منہاج قاسمی
تلنگانہ میں کانگریس کی جیت کا ایک دردناک پہلو یہ بھی ہے کہ چاہے کانگریس ہو یا بی آر ایس اس کا ایک بھی مسلم نمائندہ کامیاب نہیں ہوسکا ۔اور اب تلنگانہ کی سرکار میں کوئی بھی مسلم چہرہ نظر نہیں آئے گا۔
یہ بات ایک طویل عرصہ سے محسوس کی جا رہی ہے کہ رفتہ رفتہ مسلمانوں کی سیاسی قیادت سے پورا ملک خالی ہوتا جا رہا ہے ۔ہندی بیلٹ میں یہ بحران پہلے سے ہی نظر آنے لگا تھا ۔اور اس پر مہر اس وقت لگا جب مودی سرکار کے آتے ہی مسلمانوں کو بی جے پی نے ٹکٹ دینا بند کر دیا تھا ۔لیکن پھر یہ بیماری دوسری سیاسی جماعتوں کو بھی لگنی شروع ہو گئی ۔لیکن اب تلنگانہ کے حالیہ انتخاب میں جو رحجان دیکھنے میں آیا اس نے معاملے کو نہایت نازک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے ۔
واضح ہو کہ تلنگانہ میں کانگریس نے 118 حلقوں میں سے 5 حلقوں سےمسلم امیدوار کو کھڑا کیا تھا لیکن ان میں سے کوئی ایک بھی امیدوار جیت نہیں سکا ۔۔پارٹی نے پرانا شہر کے دو اسمبلی حلقوں چار مینار اور کاروان سے دو مسلم امیدوار میدان میں اتارے تھے۔ نامیلی اور جوبلی ہلز کے علاوہ نظام آباد اربن سے بھی مسلم امیدوار کھڑا کئے تھے لیکن ان پانچوں میں سے کسی کو بھی کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔
دوسری طرف بی آر ایس کی جانب سے اسمبلی انتخابات میں 3 مسلم امیدوار کھڑے ہوئے تھے۔ بودھن اسمبلی حلقہ سے شکیل عامر ، بہادر پورہ سے عنایت علی باقری اور چارمینار سے صلاح الدین لودھی لیکن بی آرایس کے ان تینوں مسلم امیدواروں کو بھی شکست ہوگئی۔یعنی اب تلنگانہ اسمبلی میں کل ہند مجلس اتحادالمسلمین کے 7 ارکان اسمبلی کے علاوہ ایک بھی مسلمان کسی بھی سیاسی جماعت سے منتخب نہیں ہو سکا۔
یہ وہ صورت حال ہے جسے کسی بھی حالت میں اطمینان بخش نہیں کہا جا سکتا ۔کیونکہ اب اسد الدین اویسی کو یہ کہنے کا موقعہ ملیگا کہ تمام قومی پارٹیوں نے مسلمانوں کو سیاسی طور پر حاشیہ پر ڈال دیا ہے ۔اور قومی پارٹیاں یہ کہہ کر مسلمانوں کو ٹکٹ نہیں دینگی کہ ان کے جیتنے کی امید نہیں ہے ۔ایسے میں جس زاویہ سے دیکھیں مسلمانوں کا سیاسی نقصان صاف نظر آتا ہے ۔ملک میں مسلمانوں کی جو دگرگوں حالات ہیں اس میں سیاسی نمائندگی کے بغیر ان کی حالت سدھرنے والی نہیں لیکن سیاسی نمائندگی دھیرے دھیرے ختم ہوتی چلی جارہی ہے جو لمحہ فکریہ ہے۔
ReplyForward |












