افسر علی نعیمی ندوی
بیدر، 6؍دسمبر، سماج نیوز سروس: کرناٹک کے ضلع بیجاپور کا مشہور و معروف ادارہ مدرسہ بیت العلوم جو کہ شہر سندگی میں واقع ہے، اس کا 25؍واں عظیم الشان اجلاس منعقد کیا گیا، جس میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے ناظم ندوۃ العلماء لکھنو، سیکرٹری مسلم پرسنل لا بورڈ و صدر آل انڈیا پیام انسانیت حضرت مولانا سید بلال عبدالحی حسنی ندوی دامت برکاتہم اور مدرسہ ضیاء العلوم رائے بریلی کے نائب مہتمم مفسر قرآن حضرت مولانا عبدالسبحان صاحب ناخدا ندوی دامت برکاتہم تشریف لائے تھے، ان کے علاوہ مدرسے کے اولین اساتذہ جن میں مولانا سید نور صاحب ملی ندوی، مولانا یونس صاحب ندوی، مولانا لیاقت صاحب ندوی اور دیگر حضرات اساتذہ کرام نے بھی شرکت کی۔پہلے دن کا اجلاس خالص ابنائے قدیم بیت العلوم سندگی اور دیگر علماء و حفاظ کے لیے منعقد کیا گیا تھا، جس میں تین نشستیں رکھی گئی تھیں،پہلی نشست صبح 10 بجے شروع ہو کر دو بجے اختتام کو پہنچی، جس میں مولانا ایوب صاحب ندوی کلکیری نے اجلاس کے مقاصد و روداد مدرسہ پر روشنی ڈالی، جبکہ مولانا داؤد صاحب ندوی نے پیام انسانیت کا تعارف پیش کیا اور مہمان خصوصی مولانا عبدالسبحان صاحب ناخدا ندوی نے ”مدارس کا قیام اور طالبان مدارس کی ذمہ داری ”عنوان پر قرآن کی روشنی میں پرمغز خطاب کیا۔ آپ نے کہاکہ معرفت کا نتیجہ خوف خدا کے ذریعہ ظاہر ہو۔ علم اخلاق واتباع سنت کی وجہ سے پھلتا پھولتا ہے۔ بندگان خدا کے ساتھ احسان کیجئے۔ امانت داری کی زندگی گزارئیے۔ علم صرف معلومات کی حدتک نہ رہے۔ قلوب شناسی پیدا کیجئے۔اخیر میں صدر جلسہ مولانا بلال عبدالحی حسنی ندوی صاحب نے صدارتی کلمات پیش کئے۔ آپ نے کہاکہ ہماری ذمہ داری اسلام کی حفاظت کرنا ہے اگر ہر عالم چراغ علم کو روشن کردے تو ظاہرہے اس کے اس چراغ علم سے دوسرے بھی روشن ہونگے۔ ہمیں قربانی کے ساتھ کام کرنا ہوگا ۔مدارس مقصود نہیں ذریعہ ہیں ،اللہ کی رضا مقصود ہے۔ دوسری نشست میں طلبائے بیت العلوم نے مہمانوں کی خدمت میں استقبالیہ پیش کیا اور اسی مجلس میں ان کے لیے عصرانے کا بھی انتظام کیا گیا۔ اسی طرح بعد مغرب تیسری نشست منعقد کی گئی، اس میں مولانا عبدالحق صاحب نے مدرسہ ہذا میں قائم کیا گیا شعبہ انگریزی کا مکمل تعارف کرایا اور اس شعبے سے منسلک فارغین مدارس نے اپنا پریزنٹیشن (presentation) دکھایا۔اسی طرح مولانا عبدالحق صاحب نے عربی زبان کی تعلیم و تعلم کے طریقہ کارپر بھی مفصل روشنی ڈالی۔ مولانا جنید فاروقی صاحب پیام انسانیت اور اس کی اہم کارگزاریوں پر روشنی ڈالی،اس کے بعد مہمان خصوصی مولانا عبدالسبحان صاحب ناخدا ندوی نے ”ارتداد کے اسباب اور قرآن کی روشنی میں اس کا حل” اس عنوان پر قران و حدیث کی روشنی میں مدلل گفتگو فرمائی اپنے خطاب میں فرمایا یہود کامرض جان کر انجان بننا تھا،نصاری کا مرض جہالت تھی، وہ جاننا ہی نہیں چاہتے تھے جتنے بھی گمراہ فرقے ہوئے ہیں وہ پورا علم نہیں جانتے تھے۔ ہم جو علم حاصل کریں اس کا مقصد معرفت الہی ہو ۔منعم علیھم کے راستے پر رہنا ہماری کامیابی کا ذریعہ ہے۔ ہمیں صحیح دین وراستہ کا حامل بننا ہے ۔ دوسرے دن ساڑھے نو بجے سے لیکر 11 بجے تک علماء کی آخری نشست منعقد کی گئی، جس میں مولانا عبدالسبحان صاحب نے ” فرقہ باطلہ قرآن کی روشنی” میں اس عنوان پر علمی گفتگو فرماتے ہوئے یہود و نصاری کی گمراہیوں پر روشنی ڈالی،پھر موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے لیے ان میں کیاعبرتیں ہیں اور مسلمان اللہ کی ناراضگی سے کیسے بچ سکتے ہیں،اس پر تفصیل سے روشنی ڈالی، واضح رہے کہ مولانا کے اپنے اس خطاب میں دعوتی رنگ کا غلبہ تھا، اس اجلاس میں 300 علماء شریک رہے۔ آخری اور بڑی نشست علماء اور عوام کے لیے منعقد کی گئی جو 11 بجے سے لے کر تقریبا ڈھائی بجے تک چلتی رہی، جس میں 11 سے لے کر 12 بجے تک طلباء کا ثقافتی پروگرام منعقد کیا گیا، اس کے بعد مدرسہ کے مہتمم مولانا عرفان صاحب قاسمی نے ابناء قدیم اور فارغین مدرسہ بیت العلوم کی دستار بندی کی تفصیلات بیان کی، جس میں ابناء بیت العلوم کی دستاربندی اور ان کی گروپ کی شکل میں تصویر کشی کی گئی۔ یاد رہے کہ ان 25 سالوں میں بیت العلوم کے 120 طلباء نے عالم اسلام کے مشہور و معروف ادارہ دارالعلوم ندوۃ العلماء سے عا لمیت کی سند حاصل کی۔ اسی طرح 22طلباء نے افتاء کا کورس مکمل کیا اور 95 طلبہ نے حفظ قرآن پاک کی تکمیل کی، اس کے علاوہ دیگر طلباء نے بیت العلوم سندگی میں ابتدائی تعلیم کے بعد دارالعلوم دیوبند، بنگلور،مہاراشٹرا ور گجرات کے دیگر بڑے مدارس سے فراغت حاصل کی،اسی طرح شعبہ انگریزی سے 42 طلبہ فارغ ہو کر انگریزی زبان میں مہارت تامہ حاصل کر چکے ہیں۔












