چنڈی گڑھ، (یو این آئی) پنجاب کے وزیر اعلی بھگونت مان نے بدھ کو کہا کہ ریاست کے پاس اضافی پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں ہے جو کسی دوسری ریاست کو دیا جا سکے۔مسٹر مان نے یہاں اپنی سرکاری رہائش گاہ پر اپنی صدارت میں منعقدہ کابینہ کی ہنگامی میٹنگ کے بعد ٹویٹ کرکے یہ بات کہی۔ انہوں نے کہا "کسی بھی قیمت پر کسی دوسری ریاست کو پانی کا ایک قطرہ نہیں دیا جائے گا۔ اس سلسلے میں اسمبلی کا مانسون اجلاس بلایا جائے گا۔ خیال رہے کہ بدھ کو سپریم کورٹ کی بنچ نے ستلج یمنا لنک (ایس وائی ایل) نہر کی تعمیر میں تعاون نہ کرنے پر پنجاب حکومت کی سخت سرزنش کی تھی اور کہا تھا کہ اگر اس کا رویہ ایسا ہی رہا تو اسے نوٹس جاری کرنا پڑے گا اور سخت ہدایات جاری کرنے پر ہمیں مجبور ہونا پڑے گا۔ اس کے پیش نظر ریاستی کابینہ کی ایک ہنگامی میٹنگ بلائی گئی جس میں ایس وائی ایل کینال اور اس سلسلے میں سپریم کورٹ کے تبصروں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس کے بعد ریاستی وزیر خزانہ ہرپال سنگھ چیمہ نے صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا موقف واضح ہے ۔ پنجاب دیگر ریاستوں کو اضافی پانی کا ایک قطرہ بھی دینے کی پوزیشن میں نہیں ہے ۔ پنجاب کو خود پانی کے بحران کا سامنا ہے کیونکہ زیر زمین پانی کی سطح تشویشناک حد تک نیچے جا چکی ہے ۔ اس کے کئی علاقے خشک سالی کی زد میں ہیں، جہاں زمین بنجر ہوتی جا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایس وائی ایل مسئلہ اور اس سلسلے میں سپریم کورٹ کے تبصروں کے بارے میں اسمبلی کا اجلاس بلانے پر غور کیا جائے گا۔ اسمبلی اسپیکر کلتار سنگھ سندھوا اس وقت بیرون ملک ہیں۔ریاست میں حکمراں عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے چیف ترجمان مالویندر سنگھ کانگ نے کہا کہ پنجاب میں پانی کی صورتحال اب ویسی نہیں رہی جو 50 سال پہلے تھی۔ پنجاب خود پانی کے مسئلے سے نبرد آزما ہے ۔ حال ہی میں ناردرن ایریا کونسل کے اجلاس میں وزیر اعلیٰ نے یہ بھی کہا تھا کہ پنجاب کے پاس دیگر ریاستوں کو دینے کے لیے اضافی پانی نہیں ہے ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی پنجاب یونٹ کے صدر سنیل جاکھڑ نے کہا کہ پنجاب کے پاس کسی کو دینے کے لیے ایک قطرہ اضافی پانی نہیں ہے ۔ کانگریس کے سینئر لیڈر اور اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر پرتاپ سنگھ باجوہ نے کہا ہے کہ وزیراعلی بھگونت مان کو اس سنگین مسئلہ پر فوری طور پر آل پارٹی میٹنگ بلانی چاہئے ۔ اس معاملے پر اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلایا جائے تاکہ مزید حکمت عملی طے کی جاسکے ۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے گزشتہ بدھ کو ایس وائی ایل نہر کی تعمیر کے لیے اقدامات نہ کرنے پر سخت ریمارکس دیئے تھے ۔ عدالت نے کہا تھا کہ پنجاب کو اس عمل میں تعاون کرنا ہوگا۔ اس نے مرکز کو پنجاب اور ہریانہ کے درمیان اس مسئلہ پر ثالثی جاری رکھنے کی بھی ہدایت دی تھی۔












