بچے انسان کا اپنا مستقبل بھی ہیں اور قوم اور ملک کا مستقبل بھی۔ دنیا میں انسان کے لیے سب سے قیمتی چیز اس کے بچے ہیں۔ انسان اپنی جان دے کر بھی بچے کی جان بچاتا ہے۔ اگر بچہ شدید بیمار ہو جائے تو والدین یہی دعا کرتے ہیں کہ ’’مولا! ہماری جان لے لے مگر ہمارے بچے کی جان بخش دے۔‘‘ یہ ہر انسان کا فطری جذبہ ہے۔ لیکن اس وقت ہمارا معاشرتی نظام اس قدر خراب ہو گیا ہے کہ اکثر بچے اپنے والدین کی خواہشوں پر پورے نہیں اتر رہے ہیں۔ وہ والدین جنھوں نے اپنے خون سے بچے کی پرورش کی، جنھوں نے اپنی محنت سے چار پیسے کما کر بچے کو پالا پوسا، خود بھوکے رہ کر اسے کھلایا، یہاں تک اپنی بیماریوں کو بھی چھپایا اور بچے کے روشن مستقبل کے لیے اپنا حال اور مستقبل تاریک کر لیا وہی والدین عالمِ ضعیفی میں اپنے بچوں کی بے اعتنائی کا شکار ہو رہے ہیں اور یہ مرض وبا کی طرح پھیل رہا ہے۔ صرف گاؤں، دیہات کے ان پڑھ اور غریب والدین ہی نہیں بلکہ شہر کے مالدار اور تعلیم یافتہ گھرانے بھی اس کی زد میں ہیں۔
بچوں سے نافرمانی و بے ادبی کی شکایات ماضی میں اس قدر عام نہیں تھیں۔ آج بھی وہ لوگ موجود ہیں جو اپنے والدین کے سامنے اونچی آواز سے بول بھی نہیں سکتے تھے، جو اپنے اساتذہ کے آگے نہیں چلتے تھے۔ جو اپنے بڑوں کے فیصلوں کے آگے سرِ تسلیم خم کر دیتے تھے۔ لیکن رفتہ رفتہ وہ لوگ رخصت ہو رہے ہیں۔ اب بیشتر ماں باپ کو اپنے بچوں سے نافرمانی و بے ادبی کا شکوہ ہے۔ یہ صورت حال کیوں ہے؟ اس بگاڑ کے عناصر کیا ہیں؟ اور اس کا حل کیا ہے؟
اس صورت حال کی سب سے بڑی ذمہ دار مادہ پرستانہ طرز فکر ہے۔ ہم نے مادیت کو معیارِ ترقی بنا لیا۔ جس کے پاس جس قدر زیادہ دولت ہوگی وہ اسی قدر معزز سمجھا جانے لگا۔ سماج میں اسی کو مناصب و عہدے ملنے لگے۔ مادہ پرستانہ فکر نے ہمارے تعلیمی نظام کو بھی اپنی گرفت میں لے لیا اور تعلیم تجارت بنا دی گئی۔ سرکاری نظامِ تعلیم کے مقابلے پرائیویٹ اور نیم سرکاری اسکول و کالج قائم ہوئے۔ کچھ مخلص لوگوں نے قوم کی فلاح و بہبود کے نام پر ادارے قائم بھی کیے تو وہ بھی کمیٹیوں کی آپسی رسہ کشی کا شکار ہو گئے،اس لیے کہ وہاں بھی وہی مادہ پرست ذہنیت کارفرما تھی۔ جو شخص منیجر بن جاتا وہ یہی چاہتا کہ اس کی جیب گرم ہو خواہ اسکول کا جنازہ نکل جائے۔ میں دیکھتا ہوں کہ آج بیشتر مسلم قومی اداروں کی صورت حال ناگفتہ بہ ہے۔ تعلیم کے پرائیویٹائزیشن کی بدولت سرکاری اسکول کالج ٹھپ ہو گئے۔ اس میں خود سرکار کی پالیسیوں کا بھی دخل رہا۔ پرائمری اسکولوں کے اساتذہ سے تعلیم کے بجائے دوسرے کام زیادہ لیے گئے۔ مادہ پرستی نے رشوت کا دروازہ کھول دیا اور رشوت نے کام چوری میں اضافہ کیا۔ اسکولوں میں مادہ پرست رجحانات کے داخل ہو جانے سے اخلاقیات کا جنازہ نکل گیا جس کے نتیجے میں ایک ایسی نسل ہمارے سامنے ہے جس کے دل و دماغ پر پیسہ چھایا ہوا ہے ۔جس کو والدین بھی بوجھ لگے ہیں۔
