نیویارک، (یو این آئی) اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ دنیا تیزی سے تقسیم اور طاقت کے مقابلے کی جانب بڑھ رہی ہے، جس کے باعث بین الاقوامی قانون کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔انھوں نے کہا کہ قانون کی عدم موجودگی میں عدم استحکام اور بداعتمادی فروغ پاتی ہے، جو بالآخر تنازعات کو بے قابو بنا سکتی ہے۔ ان کے مطابق یہ صورت حال دنیا کے ہر خطے پر لاگو ہوتی ہے۔ انتونیو گوتریس نے خاص طور پر مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورت حال پر فوری توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ خطے میں بڑھتی کشیدگی عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔یو این سیکریٹری جنرل نے امریکہ اور ایران کے درمیان ’’سنجیدہ مذاکرات‘‘ دوبارہ شروع کرنے کی اپیل کرتے ہوئے خبردار کیا کہ بین الاقوامی قانون کا احترام ’’پاؤں تلے روندھا جا رہا ہے۔‘‘ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے تناظر میں انھوں نے امریکہ اور ایران کے درمیان فوری اور بامعنی مذاکرات کی بحالی پر زور دیا۔ نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے کہا کہ خطے اور دیگر حصوں میں انسانی اور قانونی ذمہ داریاں نظر انداز کی جا رہی ہیں، جس سے بدامنی، تباہی اور مصائب میں اضافہ ہو رہا ہے۔انھوں نے کہا کہ بین الاقوامی قانون کے احترام کا موضوع ان کے اس ہفتے کے دورہ ہیگ میں قائم عالمی عدالتِ انصاف (ICJ) میں مرکزی حیثیت رکھے گا، جو اپنی 80 ویں سالگرہ منا رہی ہے۔ انتونیو گوتریس نے کہا کہ موجودہ بحران نے پورے خطے میں جانی نقصان اور تباہی پیدا کی ہے، جب کہ آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت متاثر ہوئی ہے جو عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے، خصوصاً ایندھن، کھاد اور گیس کی ترسیل کے لیے۔ انھوں نے بتایا کہ ہزاروں بحری عملے کے افراد سمندر میں پھنسے ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ انصاف اندھا ہوتا ہے، لیکن آج بہت سے لوگ انصاف سے ہی آنکھیں چرا رہے ہیں۔ ان کے مطابق دنیا بھر میں، خصوصاً مشرق وسطیٰ میں، بین الاقوامی قانون کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔انھوں نے زور دیا کہ یہ وقت بین الاقوامی قانون سے پیچھے ہٹنے کا نہیں بلکہ اسے مزید مضبوط کرنے کا ہے۔ ان کے مطابق عالمی ادارہ انصاف عالمی قانونی نظام کا بنیادی ستون ہے اور اس نے 80 برسوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انتونیو گوتریس نے کہا کہ ان کا دورہ صرف سالگرہ کی تقریبات کے لیے نہیں بلکہ یہ واضح پیغام دینے کے لیے ہے کہ اقوام متحدہ امن، انصاف، خودمختاری اور انسانی وقار کے تحفظ کے اصولوں کے ساتھ کھڑی ہے۔انھوں نے کہا کہ بین الاقوامی قانون تمام ریاستوں پر بلا استثنا لاگو ہوتا ہے اور موجودہ دور میں جب دنیا تقسیم اور طاقت کے مقابلے کی طرف بڑھ رہی ہے، اس کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ انھوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ نظام نہ رہا تو عدم استحکام پھیلے گا، بداعتمادی بڑھے گی اور تنازعات بے قابو ہو سکتے ہیں۔












