سرینگر(پریس ریلیز)ضلع پلوامہ کےپنچایت حلقہ ہنی پورہ کے سرپنچ رتن لال پنڈتا نے سپریم کورٹ آف انڈیا کے تاریخ ساز فیصلہ کی ستائش کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ قابل احترام سپریم کورٹ آف انڈیا نے آرٹیکل 370 اور 35 اے پر مودی سرکار کے 5 اگست 2019 کو لیے گئے تاریخی فیصلے کی توثیق کی ہے۔ جموں و کشمیر کے لوگوں کو حکومت ہند کی ان تمام اسکیموں کے فوائد فراہم کیے جا رہے ہیں جن سے وہ پہلے محروم تھے۔ جموں و کشمیر آرٹیکل 370، 35 اے کے خاتمے کے دن سے امن خوشحالی اور ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔رتن لال پنڈتا نے معزز سپریم کورٹ کا شکریہ ادا کیا جس نے جموں و کشمیر کے لوگوں کے ساتھ انصاف کیا۔
وہیں دوسری جانب ا نہوں نے علاقہ کی کشمیری پنڈت برادری کی جانب سے قانون ساز اسمبلی میں۲؍ کشمیری پنڈتوں کی نامزدگی کے لئے مودی حکومت کے فیصلے کو تاریخی اور قابل ستائش قرار دیا ہے دیا ہے۔انہوں نے اپنے بیان میں جموں و کشمیر کےعوام کی جانب سے اس جرآت مندانہ قدم کے لئے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ جناب امت شاہ کا شکریہ ادا کا ۔ انہوں نے ایک بیان میں کہاکہ کشمیری پنڈت برادری نے بہت نقصان اٹھایا ہے اور حکومتوں نے ان کے حقوق کو نظر انداز کیا ہے، لیکن اب تارکین وطن کمیونٹی کو امید ہے کہ مودی حکومت وادی میں ہماری واپسی اور بحالی میں سہولتیں فراہم کریں گی-انہوں نے کہا کہ میرے پنچایت حلقے کو بہت نقصان پہنچا ہے ،یہاں حالیہ دنوں میں پانچ بے گناہ کشمیری پنڈتوں کا قتل کیا گیا اور تمام رہائشی مکانات/مندروں کو شرپسندوں نے آگ لگا دی اور حال ہی میں یوپی کے ایک غرم مقامی مہاجر کارکن مکیش کمار کو بھی مقامی دہشت گردوں نے ہلاک کر دیا تھا۔رتن لال پنڈتا نے مزید بتایا کہ پنچایت حلقہہنی پورہ ضلع پلوامہ اور ضلع بڈگام کا دیہاتی علاقہ ہے، اس لئےہنی پورہ میں ایک پولیس چوکی قائم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ علاقے میں شرپسندوں کی سرگرمیوں کو روکا جا سکے۔رتن لال پنڈتا نے مطالبہ کیا ہے کہ جموں و کشمیر مسلم اکثریتی مرکز کے زیر انتظام علاقہ ہے اور وہاں کے ہندو/کشمیری پنڈتوں کو ملک میں اقلتو ں کی طرح اقلیت کا درجہ دیا جانا چاہے۔












