باباباگیشور دھام کےآشیروادکااثر
کمل ناتھ کی بے لگام سیاست کوکانگریس اعلی کمان کی لگام
کانگریس صدر ملکاارجن کھڑگے نے راہل گاندھی کے قریبی جیتو پٹواری کو مدھیہ پردیش کانگریس کی کمان دے کرکمل ناتھ کو پوری طرح سے کیا خاموش ، عام انتخابات 2024؍میں کیا ملے گی کوئی ذمہ داری ؟ پکچر ابھی باقی ہے
ممتاز عالم رضوی
نئی دہلی :ہندو راشٹر بنانے کی مہم چلانے والے بابا باگیشور دھام سے سجدہ ریز ہوکر’ آشیرواد‘ لینے والے مدھیہ پردیش کانگریس کے صدر اور سابق وزیر اعلی کمل ناتھ کی سیاست کا اختتام ہو گیا۔ایسا لگ رہا ہے کمل ناتھ کی بے لگام سیاست کو کانگریس اعلی کمان نے لگام دے دی ہے۔کمل ناتھ کی من مانی کی وجہ سے اسمبلی انتخابات میں کانگریس کو زبردست شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔ اور یہ اس وقت ہوا کہ جب کمل ناتھ نے بی جے پی کی طرح پوری طرح سے ہندوتوا کارڈ کھیلنے کی کوشش کی ۔ خود کو ہنومان بھگت قرار دیا ۔ یہی نہیں بلکہ انڈیا اتحاد کو مدھیہ پردیش میں آنے کی اجازت نہیں دی تھی اور اکھلیش یادو کے ساتھ اتحاد کرنے سے بھی انکار کر دیا تھا۔ دعویٰ یہ تھا کہ وہ اس مرتبہ کم از کم 230؍میں سے قریب 150؍سیٹ جیت کر حکومت بنائیں گے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ بلکہ اس کےالٹ ہی ہو گیا ۔ علاوہ ازیں کانگریس کے صدر ملکا ارجن کھڑگے نے مدھیہ پردیش کانگریس کی کمان ایک ایسے نوجوان لیڈر کے ہاتھوں میں سونپی ہے جو کسی کے خیمے کا نہیںہے ۔ یعنی نہ دگ وجے سنگھ اور نہ ہی کمل ناتھ ۔ اس طرح دیکھا جائے تو کمل ناتھ کے ساتھ ساتھ دگ وجے سنگھ کی سیاست کو بھی ایک بڑا دھچکا ہے ۔غور طلب بات یہ ہے کہ مدھیہ پردیش کانگریس کی کمان سنبھالنے والے جیتو پٹواری کو کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی کا قریبی بتایا جا رہا ہے۔جیتو پٹواری اس مرتبہ اپنا الیکشن بھی نہیں جیت سکے لیکن باوجود اس کے کانگریس اعلی کمان نے ان پر اعتماد ظاہر کیا ہے۔ مدھیہ پردیش کانگریس میں یہ تبدیلی اس وقت آئی ہے کہ جب بی جے پی کی جانب سے وزیر اعلی نے حلف لے لیا ہے ۔کہنے کا مقصد یہ ہے کہ بی جے پی کی طرح کانگریس بھی اب ذات کی بنیاد پر ووٹ بینک کو سادھنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ علاوہ ازیں جیتو پٹواری کی عمر ابھی صرف 50؍سال ہے ۔ اس کے ساتھ 48؍سال کے امنگ سنگھار کو اپوزیشن لیڈر کے طور پر منتخب کیا گیا جس میں کمل ناتھ کا کوئی عمل دخل نہیں ہے ۔ اس کے علاوہ ڈپٹی لیڈر کے طور پر 38؍سال کے ہیمنت کٹارے کو منتخب کیا گیا ہے ۔ جیتو پٹواری او بی سی سے آتے ہیں جبکہ امنگ سنگھارے آدیواسی سماج سے آتے ہیں اور کٹارے کا تعلق برہمن سماج سے ہے ۔ مدھیہ پردیش میں او بی سی 51؍فیصد ہے ۔ بی جے پی نے او بی سی سماج کو سادھے رکھنے کے لیے اس مرتبہ موہن یادو کو وزیر اعلی بنایا ہے جو ایک بڑا فیصلہ ہے جس کا اثر اتر پردیش کی سیاست پر بھی پڑ سکتا ہے ۔اوما بھارتی ، بابو لال گور اور شیو راج سنگھ چوہا ن بھی او بی سی سے ہی آتے ہیں ۔ علاوہ ازیں کانگریس اعلی کمان نے کمل ناتھ کے کاموں کی تعریف کی ہے لیکن کیا عام انتخابات 2024؍میں ان کو کوئی ذمہ داری ملے گی ؟ انھیں لوک سبھا کا ٹکٹ ملے گا یا پھر ان کی پوری طرح سے چھٹی کر دی گئی ہے ۔ پکچر ابھی باقی ہے ۔