بچوں میں اخلاقی بگاڑ کی ذمہ داری ہمارے گھر اور خاندان پر بھی عائد ہوتی ہے۔ یہاں بھی مادہ پرستی نے ہماری ترجیحات بدل کر رکھ دی ہیں۔ ہماری بے تحاشا ضروریات نے ہمیں معاشی حیوان بنا دیا ہے۔ ہم اپنے ہمسایہ کی دیوار سے اونچی دیوار بنانے کے چکر میں اپنے فرائض تربیت بھول بیٹھے ہیں۔ ہمارے پاس اپنے ہی بچوں کے لیے وقت نہیں ہے۔ دنیا کمانے کی ہوس نے ماں اور باپ دونوں کو معاشی مصروفیت میں مبتلا کر دیا ہے۔ دونوں کمانے چلے جاتے ہیں، بچے کو آیا کے سپرد کر دیتے ہیں ۔اب ایسے اسکول بھی کھل گئے ہیں جو دودھ پیتے بچوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ جب آپ اپنے بچوں کے لیے ہی وقت نہیں نکال سکتے تو والدین یا سماج کے لیے کیا نکالیں گے؟ اس پہلو پر والدین کو سوچنا چاہیے۔ جس اولاد کے لیے وہ دن رات ایک کر کے مال کما رہے ہیں ۔ جس کی ضروریات پوری کرنے کے لیے غیر اخلاقی ذرائع آمدنی اختیار کر رہے ہیں،اسی اولاد کی دیکھ بھال کے لیے آپ کے پاس وقت نہیں ہے۔ اس صورت میں آپ اپنے بچوں کے بااخلاق ہونے کی توقع کیوں کر رہے ہیں؟
مادہ پرستی کے اس رجحان کی وجہ سے ہمارے معاشرتی نظام میں ایک تبدیلی یہ آئی کہ ہم انفرادیت پسند ہو گئے۔ میں، میری بیوی اور میرے بچے، بس یہی ہماری دنیا ہو گئی۔ کل ہم نے اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے اپنے والدین کو تنہا چھوڑ دیا تو آج ہم اپنے بچوں سے یہ امید کس بنیاد پر کر رہے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ رہیں اور ہمارے بڑھاپے کا سہارا بنیں؟ بھارت میں لاکھوں ضعیف لوگ چوکیدار بن کر حویلی میں تنہا رہنے پر مجبور ہیں۔ ہزاروں ضعفاء اولڈ ایج ہوم میں پناہ گزینی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ہم چونکہ خاندان سے الگ ہوگئے تو بچوں کی تربیت کا بوجھ بھی صرف ہم پر ہی آگیاہے جسے ہم اپنی معاشی مصروفیات کی بنا پر اٹھانے سے قاصر ہیں۔ پرانے زمانے میں بچہ دادا، دادی، تایا، تائی اور چچا، چچی کے ساتھ رہتا تھا جو اس کی پرورش بھی کرتے، اس کی صحت کا خیال بھی رکھتے اور اسے زندگی کے آداب و اخلاق بھی سکھاتے۔ اپنے اعزا کی آغوش میں پل کر جب وہ جوان ہوتا تو رشتوں کے تقدس کو بھی سمجھتا اور ان کے حقوق کو بھی۔
بچوں کے اس فساد کی ذمہ دار ہماری ترجیحات بھی ہیں۔برائے ضروریات زندگی باپ کی معاشی مصروفیات تو سمجھ میں آتی ہیں،اس لیے کہ پیسہ کمانے کی ذمہ داری باپ کی ہے۔جس گھر میں باپ کے ذرائع آمدنی معقول ہوں تو وہاں ماں کو معاش کمانے کی تگ و دو ماں کونہیں کرنا چاہیے، یہی اس کے اور اس کے بچوں کے لیے مناسب ہے۔لیکن زیادہ آمدنی کے چکر میں دونوں معاشی مصروفیات کا شکار ہیں اور اس طرح گھر کا سکون بھی غارت کر رہے ہیں اور اپنے بچوں کے حقوق ادا نہ کرنے کے بھی مجرم ہیں۔ حالانکہ مسلمانوں میں اس طرح کے خاندانوں کی تعداد دو فیصد سے زیادہ نہیں ہے۔ اٹھانوے فیصد گھرانوں میں ماں کسی نوکری پر گھر سے باہر نہیں جاتی، اس کے باوجود وہ بھی اپنے بچے کے لیے وقت نہیں نکال پاتی۔ اس کی وجہ غفلت و لاپروائی کے ساتھ ساتھ ترجیحات کا شعور نہ ہونا ہے۔ ایسی خواتین چونکہ زیادہ تعلیم یافتہ نہیں ہوتیں اس لیے یہ عذر پیش کر دیتی ہیں کہ ’’ہم پڑھی ہوئی نہیں ہیں‘‘۔ ان کا یہ عذر مناسب نہیں ہے۔ یہ بات تسلیم ہے کہ وہ پڑھی لکھی نہیں ہیں، لیکن وہ اپنے بچوں کا ہوم ورک کرانے کے لیے ان کے پاس بیٹھ تو سکتی ہیں۔ اگر ایسی مائیں بچوں کے اسکول سے آنے اور ان کے کھانے وغیرہ سے فارغ ہونے کے بعد وقتِ متعین پر ہوم ورک کرانے کے لیے بیٹھ جائیں اور اس وقت تک بیٹھی رہیں جب تک کہ بچے اپنا ہوم ورک پورا نہ کر لیں تو بچوں کی تعلیم میں نکھار آ سکتا ہے۔ وہ انھیں ادب سکھاسکتی ہیں۔رشتوں سے محبت کرنے کی تعلیم دے سکتی ہیں،بڑے چھوٹے کے حقوق سے آشنا کرسکتی ہیں۔ وہ ہر ہفتے اسکول جا کر بچوں کی پرنسپل اور کلاس ٹیچر سے اپنے بچوں کی تعلیمی صورت حال دریافت کر لیں تو مزید بہتری کے آثار ہیں۔ مگر میرا مشاہدہ ہے کہ ہماری خواتین اسکول کے بلانے پر بھی کم ہی زحمت اٹھاتی ہیں، یہاں تک کہ پی ٹی ایم (پیرنٹس ٹیچرز میٹنگ) کے لیے بھی ان کے پاس وقت نہیں ہوتا۔ جبکہ یہی خواتین اپنے ہمسائی سے گھنٹوں باتیں کرتی ہیں، موبائل پر ناٹک دیکھنے کے لیے کھانا بھی وقت سے پہلے بنا دیتی ہیں۔ ان کے پاس بازار جانے کے لیے وقت ہے، وہ کوئی شادی نہیں چھوڑتیں، گھنٹوں فون پر باتیں کرتی ہیں، لیکن اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے دس منٹ نہیں ہیں۔
دشواری یہ بھی ہے کہ ہم میں سے بیشتر لوگ (مرد و خواتین) تربیت کے طریقوں سے بھی ناواقف ہیں۔ بچوں کو ادب سکھانے اور ان کی تربیت کرنے کے معاملہ میں مسلم معاشرہ افراط و تفریط کا شکار ہے۔ یا تو والدین اتنے سخت ہیں کہ معصوم بچوں کو سخت جسمانی سزائیں دے دیتے ہیں۔ ہر وقت انھیں خوف میں مبتلا رکھتے ہیں، جس سے بچے ایک وقت خاص عمر تک والدین کی اطاعت کرتے ہیں، لیکن جیسے ہی وہ اس عمر سے گزرجاتے ہیں تو بغاوت پر اتر آتے ہیں۔
تربیت کرنا دنیا کے مشکل ترین کاموں میں سے ایک کام ہے۔ اس میں خود پر بھی قابو کرنا ہوتا ہے۔ جس عمل کا مطالبہ ہم اپنے بچوں سے کر رہے ہیں، وہی عمل ہمیں بھی انجام دینا چاہیے۔ بچوں کو اچھا بنانے کے لیے والدین اور گھر کے بڑوں کو اچھا بننا پڑتا ہے۔ گھر کے بڑے ایک لفظ نہ پڑھیں اور بچہ گھنٹوں پڑھے، آپ ایک وقت کی نماز نہ پڑھیں، بچے سے پانچ وقت کے ساتھ تہجد اور اشراق کا مطالبہ ہو، یہ کیسے ممکن ہے؟ آپ صبح و شام مغلظات سے زبان آلودہ فرمائیں اور بچے کے اندر ملکوتی صفات چاہیں، یہ کیوں کر ممکن ہے؟ اس پہلو سے ہمارے گھرانوں کی صورت حال نہایت تشویشناک ہے۔
بچے کی اصلاح و تربیت کے لیے ضروری ہے کہ آپ خود بچوں کے لیے عملی نمونہ بنیں، آپ اپنے بڑوں کا احترام کریں، اپنے چھوٹوں سے شفقت کا برتاؤ کریں، آپ مطالعہ کریں، آپ نماز کا اہتمام کریں، آپ صفائی پسند بنیں، آپ بازار کی چیزوں سے پرہیز کریں، آپ موبائل کا درست استعمال کریں، تو بچوں سے امید رکھیں کہ وہ آپ کے نقش قدم پر چل کر ایسا ہی کریں گے۔
