واشنگٹن(ہ س)۔ایگزیاس میڈیا نے تین ذرائع کے حوالے سے اطلاع دی کہ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو اور فرانس، جرمنی اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ نے پیر کے روز فون پر گفتگو میں اس بات پر اتفاق کیا کہ ایران سے جوہری معاہدہ طے کرنے کے لیے اگست کا آخر ڈی فیکٹو ڈیڈلائن کے طور پر طے کیا جائے۔ایگزیاس کے مطابق اگر اس ڈیڈلائن تک کوئی معاہدہ نہ ہوا تو تینوں یورپی طاقتیں سنیپ بیک” طریقے پر عمل کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں جس کے تحت اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی وہ تمام پابندیاں خود بخود دوبارہ نافذ ہو جائیں گی جو 2015 کے ایران معاہدے کے تحت اٹھائی گئی تھیں۔فرانس کے وزیرِ خارجہ ڑاں نول باروٹ نے منگل کے روز کہا کہ اگر ڈیڈلائن تک جوہری معاہدے پر کوئی ٹھوس پیش رفت نہ ہوئی تو فرانس، برطانیہ اور جرمنی اگست کے آخر تک ایران کے خلاف اقوامِ متحدہ کے سنیپ بیک طریقے کا آغاز کریں گے۔باروٹ نے برسلز میں یورپی یونین کے وزرائے خارجہ سے ملاقات سے قبل نامہ نگاروں کو بتایا، "فرانس اور اس کے شراکت داروں کے پاس ایران کے خلاف ہتھیاروں، بینکوں اور جوہری آلات پر عالمی پابندیاں دوبارہ نافذ کرنے کا جواز ہے جو دس سال قبل اٹھا لی گئی تھیں۔ اگر ایران نے مضبوط، ٹھوس اور قابلِ تصدیق عہد نہ کیا تو ہم اگست کے آخر تک ایسا کریں گے۔ایران نے پیر کو کہا کہ وہ اپنے جوہری پروگرام پر اقوامِ متحدہ کی پابندیوں کے دوبارہ نفاذ پر ردِ عمل ظاہر کرے گا لیکن اس نے یہ وضاحت نہیں کی کہ وہ کیا اقدامات کر سکتا ہے۔












