نئی دہلی، 31 مئی : ملک میں تمام شعبے میں مسلمانوں کی کم ہوتی نمائندگی اور بڑھتی پسماندگی پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر سپریم کورٹ کے ایڈووکیٹ فیروز احمد نے کہا کہ مودی حکومت کواگر واقعی پسماندہ مسلمانوں کی فکر ہے تو سچر کمیٹی کی سفارشات کو بعینہ نافذ کرے ۔انہوں نے گزشتہ دنوں آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے پٹنہ میں مشاورتی اجلاس میں صدارتی کلمات ادا کرتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت کے مسلم پسماندہ سے محبت کا کارڈ کھیلنے کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت کو اگر واقعی مسلمانوں کی ترقی اور ان کی تعلیمی پسماندگی دور کرنے کی فکر ہے تو سب سے پہلے سچر کمیٹی کی سفارشات کو جوں کی توں نافذ کرے اور اس کی روشنی جن اقدامات کی سفارش کی گئی ہے اس پر عمل درآمد کرے ۔انہوں نے مشاورت کے حوالے سے کہا کہ مسلم مجلس مشاورت ملی تنظیموں کا وفاق ہے ، اس تنظیم نے ہر اہم موقع پر ملی مسائل کے سلسلہ میں مسلمانوں اور ملی تنظیموں کو متحد اور متحرک و فعال کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔ موجودہ وقت میں ملک میں نفرت کا ماحول ہے ، ایسے میں ہم سب کو آئین کے دائرہ میں رہ کر کام کرنا ہے اور ایسی طاقتوں کو تقویت پہنچانا ہے جو میل و محبت اور قومی یک جہتی کو فروغ دے ، مجھے امید ہے کہ بہار کی یہ میٹینگ اس سلسلہ میں کلیدی رول ادا کرے گی۔ مشاورت کا مقصد مختلف مسلم تنظیموں کو اجتماعی طور پر سوچنے ، بولنے اور ایک مشترکہ کم سے کم پروگرام تک پہنچنے کے لیے ایک مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کرنے کی سمت کام کرنا ہے ۔انہوں نے کہا کہ بہار میں یہ تنظیم کام کر رہی تھی مگر مشاورت کی میٹنگ میں یہ ضرورت محسوس کی گئی کہ تنظیم کو متحرک و فعال بنانے کے لئے بہار میں از سر نو تنظیم کی تشکیل کی جائے ،۔سابق صدر مشاورت نوید حامد صاحب نے مشاورت کی تاریخ کوبیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک وفاقی تنظیم ہے جس میں ملک کی مشہور و معروف تنظیموں اور اہم شخصیات کو شامل کیا جاتا ہے ۔ مشاورت کی کوششوں سے ملت کیلئے کئی اہم کام ہوئے ، دہلی کا انڈیا اسلامک کلچرل سنٹر مشاورت کی کوششوں کی دین ہے ۔ مشاورت کا اہم کام یہ ہے ملک کی آئین کے مطابق اقلیتوں کو دئے اختیارات کے مطابق اقلیتوں کے حقوْ ق کی حفاظت کرنا ہے ۔میٹنگ کی غرض و غایت بیان کرتے ہوئے مشاورت کے جنرل سکریٹری سید تحسین نے کہا کہ ہمارا مقصد تمام لوگوں تک پہنچنا اور تمام مسالک سے رابطہ قائم کرکے مشاورت کے پلیٹ فارم وسیع بنانا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ امارت شرعیہ بہار و اڑیسہ کی شرکت اس کسی اہم پروگرام کی وجہ سے نہیں ہوپائی لیکن امارت شرعیہ نے عشائیہ پر مدعو کرکے اپنے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ اسی کے ساتھ ادارہ شرعیہ کے سربراہ غلام رسول بلیاوی نے بھی عدم شرکت کے باوجود مشاورت کی رکنیت اور تعاون کا یقین دلایا۔واضح رہے کہ اسی ضمن میں مشاورت کی مرکزی ٹیم نے بہار کے سیمانچل کے اضلاع ارریہ، کشن گنج، کٹیہار، پٹنہ، مظفرپور، مغربی چمپارن، مشرقی چمپارن، سیوان، گوپال گنج، دربھنگہ، ویشالی، سپول وغیرہ کا دورہ کیاتھا۔ جس میں مشاورت کے سابق صدر نوید حامد، جنرل سکریٹری سید تحسین احمد، سکریٹری (یوتھ) شمس الضحیٰ اور چودھری رشید تشریف لائے تھے ۔ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر نے مشاورت کے سابق صدر نوید حامد، جنرل سکریٹری سید تحسین احمد سے باہمی مشورے کے بعد ایک ایڈہاک (عبوری) کمیٹی کیلئے ڈاکٹر ابو ذر کمال الدین کو صدر بنایا، اور مولانا ابو الکلام قاسمی شمسی، مولانا علی مدنی، نیر الزماں ارریہ، نشور اجمل،پٹنہ اور تنویر خاں،موتیہاری کو نائبین صدر بنایا گیا۔ محمد شعیب مظفرپور کو جنرل سکریٹری بنایا گیا۔ جبکہ ایڈہاک کمیٹی کی مجلس عاملہ میں مولانا انیس الرحمٰن قاسمی، نائب صدر آل انڈیا ملی کونسل، اختر الایمان ایم ایل اے و صدر آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین، اختر الاسلام شاہین، ایم ایل اے سمستی پور، سید افضل عباس، چیرمین بہار ریاستی شیعہ وقف بورڈ،ڈاکٹر انوارالہدیٰ، سابق سکریٹری جنرل، آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت (بہار چیپٹر)، مسیح الدین نوادہ، انوارالحسن وسطوی حاجی پور، شاہنواز بدر قاسمی سہرسہ، انجینئر خالد نصیر الدین،پٹنہ، محمد شہاب الدین،پٹنہ سابق ایم ایل اے و کاگزار صدر آل انڈیا مومن کانفرنس، شاہ علوی ہل قادری، مظفرپور، ڈاکٹر ساجد خاں، سیتامڑھی، پرویز شمس، کٹیہار، نعیم اختر،انڈین یونین مسلم لیگ، پٹنہ، شاہ انعام الحق مدنی، پورنیہ، مولانا مزمل سلفی، کشن گنج، یاسمین بانو، کتیہار، حامد مسعود، آرہ، دلشاد خاں، کٹیہار، فیاض محسن، پٹنہ، محمد مقیم، گیا، سید شمیم انور، ارریہ، سید حاذق، دربھنگہ،، سید سرور اجمل پٹنہ، کے نام شامل ہیں۔ یہ ایڈہاک کمیٹی چھ ماہ کام کرے ، پھر باضابطہ انتخاب کرایا جائے گا۔ اس موقع پر بہار کے صدر پروفیسر ابوذر کمال الدین نے اپنے عزائم کو پیش کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ایڈہاک کمیٹی کے ممبران پورے بہار کا دورہ کریں گے ، نیز مختلف اضلاع میں میٹینگ کر کے مسلم سماج کو متحد کرنے اور ان میں ہر سطح پر بیداری پیدا کی جائے گی، اس ایڈہاک کمیٹی کی پہلی میٹینگ مظفرپور میں ہوگی، بہار کی ملی،سماجی اور دینی تنظیموں سے اپیل ہے کہ مسلم مجلس مشاورت کی مشن کے حصہ بنیں اور اس تحریک کو آگے بڑھانے میں تعاون کریں۔اس اہم نشست میں محمد تبریز شمس، الکریم یونیورسیٹی، کٹیہار، سلیمان اختر، مظفرپور،قیصر عالم مظفرپور، افتخار الحق، مظفرپور،سید ریاض احمد مظفرپور، شمیم احمد مظفر پور، شہنواز احمد مظفرپور، واعظ الحق حاجی پور،نظر امام حاجی پور، انوارالحسن وسطوی،حاجی پور، عظیم الدین انصاری، قمر اعظم صدیقی، حاجی پور، کلیم احمد کلیم حاجی پور، صلاح الدین،حاجی پور، ڈاکٹر ذاکر حسین، حاجی پور، ڈاکٹر رضوان مدنی، پورنیہ، مظہری، پورنیہ، حامد مسعود، آرہ، محمد عالم قاسمی، پٹنہ۔ سید سہیل احمد، پٹنہ، مختار الحق موتیہاری، جاوید عالم قاسمی، موتیہاری، شاہد جمیل موتیہاری، امیر اللد، موتیہاری، رومان فریدی، موتیہاری، شاہنوار بدر قاسمی، محمد شہاب الدین، سابق ایم ایل اے ، ریاض، کٹیہار، انعام الحق، نائب امیر جمعیت اہلحدیث، کٹیہار، ?د اسلامی، سپول،کعبتہ اللہ، سپول،سید اسمٰعیل خرم، دربھنگہ ناظم جمعیت اہلحدیث، احمد رشید، دربھنگہ، اسیر ہاشمی، دربھنگہ، تجمل الحق، آرہ، امان الحق، بیتیا، راشد اقبال،پٹنہ، سکریٹری انڈین یونین مسلم لیگ، فرہدی موتیہاری، سید صابر حسین، موتیہاری، باری اعظمی، پٹنہ، مسیح الدین، نوادہ، انظار حسین، موتیہاری، ظفر رشیدی، موتیہاری،محمد اصغر، دربھنگہ،انجنئیر خالدنصیر الدین۔پٹنہ، ڈاکٹر محمدقاسم جوہر، عباس، بیگوسرائے ، کلیم عالم خان، قمر ثاقب، پٹنہ، ظفر صادق،پٹنہ، عبد الجبار، موتیہاری، محمد خورشید عالم بھوجپور، عبد الصمد، بیتیا، سید عظمت اللہ۔ بھاگلپور، یاسمین بانو، وغیرہ نے شرکت کی۔