عملی نمونہ میں یہ بھی شامل ہے کہ آپ قول اور وعدے کے بھی سچے ہوں۔ بچوں سے جو عہد کریں اسے پورا کریں۔ مثال کے طور پر آپ نے کہا کہ چھٹی کے دن فلاں جگہ سیر کے لیے جائیں گے تو ضرور جائیں، الا یہ کہ ایسی مجبوری آ جائے جسے بچے بھی مجبوری سمجھیں۔ آپ نے وعدہ کیا کہ ’’تم امتحان میں اچھے نمبر لاؤ گے تو ہم فلاں چیز انعام میں دیں گے‘‘ تو اچھے نمبر لانے پر اپنا وعدہ پورا کیجیے۔ اس کے برعکس آپ نے کہا کہ ’’اگر تم فیل ہو گئے یا کم نمبر لائے تو ہم سزا کے طور پر تمہارا جیب خرچ بند کر دیں گے یا تمہیں سیر پر نہیں لے جائیں گے‘‘ تو اپنے اس قول پر قائم رہیں۔ بچوں کے رونے، دھونے، چیخنے چلانے سے مت گھبرائیے اور خود سپردگی نہ کیجیے، ورنہ ہر دو صورت میں بچہ آپ پر اعتماد نہیں کرے گا۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچہ آپ کا کہنا نہیں مانتا، آپ اسے سمجھاتے ہیں، اسے سزا بھی دیتے ہیں، لیکن وہ نہیں مانتا۔ وہ روتا ہے، شور مچاتا ہے، کھانا پینا چھوڑ دیتا ہے اور آپ پر ہر طرح سے یہ دباؤ بناتا ہے کہ آپ اس کی بات مان لیں۔ اب یہ آپ کے صبر کا امتحان ہے۔ اگر آپ بچے کی بات مان لیتے ہیں تو آپ امتحان میں ناکام ہو جاتے ہیں، بچہ جیت جاتا ہے۔ اس کی یہ فتح اسے مزید نافرمانیوں پر ابھارتی ہے، پھر وہ صورت حال پیدا ہوتی ہے جس کا ذکر پہلے پیراگراف میں کیا گیا ہے۔اس لیے اگر آپ کا موقف صحیح ہے تو بچے کی سپر نہ ڈالئے ۔جب بچہ آپ کی بات نہیں مان رہا ہے تو آپ بچے کی بات کیوںمان رہے ہیں ؟جب کہ آپ کی بات بچے کے مقابلہ میں درست ہے۔اس صورت حال میں آپ بچے پر اتنی نظرضرور رکھیے کہ وہ اپنے جان کو نقصان نہ پہنچائے ،مثال کے طور پر دیوارسے سر نہ ٹکرائے ،کوئی زہریلی چیز نہ کھالے ،گھر سے نہ بھاگ جائے ،اس نقصان سے بچنے کے لیے آپ بچے کو گھر میں بند کردیں۔اگر وہ ایک دو وقت کھانا پینا چھوڑ دے تو اسے برداشت کیجیے ۔اس لیے ایک دو وقت کا فاقہ جان لیوا نہیں ہے ،یا آپ بھی کھانا پینا چھوڑ دیجیے ۔اس طرح ہوسکتا ہے کہ بچہ سرنڈر کردے۔
بعض لوگ کہتے ہیں کہ سوشل میڈیا اور جدید موبائل فونز نے ہمارے بچوں کو بگاڑ دیا ہے۔ میں اس سے انکار نہیں کرتا کہ سوشل میڈیا پر بے حیائی کے پروگراموں نے نئی نسلوں کو بے حیا بنا دیا ہے، لیکن اس کی روک تھام کے لیے یہ تو ممکن نہیں کہ جدید ٹیکنالوجی کو بازار میں آنے سے روک دیا جائے یا موبائل کے استعمال پر پابندی لگا دی جائے، البتہ اس کے صحیح استعمال پر توجہ دلائی جا سکتی ہے۔بچے کو سوشل میڈیا اور مختلف ایپس کے فوائد پر توجہ دلائیے ۔اس کی تعلیم میں موبائل کو معاون اور ٹیوٹر بنائیے۔
