واشنگٹن (ہ س)۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز کہا ہے کہ ایران نے نہ تو اپنے جوہری مقامات کی تفتیش کی اجازت دی ہے اور نہ یورینیم کی افزودگی سے دست بردار ہونے پر آمادگی ظاہر کی۔صدر ٹرمپ نے ایئرفورس ون طیارے میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وضاحت کی کہ ان کے خیال میں ایران کے جوہری پروگرام کو مستقل نقصان پہنچ چکا ہے، اگرچہ ممکن ہے کہ تہران کسی اور مقام پر اسے دوبارہ شروع کرے۔انھوں نے مزید کہا کہ وہ پیر کے روز اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کے وائٹ ہاؤس کے دورے کے موقع پر ایران کے مسئلے پر بات کریں گے۔صدر ٹرمپ نے جمعرات کے روز یہ بھی اشارہ دیا تھا کہ ایران امریکہ سے بات چیت کا خواہاں ہے، اور "اگر ضرورت ہوئی” تو وہ اس کے نمائندوں سے ملاقات کے لیے تیار ہیں۔صدر نے ریاست آئیووا میں ایک انتخابی جلسے کے لیے روانگی سے قبل اینڈروز ایئر بیس پر صحافیوں سے کہا ایران بات کرنا چاہتا ہے، اور میرا خیال ہے کہ وہ مجھ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ یہ بات چیت ہو۔”انھوں نے مزید کہا "ہم انھیں نقصان پہنچانا نہیں چاہتے، بلکہ صرف یہ موقع دینا چاہتے ہیں کہ وہ ایک باقاعدہ ریاست بن سکیں۔ایران اور امریکہ کے درمیان جاری بات چیت سے با خبر دو ذرائع نے بتایا کہ وائٹ ہاؤس کے امریکی ایلچی، اسٹیو ویٹکوف، آئندہ ہفتے ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ملاقات کا مقصد جوہری مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنا ہے، یہ بات امریکی ویب سائٹ "axios” نے بتائی۔ذرائع کے مطابق، اس ملاقات کی تاریخ ابھی حتمی طور پر طے نہیں ہوئی، اور نہ تہران یا واشنگٹن نے اس اجلاس کا با ضابطہ اعلان کیا ہے۔ویب سائٹ کے مطابق دونوں ذرائع نے تصدیق کی کہ ویٹکوف اور عراقچی کے درمیان براہِ راست رابطہ موجود ہے، جو ایران اور اسرائیل کے درمیان 12 روزہ جنگ کے اختتام پر امریکہ کے ذریعے جنگ بندی کے بعد سے بحال ہوا ہے۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ عمان اور قطر کے حکام ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔یاد رہے کہ امریکہ اور ایران نے گزشتہ اپریل سے پانچ بالواسطہ مذاکراتی دور منعقد کیے تھے جو سلطنت عمان کی ثالثی سے مسقط اور روم میں ہوئے۔ ان کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام پر ایک نیا سفارتی حل تلاش کرنا تھا۔ تاہم 22 جون کو اسرائیل کی جانب سے ایرانی جوہری اور فوجی مقامات پر حملوں کے بعد، جن میں کئی فوجی کمانڈروں اور جوہری سائنس دانوں کو ہدف بنایا گیا، ایران نے وسیع میزائل حملوں سے جواب دیا۔ اس طرح دونوں ممالک کے درمیان 12 روزہ جنگ چھڑ گئی، جس کے بعد امریکی صدر نے اچانک جنگ بندی کا اعلان کر دیا۔












