غزہ (ہ س )۔غزہ میں گزشتہ دو برسوں سے جاری جنگ میں سب کچھ تباہ ہو گیا ہے ۔ اس جنگ کے دوران اسرائیلی بربریت سے صرف غزہ کے باشندوں کے گھر اور مکانات ہی تباہ نہیں ہوئے بلکہ اسرائیلی فوج نے اس دوران غزہ کے اسکول اور اسپتالوں کا خاص طور پر نشانہ بنایا اور تباہ و برباد کر دیا ۔اب غزہ کے سب سے بڑے طبی مرکز میں پریشان حال ڈاکٹر اور مریض جلد ہی ایندھن کی کمی کے باعث تاریکی میں ڈوب سکتے ہیں۔ جیسا کہ اسرائیل اپنی فوجی مہم کے دباؤ میں اضافہ کر رہا ہے تو ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ الشفاء اسپتال کے مفلوج ہو جانے کا خدشہ ہے۔ وہاں کے ڈاکٹروں نے بتایا ہے کہ الشفاء کے مریضوں کو انتہائی خطرے کا سامنا ہے۔العربیہ کی رپورٹ کے مطابق غزہ کی وزارتِ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر منیر البورش نے رائٹرز کو بتایا، یہ خطرہ "نہ تو فضائی حملے سے اور نہ ہی میزائل سے ہے بلکہ ایندھن کے داخلے کو روکنے والے محاصرے” سے ہے۔انہوں نے کہا، یہ کمی ہسپتال کو ایک خاموش قبرستان میں تبدیل کر کے اِن کمزور لوگوں کو طبی نگہداشت کے بنیادی حق سے محروم کر رہی ہے۔”اسرائیل کے فضائی حملوں اور مسلسل بمباری نے غزہ کے اسپتالوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔فلسطینیوں اور طبی کارکنان نے اسرائیلی فوج پر اسپتالوں پر حملے کا الزام لگایا ہے جسے وہ مسترد کرتا ہے۔اس کے برعکس اسرائیل حماس پر طبی مراکز سے کارروائی کرنے اور ان کے زیرِ زمین کمانڈ سینٹر چلانے کا الزام لگاتا ہے جس کی حماس تردید کرتی ہے۔طبی نگہداشت، خوراک اور پانی کے ضرورت مند مریض اس کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔ڈبلیو ایچ او نے کہا ہے کہ تنازع شروع ہونے کے بعد سے اب تک صحت کے مراکز پر 600 سے زیادہ حملے ہو چکے ہیں۔ انہوں نے غزہ میں صحت کے شعبے کو "انہدام کا شکار” قرار دیا ہے جسے ایندھن، طبی سامان کی قلت اور بار بار بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کا سامنا ہے۔اقوامِ متحدہ کی ایجنسی کے مطابق غزہ کے 36 جنرل اسپتالوں میں سے صرف نصف جزوی طور پر کام کر رہے ہیں۔الشفاء کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد ابو سلمیہ نے ایک انسانی تباہی سے خبردار کیا کہ ایندھن کے بحران کے باعث ہسپتال کے آپریشنز، پانی صاف کرنے والے پلانٹس اور پانی کی فراہمی کے نظام کو براہِ راست خطرہ لاحق ہے۔انہوں نے اسرائیل پر الزام لگایا کہ وہ غزہ کے اسپتالوں کو ایندھن کی "تھوڑی تھوڑی مقدار” فراہم کر رہا ہے۔ ابو سلمیہ نے کہا کہ انتہائی نگہداشت یونٹ اور آپریٹنگ رومز چند منٹوں کے لیے بھی بجلی کے بغیر نہیں رہ سکتے تو ان کی حفاظت کے لیے الشفاء کا شعبہ ڈائیلاسز بند کر دیا گیا تھا۔انہوں نے کہا، غزہ شہر کے اسپتالوں میں 100 کے قریب قبل از وقت پیدا ہونے والے بچے ہیں جن کی زندگیوں کو شدید خطرہ لاحق ہے۔ابو سلمیہ نے مزید کہا، "آکسیجن اسٹیشن کام کرنا بند کر دیں گے۔ اس کے بغیر ہسپتال اب ہسپتال نہیں رہے گا۔ لیب اور بلڈ بنک بند ہو جائیں گے اور فریج میں موجود خون کے یونٹ خراب ہو جائیں گے۔ اسپتال وہاں موجود لوگوں کے لیے قبرستان بن سکتا ہے۔”












