غزہ (ہ س )غزہ میں اسرائیل کی جانب سے جاری ظلم و بربریت کا سلسلہ گزشتہ دو برسوں سے جاری ہے ۔ اس دوران دو مرتبہ جنگ بندی ہوئی مگر دونوں جانب سے کوئی مستقل حل نہ نکلنے کی وجہ سے لگا تار جنگ کا سلسلہ جاری ہے ۔حالیہ دنوں میں امریکی صدر ٹرمپ کی کوششوں ،قطر اور مصر کی جدو جہد اور ثالثی سے پھر ایک بار جنگ بندی کے امکانات روشن ہوئے ہیں ۔میڈیا رپورٹوں کے مطابق فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے قطر میں ہونے والے مذاکرات میں 10 اسرائیلی یرغمالیوں کی مشروط رہائی پر رضامندی کا اظہار کیا ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق غزہ جنگ بندی کے لیے قطر میں اسرائیل حماس بالواسطہ مذاکرات کے دوران حماس 10 یرغمالیوں کی رہائی کے لیے تیار ہے۔حماس کے رہنما طاہرالنون نے مذاکرات پر پیشرفت کے حوالے سے کہا ہے کہ حملے رْکنے اور بلارکاوٹ امداد کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے 10 یرغمالی رہا کریں گے۔ طاہر النون نے کہا کہ ہم نے غزہ عوام کی حفاظت، نسل کشی رکوانے، امداد کی باعزت فراہمی کے لیے لچک دکھائی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہماری لچک کا مظاہرہ جنگ کے مکمل خاتمے کے لیے ہے اور جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں اسرائیلی فوج کا انخلا یقینی بنایا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ قدم دوسرے مرحلے کے مذاکرات کی راہ ہموار کرے گا۔












