ہندوستان کا جمہوری نظام دنیا کے ان منفرد اور پیچیدہ سیاسی تجربات میں شمار ہوتا ہے جہاں غیر معمولی لسانی، مذہبی اور ثقافتی تنوع کے باوجود ایک مضبوط آئینی ڈھانچہ قائم کیا گیا۔ یہ نظام نہ صرف دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی نمائندگی کرتا ہے بلکہ اس بات کی دلیل بھی ہے کہ مختلف شناختیں ایک مشترکہ سیاسی فریم ورک میں ہم آہنگی کے ساتھ رہ سکتی ہیں۔ تاہم، حالیہ برسوں میں اس جمہوری نظام کی روح—یعنی ادارہ جاتی توازن، آئینی بالادستی اور سیاسی تنوع—کو درپیش چیلنجز نے سنجیدہ سوالات کو جنم دیا ہے۔ خاص طور پر طاقت کے ارتکاز، خودمختار اداروں پر اثراندازی اور حزبِ اختلاف کو کمزور کرنے کے رجحانات نے اس نظام کی صحت پر گہرا اثر ڈالا ہے۔
ہندوستان کا آئین، جو 26 جنوری 1950 کو نافذ ہوا، ایک ہمہ گیر دستاویز ہے جس نے ملک کو خودمختار، سیکولر اور جمہوریہ قرار دیا۔ اس آئین میں بنیادی حقوق، شہری آزادیوں اور ریاستی ذمہ داریوں کا واضح تعین کیا گیا ہے۔ نظریاتی طور پر یہ آئین ایک ایسے متوازن نظام کی بنیاد رکھتا ہے جہاں ریاست اور شہری کے درمیان تعلق انصاف اور مساوات پر مبنی ہو۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ان اصولوں پر پوری طرح عمل ہو رہا ہے؟ ناقدین کے مطابق، حالیہ برسوں میں آئینی اداروں اور جمہوری روایات کے ساتھ ایسا برتاؤ کیا گیا ہے جو آئین کی روح سے ہم آہنگ نہیں۔ آزادیٔ اظہار پر غیر اعلانیہ دباؤ، اختلافی آوازوں کو محدود کرنے کے حربے، اور قانون کے یکساں اطلاق پر سوالات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ آئینی اصولوں اور عملی سیاست کے درمیان فاصلہ بڑھ رہا ہے۔ مزید یہ کہ بعض قوانین کے اطلاق اور ان کے انتخابی استعمال کے حوالے سے بھی شکوک و شبہات سامنے آئے ہیں، جنہوں نے شہری آزادیوں کے دائرے کو محدود کرنے کی بحث کو تقویت دی ہے۔
ہندوستان کا وفاقی نظام اس کی وحدت میں کثرت کا عملی اظہار ہے۔ آئین کے مطابق مرکز اور ریاستوں کے درمیان اختیارات کی واضح تقسیم موجود ہے، لیکن عملی سطح پر یہ توازن بتدریج مرکز کے حق میں جھکتا دکھائی دیتا ہے۔
گزشتہ برسوں میں مرکز کی جانب سے ریاستی معاملات میں مداخلت، گورنر کے عہدے کا متنازع استعمال، اور مالی وسائل کی غیر مساوی تقسیم جیسے مسائل نے وفاقی ڈھانچے کو متاثر کیا ہے۔ اپوزیشن کے زیر اقتدار ریاستوں کے ساتھ مختلف سلوک کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں، جس سے یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ وفاقی اصولوں کو سیاسی مفادات کے تابع کیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جی ایس ٹی جیسے مالیاتی ڈھانچوں میں ریاستوں کی خودمختاری اور مالی گنجائش کے حوالے سے بھی بحث شدت اختیار کر چکی ہے، جو مرکز و ریاست تعلقات کی نزاکت کو مزید نمایاں کرتی ہے۔
یہ رجحان محض انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ جمہوری روح کے لیے ایک بنیادی چیلنج ہے، کیونکہ وفاقیت کا مقصد ہی طاقت کو تقسیم کر کے توازن قائم رکھنا ہوتا ہے۔
پارلیمان جمہوریت کا سب سے اہم ادارہ ہے، جہاں قانون سازی، بحث و مباحثہ اور حکومتی احتساب ہوتا ہے۔ لیکن حالیہ برسوں میں پارلیمانی عمل کے حوالے سے جو تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں، وہ تشویشناک ہیں۔
