چند ہفتوں کی اہم سیاسی سرگرمیوں میں اکھلیش یادو کے سیاسی مستقبل پر سوال اٹھایا جانا بھی شامل ہے ۔یوں تو سیاسی مبصرین کی مانیں تو 2024کے عام انتخاب کے نتائج اگر بی جے پی کے حق میں آئے تب ملک کا پورا سیاسی منظر نامہ ہی بدل سکتا ہے اور حزب اختلاف کی مقامی پارٹیوں کے وجود پر ہی سوالیہ نشان لگ جائے کا امکان ہے لیکن اکھلیش یادو کے بارے میں چہ مگوئیاں اس لئے بھی ہو رہی ہیں کہ یکایک ان کے تیور میں نمایاں تبدیلی آئی ہے ۔مدھیہ پردیش اور چھتیس گڈھ میں سماجوادی پارٹی کا کانگریس پارٹی سے الگ انتخاب لڑنا اس بات کا اشارہ ہے کہ جس انڈیا الائنس کے ساتھ پٹنہ بنگلور اور ممبئی میں اکھلیش یادو کو کسی قسم کی دقت نہیں تھی یکایک انہیں کانگریس "چالو "پارٹی کیوں نظر آنے لگی ؟
یقینا بات اسمبلی انتخاب سے آگے کی ہے ۔کیونکہ اکھلیش یادو کو اتنا تو اندازہ ہوگا ہی کہ موجودہ سیاسی منظر نامہ میں علاقائی پارٹیوں کو یا تو بی جے پی کے حصار میں رہنا ہوگا یا پھر اس حصار سے نکل کر کانگریس کے ساتھ انڈیا الائنس میں شامل ہونا ہوگا ۔موجودہ سیاست کا یہ ایسا منظر نامہ ہے جس سے الگ اگر اکھلیش یادو کچھ سوچتے ہیں تو یہ ان کے نا بالغ ہونے کی دلیل ہے یا پھر بی جے پی کا خوف ۔ویسے بھی اکھلیش یادو کا قد اتنا بڑا نہیں ہے کہ وہ ان دونوں محاذ سے الگ اپنا وجود ثابت کرا سکیں ۔
اور ایسی حالت میں تو قطعی نہیں جب یوپی کی تیسری اہم پارٹی بی ایس پی کسی بھی قیمت پر اکھلیش یادو کے ساتھ نہیں جا سکتی ۔اکھلیش یادو کو پتہ نہیں کیوں اس کا بھی ابھی اندازہ نہیں ہوا ہے کہ اس عام انتخاب میں یوپی کے مسلمان جس کا 80فیصد ووٹ سماج وادی پارٹی کو ملتا تھا وہ اس بار بلا شرط کانگریس کی طرف شفٹ ہو رہا ہے ۔مبصرین تو یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ کانگریس کے نئے ریاستی صدر جس طرح یوپی میں زمینی سطح پر کام کر رہے ہیں ،راہل اور پرینکا جس طرح یوپی کے ہر عوامی مدعے پر عوام کےد رمیان کھڑے رہے ہیں وہ چاہے ہاتھرس کا معاملہ ہو ،کسانوں کو کچلنے کا معاملہ ہو ،کورونا کے دوران خدمت کا معاملہ ہو ۔اس میں اکھلیش تو کہیں بھی نظر نہیں آئے لیکن کانگریس کہیں پیچھے نہیں رہی اس سے عام ہندو ووٹر کے اندر بھی کانگریس کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے ۔اور عام انتخاب میں اس کا اثر ضرور دیکھنے کو مل سکتا ہے ۔ابھی چند دنوں کی سرگرمی میں یہ قیاس آرائی بھی ہو رہی ہے کہ اگر سماجوادی پارٹی انڈیا الائنس سے الگ کوئی راہ اختیار کرتی ہے تو پھر مایا وتی کو بھی اس محاذ میں آنے میں کوئی قباحت نہیں ہوگی ۔کیونکہ بہرحال مایا وتی اکھلیش سے زیادہ سنجیدہ سیاستدان ہیں اور وہ جانتی ہیں کہ یوپی میں ان کی پارٹی کا وجود صرف دلتوں کے بل پر نہیں بچایا جا سکتا جس کا بڑا حصہ بی جے پی کی طرف جا چکا ہے ۔بی ایس پی کو بھی مسلمانوں کی ضرورت ہے اور وہ اسی وقت ممکن ہے جب انڈیا الائنس میں بی ایس پی شامل ہو ۔
ایک خاص بات اور ہے اور وہ یہ کہ بھلے ہی کارپوریٹ میڈیا کے ذریعہ نریندر مودی کی مقبولیت کا گراف جس قدر بھی بڑھا کر دکھایا جائے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کی مقبولیت میں بہت کمی آئی ہے ۔گجرات ماڈل کا سحر ٹوٹ چکا ہے ،ترقی کے امکانات چکناچور ہوئے ہیں اور 2019کے مقابلے کانگریس کی مقبولیت میں زبردست اضافہ ہوا ہے ۔لہذا بی جے کو سب سے زیادہ سیٹ دینے والی ریاست اتر پردیش کو سنبھالنا بی جے پی کے لئے نہایت ضروری ہے ۔بی جے پی یہ بھی جانتی ہے کہ یوپی میں کانگریس نہایت کمزور بنیادوں پر کھڑی ہے لیکن جیسے ہی اسے مقامی پارٹیوں کی حمایت حاصل ہوئی وہ پھر کھڑی ہو جائیگی ایسے میں اسے کم ازکم یوپی میں الگ تھلگ کرنا بے حد ضروری ہے ۔اکھلیش یادو اس سلسلے میں بی جے پی کے لئے نہایت آسان ہدف ہے کیونکہ اکھلیش یادو کے پاس نہ تو زمینی سیاست کا تجربہ ہے اور نہ عوامی پسندیدگی ۔ یہی وجہ ہے کہ اکھلیش یادو کو براہ راست نہیں تو بالواسطہ سہی بی جے پی انڈیا الائنس سے الگ کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ایک خبر یہ بھی آ رہی ہے کہ مدھیہ پردیش میں ایک پارٹی میٹنگ میں امت شاہ نے اپنے لیڈروں کو یہ بھی کہا ہے کہ مدھیہ پردیش اور چھتیس گڈھ میں سماجوادی پارٹی کو فائدہ پہنچانے کے اقدام کئے جائیں یہی پارٹی کے مفاد میں ہوگا ۔
امت شاہ کے اس سیاسی پینترے کو بھی ڈی کوڈ کیا جائےتو یہ اندازہ ہوتا ہے کہ اکھلیش یادو بھی کہیں نہ کہیں بی جے پی کے ذریعہ شکار کئے جا چکے ہیں ۔
لیکن اگر اس میں سچائی بھی ہے تو بی جے پی کو کوئی بہت زیادہ خوش نہیں ہونا چاہئے کیونکہ اس عام انتخاب میں بی جے پی کو پورے ملک سے چیلنج ملنے والا ہے ۔












