کانپور ،سماج نیوز سروس : ”اسلام محض چند رسومات کا نام نہیں بلکہ دینِ فطرت اور ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، جو انسان کو خالقِ کائنات کے ساتھ ساتھ مخلوق کے حقوق ادا کرنے اور دنیا میں بسنے والے تمام انسانوں کے ساتھ رواداری، حسنِ سلوک اور اعلیٰ اخلاق کے ساتھ پیش آنے کی تعلیم دیتا ہے۔ نفرت کا جواب کبھی نفرت نہیں ہو سکتا، ہندوستان کے موجودہ حالات میں مسلمانوں کی یہ اولین ذمہ داری ہے کہ وہ اکابرینِ سلف کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے برادرانِ وطن کے سامنے اسلام کا حقیقی، محبت بھرا اور انسانیت نواز خاکہ پیش کریں۔“ ان خیالات کا اظہار جمعیۃ علماء اتر پردیش کے ناظم اعلیٰ مولانا امین الحق عبد اللہ قاسمی نے آج جامع مسجد، اشرف آباد میں نمازِ جمعہ سے قبل عظیم الشان اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مولانا قاسمی نے قرآن و سنت کی روشنی میں اسلام کے آفاقی پیغام کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ محسنِ انسانیت حضرت محمد ﷺ کورحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا گیا۔ آپ ﷺ نے خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر نسلی، خاندانی اور طبقاتی برتری کے تمام بتوں کو پاش پاش کرتے ہوئے یہ اعلان فرمایا کہ تم سب کا رب ایک ہے اور تم سب ایک آدم کی اولاد ہو۔ اسلام نے اقلیتوں اور غیر مسلموں کے حقوق کو اس قدر اہمیت دی ہے کہ پڑوسی کے حقوق میں مسلم یا غیر مسلم کی کوئی تفریق نہیں رکھی۔ آپ ﷺ نے مدینہ منورہ میںمیثاق مدینہ کے ذریعے پرامن بقائے باہمی کی جو شاندار نظیر پیش کی، وہ رہتی دنیا تک انسانیت کے لیے مینارہ نور ہے۔ تاریخی حقائق کا حوالہ دیتے ہوئے ناظم اعلیٰ جمعیۃ علماء یوپی نے کہا کہ ہندوستان میں مسلمانوں نے ہزار سال تک حکومت کی لیکن کبھی مذہب کی بنیاد پر کسی کے ساتھ ناانصافی یا ظلم روا نہیں رکھا۔ اس ملک میں اسلام کسی جبر یا تلوار کے زور پر نہیں پھیلا، بلکہ صدیوں سے ذات پات اور چھوا چھوت کی چکی میں پسنے والے طبقے نے جب مسلمانوں کی مساوات، رواداری اور ایک ہی دسترخوان پر سب کو بٹھانے کا عالمگیر اسلامی نظام دیکھا تو وہ خود بخود اس دینِ حق کی طرف کھنچے چلے آئے۔ مولانا امین الحق عبداللہ قاسمی نے اکابرینِ جمعیۃ کے تاریخ ساز اور ایمان افروز واقعات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے بزرگوں نے اپنے اخلاق سے غیروں کے دل جیتے ہیں۔ امیرِ شریعت حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کا ایک عیسائی خاکروب کو اپنے ساتھ دسترخوان پر بٹھا کر لقمہ کھلانا، شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کا ٹرین کے سفر میں ایک سکھ مسافر کی پریشانی دیکھ کر اپنے ہاتھوں سے بیت الخلاء صاف کرنا، اور قطبِ باندہ حضرت مولانا قاری سید صدیق احمد بانویؒ کا شدید بارش اور کیچڑ میں اپنے شاگردوں کے ذریعے غیر مسلم مہمانوں کی بیل گاڑی کو دھکا لگوا کر ان کی منزل تک پہنچانا؛ یہ وہ زریں روایات ہیں جو بتاتی ہیں کہ دلوں کو فتح کرنے کا راستہ نفرت اور اشتعال سے نہیں بلکہ خدمت اور اخلاق سے ہو کر گزرتا ہے۔ موجودہ ملکی اور سیاسی منظرنامے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مولانا قاسمی نے بالخصوص مسلم نوجوانوں کو تلقین کی کہ وہ چند شرپسند عناصر کی اشتعال انگیزی اور نفرت انگیز سیاست کا شکار نہ ہوں۔