اہم قوانین کو محدود بحث کے ساتھ جلد بازی میں منظور کیا جانا، اپوزیشن کی آواز کو نظر انداز کرنا، اور پارلیمانی کمیٹیوں کے کردار میں کمی جیسے رجحانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پارلیمان کا کردار بتدریج کمزور ہو رہا ہے۔ جب قانون سازی محض عددی اکثریت کی بنیاد پر ہونے لگے اور مکالمہ ثانوی حیثیت اختیار کر جائے تو جمہوری عمل اپنی اصل روح کھو دیتا ہے۔ مزید برآں آرڈیننس کے بڑھتے ہوئے استعمال اور اہم بلوں کو سلیکٹ کمیٹیوں کے پاس نہ بھیجنے کی روایت نے بھی قانون سازی کے معیار پر سوالات کھڑے کیے ہیں۔
جمہوری نظام میں خودمختار ادارے—جیسے الیکشن کمیشن، تفتیشی ایجنسیاں، اور آڈیٹر جنرل—شفافیت اور احتساب کی ضمانت ہوتے ہیں۔ لیکن اگر یہی ادارے سیاسی اثر و رسوخ کا شکار ہو جائیں تو پورا نظام عدم توازن کا شکار ہو جاتا ہے۔
گزشتہ ایک دہائی میں بارہا یہ الزام سامنے آیا ہے کہ تفتیشی ایجنسیوں، جیسے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ اور سی بی آئی، کو سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کیا گیا۔ اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف کارروائیوں کی رفتار اور شدت، اور حکومتی شخصیات کے خلاف نسبتاً خاموشی نے ان خدشات کو تقویت دی ہے کہ احتساب کا عمل غیر جانبدار نہیں رہا۔ مزید یہ کہ تقرریوں کے طریقۂ کار میں شفافیت کی کمی اور ادارہ جاتی فیصلوں میں تاخیر نے بھی عوامی اعتماد کو متاثر کیا ہے۔
اسی طرح انتخابی فنڈنگ کے نظام، خصوصاً الیکٹورل بانڈز، کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے، جسے بعض ماہرین نے غیر شفاف قرار دیا۔ اگر انتخابی عمل پر عوامی اعتماد متزلزل ہو جائے تو جمہوریت کی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔
عدلیہ کو آئین کا محافظ تصور کیا جاتا ہے، لیکن حالیہ برسوں میں اس کے کردار پر بھی بحث چھڑی ہے۔ اگرچہ عدلیہ نے بعض اہم فیصلوں میں اپنی آزادی کا مظاہرہ کیا، لیکن کئی حساس معاملات میں تاخیر یا محتاط رویے نے سوالات کو جنم دیا۔
عدالتی تقرریوں کے نظام، مقدمات کے التوا، اور بعض سیاسی نوعیت کے مقدمات میں رویے نے یہ تاثر پیدا کیا ہے کہ عدلیہ بھی دباؤ سے مکمل طور پر آزاد نہیں۔ ایک کمزور یا محتاط عدلیہ جمہوری توازن کو برقرار رکھنے میں مؤثر کردار ادا نہیں کر سکتی۔ اس کے علاوہ زیر التوا مقدمات کی بڑھتی ہوئی تعداد بھی انصاف کی بروقت فراہمی کے اصول سے متصادم دکھائی دیتی ہے۔
جمہوریت میں اپوزیشن کا کردار محض تنقید تک محدود نہیں ہوتا بلکہ وہ حکومتی پالیسیوں کا متبادل پیش کرتی ہے اور اقتدار کے توازن کو برقرار رکھتی ہے۔ لیکن موجودہ سیاسی ماحول میں اپوزیشن کے لیے گنجائش محدود ہوتی دکھائی دیتی ہے۔
اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف قانونی کارروائیاں، گرفتاریوں اور سیاسی دباؤ کے الزامات نے اس تاثر کو مضبوط کیا ہے کہ حزبِ اختلاف کو منظم طور پر کمزور کیا جا رہا ہے۔ اگر اپوزیشن مؤثر نہ رہے تو جمہوریت یک طرفہ ہو جاتی ہے، جو بالآخر آمریت کی نرم شکل اختیار کر سکتی ہے۔ مزید یہ کہ انتخابی اتحادوں کو توڑنے، ارکانِ اسمبلی کی وفاداریاں تبدیل کرانے اور ریاستی حکومتوں کو عدم استحکام سے دوچار کرنے جیسے الزامات نے سیاسی ماحول کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
آزاد میڈیا جمہوریت کا چوتھا ستون ہوتا ہے، لیکن اگر یہی ستون دباؤ یا مفادات کے تحت کمزور ہو جائے تو عوام تک سچائی کی رسائی متاثر ہوتی ہے۔ موجودہ دور میں میڈیا کے ایک بڑے حصے پر حکومتی بیانیے کی تائید کا الزام لگایا جاتا ہے، جبکہ تنقیدی صحافت کے لیے جگہ سکڑتی جا رہی ہے۔
اسی طرح سول سوسائٹی تنظیموں پر بڑھتی ہوئی نگرانی اور پابندیوں نے بھی جمہوری فضا کو متاثر کیا ہے۔ ایک متحرک سول سوسائٹی ہی جمہوریت کو زندہ رکھتی ہے، اور اس کی کمزوری نظام کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔












