تہران(ہ س)۔ایران میں آج ہفتے کی صبح اْن 60 فوجی کمانڈروں اور ایٹمی سائنس دانوں کی سرکاری تدفین شروع ہوئی جو ایران اور اسرائیل کے درمیان 12 روزہ جنگ کے دوران اسرائیلی حملوں میں مارے گئے۔سرکاری ٹی وی نے تہران میں منعقدہ جلوس کی تصاویر نشر کیں جن میں ایرانی پرچم اور مقتولین کی تصاویر اٹھائے ہجوم کو دیکھا گیا۔جنازے اور تدفین کا انعقاد ایسے وقت ہو رہا ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا چوتھا روز ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر ایران نے یورینیم کو فوجی مقاصد کے لیے افزودہ کیا تو اس پر دوبارہ حملہ کیا جائے گا۔ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انھوں نے ایرانی رہبر علی خامنہ ای کو "ذلت آمیز موت” سے بچایا، اور کہا کہ وہ جانتے تھے وہ کہاں چھپے ہیں مگر انھوں نے اسرائیل یا امریکی افواج کو ان پر حملے کی اجازت نہیں دی۔اسرائیلی وزیر خارجہ جدعون ساعر کے مطابق اسرائیل نے خطے اور عالمی برادری کو لاحق خطرے کے پیشِ نظر بروقت حملہ کیا۔ ایران نے ایٹمی ہتھیار بنانے کے الزام کو ایک بار پھر مسترد کیا اور امریکی مذاکرات کی پیشکش کو ٹرمپ کے حالیہ بیانات کے بعد رد کر دیا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خامنہ ای سے متعلق ٹرمپ کے بیان کو "ناقابلِ قبول” قرار دیا۔تدفین کی تقریب انقلاب چوک سے لے کر آزادی چوک تک پھیلی ہوئی تھی، جہاں ہزاروں افراد کی شرکت متوقع ہے۔ایرانی وزارت صحت کے مطابق اس جنگ میں اسرائیلی حملوں میں کم از کم 627 شہری مارے گئے، جب کہ ایران کے حملوں سے اسرائیل میں 28 افراد ہلاک ہوئے۔اسرائیل نے 13 جون کو اچانک حملے شروع کیے، جن میں کئی اہم ایرانی فوجی رہنما مارے گئے، جن میں محمد باقری، حسین سلامی، اور امیر علی حاجی زادہ شامل ہیں۔ مرنے والوں میں چار خواتین اور چار بچے بھی شامل تھے۔ایران نے اسرائیلی حملوں کے جواب میں اسرائیل اور قطر میں امریکی اڈوں پر میزائل داغے۔ ایرانی رہبر علی خامنہ ای نے جنگ بندی کے بعد اپنے خطاب میں اسے ایران کی فتح قرار دیا اور امریکا کو خبردار کیا کہ اگر اس نے دوبارہ حملے کیے تو اس کے علاقائی اڈے نشانے پر ہوں گے۔












