سید پرویز قیصر
لوکیش راہول انڈین پریمیر لیگ میں پچاس یا اس سے زیادہ نصف سنچریاں بنانے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ دہلی کیپٹلس کی جانب سے کھیلتے ہوئے انہوں نے راجستھان رائلز کے خلاف دہلی کے ارون جیٹلی اسٹیڈیم میں 82منٹ میں 42بالوں پر چوکے اورتین چھکوں کی مدد سے رن بنائے جو انڈین پریمیر لیگ میں ان کا پچاسویں پچاس سے بڑی اننگ تھی۔ وہ انڈین پریمیر لیگ میں پچاس یا اس سے زیادہ مرتبہ پچاس سے بڑی اننگ کھیلنے والے پانچویں بلے باز ہیں۔
اس میچ کے اختتام تک دائیں ہاتھ کے اس بلے باز نے 2013 سے اب تک دہلی کیپٹلس ، پنجاب کنگس، لکھنو سپر جائنٹس، رائل چیلنجرس بنگلورو اور سن رائزرس حیدرآباد کے خلاف جو158 میچ کھیلے ہیں انکی149 اننگوں میں46.04 کی اوسط اور138.70 کے اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ چھ سنچریوں اور44 نصف سنچریوں کی مدد سے یعنی کل پچاس پچاس سے بڑی اسکور کے ساتھ5755 رن بنائے ہیں۔ وہ پانچ مرتبہ اپنا کھاتہ کھولنے میں ناکام رہے ہیں اور انکا سب سے زیادہ اسکور آوٹ ہوئے بغیر152 رن ہے جو انہوں نے دہلی کیپٹلس کی جانب سے دہلی میں25 اپریل2026 کو112 منٹ میں67 بالوں پر سولہ چوکوں اور نو چھکوں کی مدد سے بنایا تھا۔ اس میچ میں انکی ٹیم کو چھ وکٹ سے شکست ہوئی تھی۔
انڈین پریمیر لیگ میں سب سے زیادہ پچاس سے بڑی اننگیں کھیلنے کا ریکارڈ وراٹ کوہلی کے پاس ہے جنہوں نے2008 سے اب تک رائل چیلنجرس بنگلورو کیلئے جو280 میچ کھیلے انکی272 اننگوں میں40.18 کی اوسط اور134.38 کے اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ نو سنچریوں اور67 نصف سنچریوں یعنی کل 76 پچاس سے بڑی اننگوں کی مدد سے9203 رن بنائے ہیں ۔ وہ بارہ مرتبہ اپنا کھاتہ کھولنے میں ناکام رہے ہیں اور ان کا سب سے زیادہ اسکور آوٹ ہوئے بغیر113 رن ہے جو انہوں نے راجستھان ڑائلز کے خلاف جے پور میں6 اپریل2024 کو 94 منٹ میں 72 بالوں پر بارہ چوکوں اور چار چھکوں کی مدد سے بنایا تھا اور اس میچ میں انکی ٹیم چھ وکٹ سے ہارگئی تھی۔ پنجاب کنگس کے خلاف بنگلورو میں18 مئی2016 کو وہ50 بالوں پر12 چوکوں اور آٹھ چھکوں کی مدد سے 113 رن بنانے میں کامیاب رہے تھے لیکن اس مرتبہ وہ آوٹ ہوگئے تھے اور انکی ٹیم ڈکورتھ اینڈ لوئیس قاعدے کے تحت82 رن سے کامیاب ہوئی تھی۔
آسڑیلیا سے تعلق رکھنے والے ڈیوٖڈ وانر انڈین پریمیر لیگ میں دوسرے سب سے زیادہ پچاس سے بڑے اسکور کرنے والے بلے باز ہیں۔ بائیں ہاتھ کے اس بلے باز نے دہلی کیپٹلس اور سن رائزرس حیدرآباد کی جانب سے2009 اور2024 کے درمیان جو184 میچ کھیلے ہیں انکی184 اننگوں میں وہ40.52کی اوسط اور139.77 کے اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ چار سنچریوں اور62 نصف سنچریوں یعنی66 پچاس سے بڑی اننگوں کے ساتھ6565 رن بنانے میں کامیاب رہے تھے۔ وہ گیارہ مرتبہ اپنا کھاتہ کھولنے میں ناکام رہے تھے اور ان کا سب سے زیادہ اسکور126 رن ہے جو انہوں نے سن رائزرس حیدرآباد کی جانب سے کولکاتہ نائیٹ رائیڈرس کے خلاف حیدرآباد میں30 اپریل2017 کو80 منٹ میں59 بالوں پر دس چوکوں اور آٹھ چھکوں کی مدد سے بنایا تھا۔ْاس میچ میں انکی ٹیم48 رن سے فاتح رہی تھی۔
شیکھر دھون نے2008 اور2024 کے درمیان دہلی کیپٹلس، دکن چارجرس ، ممبئی انڈینس، پنجاب کنگس اور سن رائزرس حیدرآباد کی جانب سے جو 222 میچ کھیلے ہیں انکی221 اننگوں میں35.25 کی اوسط اور127.14 کے اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ دو سنچریوں اور51 نصف سنچریوں یعنی کل 53 پچاس سے بڑی اننگوں کی مدد سے6769 رن بنائے ہیں۔ وہ 11 مرتبہ اپنا کھاتہ کھولنے میں ناکام رہے ہیں اور انکا سب سے زیادہ اسکور آوٹ ہوئے بغیر106 رن ہے جو انہوں نے دہلی کیپٹلس کی جانب سے پنجاب کنگس کے خلاف دوبئی میں20 اکتوبر2020 کو61 بالوں پر بارہ چوکوں اور تین چھکوں کی مدد سے بنایا تھا۔ اس میچ میںانکی ٹیم کو پانچ وکٹ سے شکست ہوئی تھی۔
ہندوستان سے تعلق رکھنے والے روہت شرمانے2008 سے اب تک انڈین پریمیر لیگ میں جو ممبئی انڈینس اور دکن چارجرس کی جانب سے279 میچ کھیلے ہیں انکی274 اننگوں میں30.09 کی اوسط اور133.05 کے اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ دو سنچریوں اور49 نصف سنچریوں یعنی کل 51 پچاس سے بڑی اننگوں کی مدد سے7314 رن بنائے ہیں۔ وہ 18 مرتبہ اپنا کھاتہ کھولنے میں ناکام رہے ہیں اور ان کا سب سے زیادہ اسکور آوٹ ہوئے بغیر109 رن ہے جو انہوں نے ممبئی امڈینس کی جانب سے کولکاتہ نائیٹ رائیڈرس کے خلاف 12 مئی2012 کو76 منٹ میں60 بالوں پر بارہ چوکوں اور پانچ چھکوں کی مدد سے بنایا تھا۔ اس میچ میں انکی ٹیم 27 رن سے جیتی تھی۔ وہ انڈین پریمیر لیگ میں سب سے زیادہ پچاس سے بڑی اننگیں کھیلنے میں چوتھے مقام پر ہیں۔












