ممبئی (یو این ائی)نائب صدرجمہوریہ جگدیپ دھنکھڑ نے آج کہا کہ ووکست بھارت 2047 کا تصور صرف ایک مقصد نہیں بلکہ یہ ایک مقدس مشن ہے ۔ اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ یہ صدی بھارت کی صدی ہے ، انہوں نے ‘‘ہر شہری، ہر ادارے اور معاشرے کے ہر شعبے ’’ سے اپیل کی کہ وہ اس میں اپنا بھرپورتعاون پیش کریں۔آج ممبئی میں این ایم آئی ایم ایس کے طلباء اور اساتذہ سے خطاب کرتے ہوئے ، نائب صدر جمہوریہ نے اس بات پر زور دیا کہ مثبت حکمرانی کے اقدامات کے نتیجے میں، کاروباری ایکو سسٹم میں بڑی تبدیلی آئی ہے اور ہندوستان کو اب سرمایہ کاری اور مواقع کے پسندیدہ مقام کے طور پر دیکھا جاتا ہے ۔نائب صدرجمہوریہ نے کبھی کبھار چیلنجوں کے باوجود لچک اور ترقی پر زور دیتے ہوئے ہندوستان کے سیاسی سفر کا موازنہ راکٹ کی چڑھائی سے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح ایئر پاکٹس پرواز کی رفتار یا منزل کو متاثر نہیں کرتی ہیں، اسی طرح ہندوستان کے سیاسی چیلنجوں نے اس کے عروج میں رکاوٹ نہیں ڈالی ہے ۔ ملک کی اہم پیشرفت پر روشنی ڈالتے ہوئے ، جناب دھنکھڑ نے اس سفر کو شروع کرنے کے لیے ایک دہائی قبل درکار بے پناہ کوششوں پر زور دیا اور کہا کہ‘‘مجھ پر اعتماد کریں، اگلے پانچ سالوں میں ہندوستان کا عروج اس طرح نظر آئے گا جیسے یہ کسی راکٹ کی کشش ثقل کی طاقت سے آگے بڑھ رہا ہے ۔’’ملک کی ترقی کو نیچا دکھانے اور داغدار کرنے کی مذموم سازشوں کے ساتھ ناپاک طاقتوں کی موجودگی کو اجاگر کرتے ہوئے ، نائب صدر نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اس منفی بیانیے کا سرگرم طور پر مقابلہ کریں جس کا مقصد ہندوستان کے اداروں اور ترقی کی رفتار کو داغدار کرنا ہے ۔دفعہ 370 کی منسوخی کے بارے میں بات کرتے ہوئے ، نائب صدرجمہوریہ نے 1963 میں پارلیمانی بحث کا حوالہ دیا جس میں اس وقت کے وزیر اعظم نے کہا تھا کہ دفعہ 370 عارضی نوعیت کا حامل ہے اور زور دے کر کہا تھا کہ یہ وقت کے ساتھ ساتھ ختم ہو جائے گا۔ 2019 میں دفعہ 370 کو منسوخ کرنے کے لیے ان کی فیصلہ کن کارروائی کے لیے اراکین پارلیمنٹ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے نائب صدرجمہوریہ نے کہا کہ اگر ڈاکٹر امبیڈکر دفعہ 370 کا مسودہ تیار کرتے یا سردار پٹیل آزادی کے بعد جموں و کشمیر کے الحاق کے انچارج ہوتے تو نتائج بالکل مختلف ہوتے ۔اپنے خطاب میں نائب صدر جمہوریہ نے ہندوستان کے نامور تعلیمی اداروں جیسے نالندہ، تکشیلا، وکرم شیلا اور ولبھی کی شاندار تاریخ پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان قدیم یونیورسٹیوں نے ہندوستان کو علم کا پاور ہاؤس بنایا، جس سے اس کی سفارتی سافٹ پاورمیں نمایاں اضافہ ہوا اور تجارتی سمتوں کو تشکیل دیا جاسکا۔ انہوں نے سیکھنے کے ان تاریخی مراکز کی وراثت سے اخذ کردہ قومی ترقی اور بااختیار بنانے میں اعلیٰ تعلیم کی اہم مطابقت پر بھی زور دیا۔












