تہران(ہ س)۔ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے پیر کو امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی جلد بحالی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تہران کو پہلے اس بات کی یقین دہانی چاہیے کہ اس پر دوبارہ حملہ نہیں ہو گا۔ سی بی ایس ایوننگ نیوز کے ساتھ ایک انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تبصروں کے بارے میں عراقچی سے سوال کیا گیا۔ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات اس ہفتے کے اوائل میں دوبارہ شروع ہونے کا امکان ظاہر کیا تھا۔ایرانی وزیرِ خارجہ نے کہا، "مجھے نہیں لگتا کہ مذاکرات اتنی جلدی دوبارہ شروع ہوں گے۔انہوں نے مزید کہا، "مذاکرات میں دوبارہ شمولیت کا فیصلہ کرنے کے لیے ہمیں سب سے پہلے اس بات کو یقینی بنانا ہو گا کہ امریکہ مذاکرات کے دوران ہمیں فوجی حملے میں نشانہ نہیں بنائے گا۔ میرے خیال میں ان تمام باتوں کے پیشِ نظر ہمیں ابھی مزید وقت درکار ہے” حالانکہ "سفارت کاری کے دروازے کبھی بند نہیں ہوں گے۔عراقچی سے اقوامِ متحدہ کے جوہری نگراں ادارے آئی اے ای اے کے سربراہ کے اس جائزے سے متعلق بھی سوال کیا گیا جنہوں نے کہا تھا کہ ایران ممکنہ طور پر چند مہینوں میں افزودہ یورینیم تیار کرنا شروع کر دے گا۔عراقچی نے کہا، "بمباری کر کے افزودگی کی ٹیکنالوجی اور سائنس کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو ہم ذمہ دار ہیں اور اس صنعت میں دوبارہ ترقی کرنے کے لیے ہماری یہ خواہش موجود ہے۔ ہم تیزی سے نقصانات کو درست اور ضائع شدہ وقت پورا کر سکیں گے۔ایرانی وزیر خارجہ نے کہا، ہم نے اس 12 روزہ مسلط کردہ جنگ کے دوران دکھایا اور ثابت کیا کہ ہم اپنے دفاع کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ہم اپنا دفاع کرتے رہیں گے، اگر ہمارے خلاف کوئی جارحیت کی گئی۔ٹرمپ نے پیر کو کہا، ہم ایران کو کوئی پیشکش نہیں کر رہے اور نہ ہی مذاکرات میں شامل ہو رہے ہیں کیونکہ ملک کی جوہری تنصیبات "مکمل طور پر ختم کر دی گئی ہیں۔ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر لکھا، "میں ایران کو اوباما کے برعکس کچھ بھی پیش نہیں کر رہا۔ اور نہ ہی میں ان سے بات کر رہا ہوں کیونکہ ہم نے ان کی جوہری تنصیبات مکمل طور پر ختم کر دی ہیں۔امریکہ اور ایران تہران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کر رہے تھے جب اسرائیل نے ایرانی جوہری مقامات اور فوجی ڈھانچے کو نشانہ بنایا۔ امریکہ نے 21 جون کو تین جوہری مقامات فردو، نطنز اور اصفہان پر بمباری کی۔اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام جوہری بم بنانے کے قریب ہے جب کہ تہران نے کہا ہے کہ یہ پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ایران کے پاس موجود افزودہ یورینیم نظریاتی طور پر نو سے زیادہ جوہری بم بنانے کے لیے کافی ہو گا۔












