کانپور،سابق قاضی شہر کانپور حضرت مولانا محمد متین الحق اسامہ قاسمی نوراللہ مرقدہ کی قائم کردہ صوبہ اتر پردیش کی معروف دینی علمی و تربیتی درسگاہ جامعہ محمودیہ اشرف العلوم جاجمؤ میں شعبان و رمضان کی تعطیل کے بعد آج مورخہ 11شوال المکرم سے داخلہ سمیت دیگر سرگرمیاں شروع ہو گئیں۔ مولانا اسامہ قاسمیؒ کے جانشین و جامعہ کے ناظم مولانا امین الحق عبد اللہ قاسمی نے اس کی اطلاع دیتے ہوئے بتلایا کہ بدعات و رسومات کی تاریکیوں میں سنت و شریعت کا چراغ روشن کرنے کیلئے مفتی اعظم ہند مفتی محمود حسن گنگوہی رحمۃ اللّٰہ علیہ نے احقر کے دادا شیخ الحدیث مولانا محمد مبین الحق قاسمی علیہ الرحمہ کو اشرف آباد جاجمؤ بھیجا تھا، تقریبا 40 سال کے عرصے تک دادا مرحوم جامع مسجد اشرف آباد کے امام و خطیب رہے اور پورے علاقے میں قرآن و سنت کی حقیقی تعلیمات پھیلاتے رہے۔ 1996ء-97ء کے دوران دادا کو فالج کا اٹیک ہوا تو والد ماجد حضرت مولانا محمد متین الحق اسامہ قاسمی علیہ الرحمہ یہاں تشریف لائے اور علاقے کو اسلامی و قرآنی تعلیمات اور سنت نبوی کے نور سے روشن کردیا۔ سال 2003ء میں والد صاحب علیہ الرحمہ نے مفتی محمود حسن گنگوہی علیہ الرحمہ کی یاد میں مفتی ہی صاحب کے خلیفہ حضرت مولانا انوار احمد جامعی رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ جامع مسجد اشرف آباد میں جامعہ ہذا کی بنیاد رکھی۔ بانیانِ ادارہ کے جذبہ صادق، عزم و ہمت، نیک نیتی، اخلاص اور للّٰہیت کی برکت سے مختصر وقت میں جامعہ کا شمار صوبہ یوپی کے مرکزی اداروں میں کیا جانے لگا۔ مولانا عبداللہ قاسمی نے بتلایا کہ جگہ کی تنگی باوجود ہر سال تقریبا 350 سے زائد طلباء دارالاقامہ میں اور 150 سے زائد مقامی طلباء شعبہ تصحیح قرآن، ناظرہ، حفظ اور عربی اول سے ہفتم تک تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ جامعہ کے ماتحت 60 مکاتب مختلف اضلاع میں قائم ہیں جہاں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کی تعداد 1800 سے زائد ہے۔جامعہ کے ناظم مولانا عبداللہ قاسمی نے امسال داخلہ کے خواہشمند تمام جدید و قدیم طلبہ سے گزارش کی ہے کہ دو عدد پاسپورٹ سائز فوٹو اور آدھار کارڈ کے ساتھ کسی سرپرست کی طرف سے سرپرست نامہ اپنے ہمراہ ضرور لائیں اور جلد داخلہ کی کارروائی مکمل کرلیں، تاخیر سے آنے پر جامعہ داخلے سے معذور ہوگا۔