بچے کی تربیت کے لیے ضروری ہے کہ آپ اس کے دوستوں کے انتخاب پر بھی نظر رکھیں ۔سب سے پہلے تو خود گھر کے ماحول اور فضا کو دوستانہ بنائیں ۔اس کے ساتھ ہنسیں ،اخلاقی حدود میں مذاق بھی کریں ،اس کے ساتھ کھیلیں بھی ۔اسی کے ساتھ اس کے دوستوں پر نظر رکھیں ۔پڑھنے والے اور اچھے مارکس لانے والے بچوں سے دوستی کرائیں ۔اس کے دوستوں کو گھر پر بلا کر عزت دیں ۔اس کے اسکول کا انتخاب بھی سوچ سمجھ کر کریں ،بھاری بھرکم فیس اور عالیشان بلڈنگ سے متاثر نہ ہوں ،بلکہ نصاب تعلیم اور نظام تعلیم بھی نظر میں رکھیں ۔
بچے کی تربیت کے لیے ضروری ہے کہ آپ اس کے اوقاتِ کار پر بھی نظر رکھیں۔ یہ دیکھیں کہ وہ اپنا وقت کہاں اور کیسے صرف کر رہا ہے۔ کھیلنے کا وقت الگ ہو، پڑھنے کا وقت الگ ہو اور سونے جاگنے کا ایک نظم ہو۔ بے مقصد وقت گزارنا عموماً بگاڑ کی جڑ بنتا ہے۔ اگر بچہ اپنے اوقات کا پابند بن جائے تو اس کی زندگی میں سنجیدگی اور توازن پیدا ہو جاتا ہے۔
بچے کی تربیت میں یہ بھی ضروری ہے کہ آپ اس کی حوصلہ افزائی کریں۔ اکثر ہم بچوں کی غلطیوں پر تو فوراً ٹوک دیتے ہیں، مگر ان کی خوبیوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ جب بچہ کوئی اچھا کام کرے، اچھی بات کہے یا پڑھائی میں محنت کرے تو اس کی تعریف کیجیے، اس کی پیٹھ تھپتھپائیے۔ اس سے بچے کے اندر اچھا بننے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے اور وہ مزید بہتری کی کوشش کرتا ہے۔
اسی طرح بچوں کو ذمہ داری کا احساس دلانا بھی نہایت ضروری ہے۔ گھر کے چھوٹے موٹے کام ان کے سپرد کیجیے۔ مثلاً اپنی چیزیں خود سنبھالنا، اپنے کمرے کو صاف رکھنا، کسی کام میں ماں باپ کا ہاتھ بٹانا۔ اس سے بچے میں خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے اور وہ زندگی کے عملی تقاضوں کو سمجھنے لگتا ہے۔
بچوں کی تربیت میں ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ ان کے ساتھ بات چیت کا دروازہ کھلا رکھا جائے۔ اگر بچہ کوئی غلطی کر بیٹھے تو فوراً ڈانٹنے کے بجائے اس سے بات کیجیے، اس کی بات سنئے، اس کے ذہن کو سمجھنے کی کوشش کیجیے۔ جب بچے کو یہ اعتماد ہوگا کہ میرے ماں باپ میری بات سنتے ہیں تو وہ اپنی مشکلات اور الجھنیں بھی آپ سے بیان کرے گا، اور یہی چیز اسے غلط راستے پر جانے سے بچا سکتی ہے۔
ہمارے یہاںبچے کی شرارتوں کا ذکر ہوتا ہے، اس کے بگاڑ کا رونا رویا جاتا ہے، ہمارے واعظین و مقررین نوجوانوں کے بگاڑ کا رونا خوب روتے ہیں، لیکن بچوں کی تربیت کومشوروں ،خطابات،خطبات جمعہ اور وعظ کا موضوع نہیں بناتے۔
میرے رفیقو! بچہ آپ کا ہے۔ یہ دنیا میں آپ کا وارث ہے۔ آپ کو اس کی دنیا بھی اچھی بنانی ہے اور آخرت بھی۔یہ کوئی معمولی کام نہیں ہے۔ آپ اپنے جس بچے کی خاطر اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں، خود کی پرواہ نہیں کرتے، اسی بچے کی خاطر آپ کو اچھا بھی بننا چاہیے اور اپنے بچے کی تربیت کے لیے وقت بھی نکالنا چاہیے، اہلِ علم سے مشورے بھی کرنے چاہئیں اور بارگاہِ رب العزت میں دستِ دعا بھی دراز کرنا چاہیے۔












