہ کے راستے کھلے ہوئے ہیں۔پھر ہم حیران ہوتے ہیں کہ معاشرے میں بے سکونی کیوں بڑھ رہی ہے۔اصل بیماری صرف جہیز نہیں، ذہنیت ہے۔ہم نے عزت کو دولت کے ساتھ جوڑ دیا ہے۔اب اچھا انسان وہ نہیں جس کا کردار اچھا ہو، بلکہ وہ ہے جس کی شادی میں زیادہ لائٹس ہوں، زیادہ گاڑیاں ہوں اور زیادہ نوٹ اڑائے جائیں۔یہی وہ سوچ ہے جو قوموں کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ کی مدد صرف نعروں سے نہیں آتی۔قومیں صرف جذباتی تقریروں سے نہیں بدل جاتیں۔اللہ اس قوم کی حالت نہیں بدلتا جو خود اپنی حالت بدلنے کے لیے تیار نہ ہو۔
اگر آج مسلمان ذلت، بے سکونی اور انتشار کا شکار ہیں تو اس میں یقیناً بیرونی عوامل بھی ہوں گے، لیکن یہ کہنا کہ ہم بالکل بے قصور ہیں، خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔ہم نے دین کو رسموں کے نیچے دفن کر دیا۔ہم نے سنت کو “پرانا طریقہ” سمجھ لیا۔ہم نے سادگی چھوڑ کر دکھاوے کو اپنایا۔پھر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری زندگیوں میں سکون بھی رہے اور برکت بھی۔یہ ممکن نہیں۔
آج اگر مسلمان اپنے حالات پر سنجیدگی سے غور کریں تو ایک حقیقت آئینے کی طرح صاف نظر آئے گی کہ ہماری بہت سی پریشانیوں کی جڑ باہر نہیں، ہمارے اپنے اندر موجود ہے۔ ہم نے دین کو رسموں میں، سنت کو تقریروں میں، اور سادگی کو کتابوں تک محدود کر دیا ہے۔ ہماری زندگیاں اسلام کے نام سے ضرور جڑی ہوئی ہیں، مگر ہمارے معاشرتی رویّے اکثر اسلام کی تعلیمات کے بالکل برعکس دکھائی دیتے ہیں۔












