عامر سلیم خان
نئی دہلی 9؍ دسمبر، سماج نیوز سروس: بڑے بزرگوں کاکہنا ہے کہ اپنے موجودہ سربراہ کے بارے میں بدگمان نہیں ہوناچاہئے کیونکہ اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ آنے والا قائد آپ کی خواہشات کے اور زیادہ برعکس ثابت ہو۔ سابق وزیر اقلیت مختار عباس نقوی اور موجودہ اسمرتی ایرانی پر بزرگوں کی وہ کہاوت بالکل صحیح ثابت ہورہی ہے۔ جب سے محترمہ اسمرتی ایرانی نے وزارت اقلیت کافریضہ سنبھالا ہے اقلیتوں کی مراعات پرپے بہ پے حملے ہورہے ہیں۔ پہلے اقلیتی طلبہ و طالبات کے پری میٹرک وظائف کو بند کیا گیا اور اب ریسرچ اسکالرز کو دیا جانیوالا فیلوشپ ختم کرنے کااعلان کردیا گیاہے۔ کل پارلیمنٹ میں محترمہ اسمرتی ایرانی نے وظائف ختم کرنے کا مذکورہ اعلان کرتے ہوئے توجیہ پیش کی کہ یہ فیصلہ اس لئے لیا گیا کیونکہ مولانا آزاد نیشنل فیلوشپکئی دیگر اسکیموں کے ساتھ اوور لیپ کر رہا تھا۔حالانکہ سچائی یہ ہے کہ بہت سے اقلیتی طبقات کی بے ضابطگیوں کو روکنے کی ضرورت تھی۔
یہاں یہ بتادیں کہ حج امور میں بھی وزیر موصوفہ اسمرتی ایرانی اسی طرح کے غیر دانشمندانہ فیصلے کررہی ہیں۔ حاجیوں کی سہولت کیلئے بھیجے جانیوالے اہلکاروں کا معاملہ لوگوںکے سامنے ہے جو انہوں نے روکنے کے اشارے دیئے ہیں۔ حج امور سے جڑے اہلکار خدشات میں مبتلا ہیں کہ جب وزیر موصوفہ کو حج امور کا زیادہ علم نہیں تو انہیں فیصلے سے قبل غور کرنا چاہئے۔ بہرحال اب مرکزی سرکار نے تعلیمی سال یعنی 2022-23سے اقلیتی طلبہ کیلئے مولانا آزاد نیشنل فیلوشپ کو بند کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ یہ فیلو شپ یو پی اے سرکار کے دوران سچر کمیٹی کی سفارشات لاگو کرنے کیلئے شروع کی گئی تھی۔ایرانی نے کہاکہ چونکہ ایم اے این ایف اسکیم کئی دیگر فیلوشپ اسکیموں کے ساتھ اوورلیپ ہے اور اقلیتی طلبہ پہلے ہی اس طرح کی اسکیموں کے تحت آتے ہیں، اس لئے سرکار نے 2022-23 سے اس اسکیم کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
محترمہ اسمرتی ایرانی نے کہا کہ یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق جو اس اسکیم کو نافذکرتاہے، 2014-15 اور 2021-22 کے درمیان تقریباً 6,722 امیدواروں کا انتخاب کیا گیاجس کے تحت 738.85 کروڑ روپے کی فیلو شپ تقسیم کی گئیں۔اس سے قبل جولائی کے مہینے میں ایک رپورٹ میں بتایاگیا تھا کہ ریسرچ اسکالرز کو فیلو شپ ملنے میں کئی ماہ کی تاخیر ہوئی تھی۔ اسی مہینے میں ایرانی نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ 20-2019 سے مرکزی وزارت اقلیتی امور کی طرف سے شروع کی گئی زیادہ تر اسکیموں کے تحت فائدہ اٹھانے والوں کی تعداد میں کمی آئی ہے۔ کل ایرانی نے کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ٹی این پرتھاپن کے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ مولانا آزاد فیلوشپ کے علاوہ اس طرح کی تمام اسکیمیں اقلیتوں سمیت تمام طبقات کے امیدواروں کیلئے کھلی ہیں، لیکن اقلیتی طلبہ کو ملنے والی فیلوشپ کی تفصیلات صرف ایم اے این ایف کے تحت لی جاتی ہیں۔
مسٹر پرتھاپن نے کہا کہ وہ پارلیمنٹ میں ایم اے ایف کو روکنے کا معاملہ اٹھائیں گے کیونکہ یہ اقلیتی طبقہ پرظلم ہے۔بتادیں کہ گزشتہ ماہ سرکارنے ایک آرڈر میں کہا تھا کہ اب سے پہلی سے آٹھویں جماعت تک اقلیتوں کو پری میٹرک اسکالرشپ نہیں دی جائیگی۔ تعلیم کے حق کے قانون کا حوالہ دیتے ہوئے مرکزی سرکار نے ایک نوٹس میں کہا تھا کہ وہ اس قانون کے تحت پہلی سے آٹھویں جماعت تک کے طلبہ کو لازمی تعلیم مفت فراہم کر رہی ہے۔تاہم مختلف اپوزیشن جماعتوں اور اقلیتی تنظیموں نے اس کی مخالفت کی۔کانگریس رکن پارلیمنٹ رندیپ سنگھ سرجیوالا نے کہاکہ پچھلے آٹھ سالوں سے بی جے پی سرکار پسماندہ لوگوں کے حقوق پر مسلسل حملہ کررہی ہے، خواہ وہ ایس سی ایس ٹی اوبی سی اوراقلیتوں کے بجٹ میں کمی ہو، ہم اس کیخلاف احتجاج کرینگے۔بی ایس پی لیڈر کنور دانش علی نے کہا تھا کہ سرکار نے اقلیتی طلبہ کے وظائف پر پابندی لگا کر غریب بچوں کو تعلیم سے دور رکھنے کا نیا طریقہ ڈھونڈ لیا ہے۔ علاوہ ازیںمسلم پرسنل لا بورڈاور جمعیۃ علماء ہند نے بھی اسکالرشپ روکنے کے فیصلے پر سخت تشویش کا اظہار کیا تھا۔












