نئی دہلی ، سماج نیوز سروس: دگ وجئے سنگھ نے بھوج شالہ۔کمال مولیٰ مسجد معاملہ پر مدھیہ پردیش ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد کہا ہے کہ اب یہ معاملہ بالآخر سپریم کورٹ کو طے کرنا ہوگا کہ دھار کے متنازع کمپلیکس میں پوجا اور نماز کی اجازت ہوگی یا نہیں۔ واضح رہے کہ مدھیہ پردیش ہائیکورٹ کی اندور بینچ نے اپنے فیصلے میں بھوج شالہ کمپلیکس کو دیوی سرسوتی کا مندر قرار دیتے ہوئے 7 اپریل 2003 کے آثارِ قدیمہ سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کے اُس حکم کو بھی منسوخ کر دیا، جس کے تحت مسلمانوں کو ہر جمعہ یہاں نماز ادا کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔فیصلہ سامنے آنے کے بعد مسلم فریق نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرے گا، جبکہ ہندو فریق کی جانب سے سپریم کورٹ میں کیویٹ بھی داخل کر دی گئی ہے تاکہ کسی بھی اپیل پر ان کی بات سنے بغیر کوئی حکم جاری نہ کیا جائے۔ اندور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دگ وجئے سنگھ نے کہا کہ بھوج شالہ ایک اے ایس آئی محفوظ یادگار ہے، اس لیے ہائی کورٹ کے فیصلے کا تفصیلی مطالعہ کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ متنازع مذہبی مقامات سے متعلق قوانین اور ضابطوں کی پابندی ضروری ہے، کیونکہ گیان واپی مسجد، شاہی جامع مسجد سنبھل اور کرشن جنم بھومی۔شاہی عیدگاہ جیسے معاملات پہلے ہی سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہیں۔












