نئی دہلی، (یو این آئی) ہندوستان میں 2030 کامن ویلتھ گیمز کے انعقاد کے ساتھ تیراندازی جیسے اہم کھیل کی واپسی کی امیدیں بڑھ گئی ہیں۔ ایلیٹ ہندوستانی ریکرو تیرانداز دیپیکا کماری اور ترون دیپ رائے نے اس بات پر امید ظاہر کی ہے کہ احمد آباد میں ہونے والے ان کھیلوں میں آرچری کو دوبارہ شامل کیا جائے گا۔2030 کے کامن ویلتھ گیمز گجرات کے شہر احمد آباد میں منعقد ہوں گے، اور توقع ہے کہ ان کا پروگرام 2026 گلاسگو ایڈیشن کے مقابلے میں زیادہ وسیع ہوگا۔ شوٹنگ، کشتی، بیڈمنٹن اور تیراندازی جیسے کھیل، جو ماضی میں ہندوستان کے لیے تمغوں کا بڑا ذریعہ رہے ہیں، دوبارہ شامل کیے جا سکتے ہیں۔دیپیکا کماری، جنہوں نے 2010 دہلی کامن ویلتھ گیمز میں خواتین انفرادی ریکرو میں سونے کا تمغہ جیتا تھا، نے کہا کہ اس کامیابی نے نہ صرف ان کے کیریئر بلکہ ہندوستان میں تیراندازی کی مقبولیت کو بھی نئی بلندی دی۔ انہوں نے کہا کہ 2030 کے کھیل پہلے سے بھی بڑے اور بہتر ہو سکتے ہیں اور امید ہے کہ تیراندازی کی واپسی ہوگی۔ترون دیپ رائے، جو 2010 میں مردوں کے ریکرو ٹیم ایونٹ میں کانسی کا تمغہ جیت چکے ہیں، نے کہا کہ بڑے کھیلوں کی میزبانی سے بنیادی سطح پر کھیلوں کو فروغ ملتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 2010 کے بعد ہندوستان میں تیراندازوں کی تعداد تقریباً 400 سے بڑھ کر 30 ہزار سے زیادہ ہو گئی ہے، جو اس کھیل کی ترقی کا واضح ثبوت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر ہندوستان ہر پانچ یا دس سال میں اس نوعیت کے بڑے مقابلوں کی میزبانی کرے تو اس سے اسپورٹس ایکو سسٹم میں نمایاں بہتری آئے گی اور نوجوان کھلاڑی کھیل کو بطور پیشہ اپنانے کی طرف راغب ہوں گے۔ اولمپین جینت نے بھی اس بات پر اعتماد ظاہر کیا کہ 2030 میں میزبان ہونے کے باعث ہندوستانی کھلاڑیوں کی کارکردگی مزید بہتر ہوگی، کیونکہ ہوم گراؤنڈ پر کھیلنے سے حوصلہ افزائی اور جذبہ دونوں بڑھ جاتے ہیں۔












