نئی دہلی ، پریس ریلیز،ہمارا سماج:راجدھانی کی قدیمی بستی حضرت نظام الدین علاقہ میں واقع کلاں مسجد میں چل رہے جامعہ اسلامیہ اشاعت الاسلام کا سالانہ جلسہ دستار بندی جامعہ کے مہتمم مولانامحمد احمد رحیمی کی زیر صدارت میںمنعقدہوا۔پروگرام کاباقاعدہ آغازحافظ محمدنعمان کی تلاوت قرآن شریف اورنہال کی نعتیہ کلام سے ہوا،بعد ازیںجامعہ کے زیر تعلیم بچوں نے مختلف ثقافتی پروگرام پیش کر کے ناظرین سے دادوتحسین حاصل کی۔اس موقع پرجامعہ کے حفظ قرآن کریم کی سعادت حاصل کرنے والے 16طلبا کی دستاربندی عمل میں آئی اورانہیںمہمانوں کے ہاتھوں تحائف وغیرہ بھی دئے گئے ۔پروگرام کے مہمان خصوصی مولانا قاری محمود الحسن نے پروگرام کی ستائش کی اور منتظمین سمیت حفاظ کرام کو مبارکباد پیش کی ۔ مہمان ذی وقار مفتی محمد افروز عالم قاسمی نے اپنے پرمغز خطاب میں قرآن پاک کی حقانیت کوبیان کرتے ہوئے کہا کہ اس روئے زمین پر قرآن کریم کے علاوہ کوئی ایسی کتاب نہیں جو من و عن محفوظ ہو رب تعالی کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں اپنے کلام سے جوڑے رکھا۔انہوں نے مزید کہاکہ اگر ہم قرآن شریف سے اپنا رشتہ مضبوط کرلیں تو دنیاکی کی کوئی طاقت ہمارا کچھ نہیں بگاڑسکتی ہے۔مہمان اعزازی مصرسے تشریف لائے محمد حامد حسینی نے قرآن کریم کی اہمیت پر گفتگو کی اور یومیہ تلاوت کر نے کی اپیل کی ۔ مولانا محمددائودظفر امینی نے اپنے ناصحانہ کلمات میں کہا کہ عوام کو چاہیے کہ وہ علماسے اپنے آپکو جوڑے رکھے، کیو نکہ علمائے دین ہر حالت میںلوگوں کی رہنمائی کرتے رہتے ہیں ۔نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے مفتی محمد عاقل احمد قاسمی نے مدرسہ کی کارکردگی پر تسلی بخش جملے ارشاد کرتے ہوئے کہاکہ انتظامیہ کو ایسے مکتب کی سرپرستی کیلئے سعادتمندی کی بات ہے،یہاںکاتعلیمی نظام بیحدشاندارہے۔ورلڈپیس ہارمونی کے چیف حاجی محمد شکیل سیفی نے بچوں کو نقد انعام دیکر بچوں کی حوصلہ افزائی کی ۔انہوں نے مزید کہا کہ ملک اور اپنی قوم کے لئے میری جان بھی حاضر ہے۔اس موقع پرمفتی محمد یوسف قاسمی،مولانامفتی محمد ظفر الدین ، مولانا قاری محمدساجدقاسمی،مولانابشیراحمدقاسمی،قاری محمد یاسین، شاکر انصاری، حافظ غفران نقشبندی ودیگر نے بھی اظہا رخیال کیا ۔ تقریب کے روح رواںمولانامحمد اسلم اورمولانا محمد ہاشم نے مسجدومدرسہ کی تاریخ کے حوالے سے بتایا کہ داداجان مولانا حافظ عبدالغفور علیہ الرحمہ نے شاہی کلاں مسجد کو آزادکرایااوروالد محترم مولاناقاری ہارون رحمۃ اللہ علیہ نے مسجد کو آباد کر نے میںبڑی خدمات انجام دی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ1947وطن آزادی کے بعد پہلی بارنمازعصربحسن و خوبی باجماعت اداہوئی،جس میں اطراف کے علاقے کے لوگ موجود تھے ۔قبل ازیںکورڈینیٹرپروگرام ماسٹر زاہد حسین نے مہمانوں کا استقبال کیا اور مولانا قاری فرقان قاسمی کی دعا پرجلسہ اختتام پذیرہوا،جبکہ مولانامحمداحمدرحیمی نے سبھی مہمانوں کا شکریہ ادا کیا،اس دوران کافی تعداد میںلوگوں نے شر کت کی ۔












